Sunday, September 5, 2010

کراچی اہدافی قتل: پس منظر اورمحرکات

کراچی اہدافی قتل: پس منظر اورمحرکات



کراچی اہدافی قتل: پس منظر اورمحرکات

جمہوریت کو پابند سلاسل کرنے کے نئے حربے

عامر حسینی

گزشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے کارکنان کے اجلاس عام سے جو خطاب کیا اس سے سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا۔ اس خطاب میں الطاف حسین نے جرنیلوں سے کہا کہ وہ ماضی میں اپنے اقتدار کے لیے مارشل لاءلگاتے رہے لیکن اس مرتبہ دیانت دار جرنیلوں کو جاگیرداری اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مارشل لاء لگانا چاہیے اور اگر دیانت دار جرنیل ایسا کرتے ہیں تو ایم کیو ایم ان کی حمایت کرے گی۔ الطاف حسین کے اس خطاب نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سب کو حیران کردیا۔ ان کے اس بیان پر وزیراعظم مخدوم یوسف رضاگیلانی نے ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ الطاف حسین کے بیان سے فوج کا وقار مجروح ہوا ہے۔ مذکورہ بیان پر سب سے شدید ردعمل مسلم لیگ (نواز) کی طرف سے سامنے آیا۔ مسلم لیگ (نواز) نے قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی کے پاس متحدہ کے قائد الطاف حسین کے خلاف دو تحاریک التواءجمع کرائیں تو جواب میں متحدہ قومی موومنٹ نے بھی میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی کے فوج سے مبینہ رابطوں اور معاہدوں کے خلاف تحاریک جمع کرا دیں۔ الطاف حسین نے یہ بیان کیوں دیا جبکہ وہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ موجودہ جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس کے خلاف تقاریر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن حالات وواقعات پر نظر رکھنے والے ماہرین اسے کراچی میں جاری کنٹرول کی جنگ سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی، جو کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بہت عرصہ بعد متحدہ قومی موومنٹ کے مکمل کنٹرول میں آیا تھا، اب متحدہ اس کنٹرول کو کھوتی جا رہی ہے۔ کراچی میں کنٹرول کی جنگ کا ایک مظہر ٹارگٹ کلنگ(اہدافی قتل) ہیں۔ یہ اہدافی قتل مسلکی، لسانی اور قومی فرقہ وارانہ بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔ قتل ہونے والوں میں پشتون اور مہاجر زیادہ ہیں، کہیں کہیں اس میں بلوچ، سندھی اور سرائیکی بھی نشانہ بنتے ہیں۔ جون 2010ء سے اگست کے آخری ہفتے تک 238 افراد اہدافی قتل و غارت گری کا نشانہ بنے۔

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض احمد اہدافی قتل کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ قتل عام لسانی لڑائی کا نتیجہ نہیں ہے، کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ مہاجروں اور پشتونوں میں بلوے اور فساد ہوئے ہوں، دونوں اطراف کے لوگوں نے اجتماعی طور پر قتل عام کرنا یا بستیاں جلانا شروع کر دی ہوں بلکہ یہ تو چہرہ چھپائے موٹر سائیکل سوار پیشہ ور قاتلوں کی کارروائیاں ہیں۔ ان کے خیال میں پشتونوں کو ایک سوچے سمجھے منظم منصوبے کے تحت کراچی سے بے دخل کرنے کی کوشش ہورہی ہے کیونکہ اہدافی قتل میں ایک تو سب سے زیادہ ہدف اور نشانہ پشتون بنے ہیں دوسرا مقتولین کا زیادہ تر تعلق مزدور پیشہ طبقے سے ہے۔

معروف صحافی عبدالمجید چھاپرا کا کہنا یہ ہے کہ کراچی کے اندر جاری خون ریزی کا مقصد بہت واضح ہے، سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے منشور اور نظریات کی بنیاد پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے اور سیاسی میدان میں مخالفوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے مافیاز اور سماج دشمن عناصر کی طاقت پر انحصار کررہی ہیں۔ ہر جماعت کے پاس پیشہ ور قاتل، ہنگامہ باز دہشت پھیلانے والے، بازار اور سڑکیں بند کرانے کے ماہر، جلاؤ گھیراؤ کرنے کے ماہر موجود ہیں جن کی مدد سے کراچی کو ہر جماعت کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس آفسیر کراچی وسیم احمد کہتے ہیں کہ کراچی میں اہدافی قتل کے پیچھے سیاسی، فرقہ وارانہ، نسلی یادہشت گردانہ محرکات کارفرما ہیں۔

ایک انگریزی معاصر روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ایک سینئر سکیورٹی افسر کا کہنا ہے کہ ”ہم نے14 سے15 افراد کو پکڑکر اپنی تحویل میں رکھا ہے اور ان میں سے ہر ایک نے17 سے18 اہدافی قتل کا اعتراف کیا ہے۔ انٹروگیشن رپورٹ ہر تفصیل دیتی ہے کہ ان کا تعلق کس سیکٹر سے ہے، یہ لوگ کہاں ملاقاتیں کرتے ہیں، موٹرسائیکلیں کہاں سے لیتے ہیں اور ہتھیار ان کو کہاں سے مل رہے ہیں“۔ اس اہلکار کے مطابق ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی، سی آئی ڈی، انٹیلی جنس بیورو، سپیشل برانچ اور پولیس کے خصوصی سیل سے مدد لی گئی۔ سکیورٹی افسر کے مطابق اہدافی قتل دراصل سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری جنگ کا نتیجہ ہیں اور یہ اس لیے نہیں رُک پا رہے کہ پولیس، رینجرز،ایجنسیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں۔

ایک خفیہ ادارے کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر” ہم شہری“ کو بتایا کہ اہدافی قتل کراچی پر کنٹرول کا شاخسانہ ہیں اور اس میں سب سے زیادہ کردار متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، سنی تحریک(ایس ٹی) کے خفیہ ایکشن گروپوں کا ہے۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ اہدافی قتل بھی دراصل سیاسی جماعتوں کے درمیان کنٹرول کی جنگ کا حصہ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ جب متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حقیقی کے کارکنوں اور ہمدردوں کا قتل شروع کیا تو حقیقی نے اپنے بچاؤ کے لیے بالآخر سنی عسکریت پسند تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے اتحاد بنالیا اور اس اتحاد کے نتیجے میں متحدہ قومی موومنٹ میں شامل شیعہ افراد کے قتل کی وارداتیں بھی سامنے آئیں۔ دوسری طرف خود متحدہ قومی موومنٹ میں بھی شامل شیعہ اور دیو بندی انتہاپسند عناصر کے درمیان سردجنگ موجود ہے۔ اس کا نتیجہ بھی جلد ہی سامنے آسکتا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے رضا کار، جس نے کراچی کے اندر جاری دہشت گردی کے حوالے سے اعدادوشمار اور ان کی نوعیت پر کام کرنے والی ایک ٹیم کے ساتھ کام کیا، نے ”ہم شہری“ کو بتایا کہ اہدافی قتل اور ہنگامہ آرائی کا مرکز زیادہ تر اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، کورنگی، پیرآباد، گلستان جوہر، کٹی پہاڑی وغیرہ ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جہاں مہاجر، پشتون، پنجابی، سرائیکی آبادی مخلوط ہے اور ان علاقوں پر کسی بھی سیاسی، مذہبی جماعت کا کنٹرول واضح نہیں ہے۔ ان حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور اس عمل میں بہت تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

لانڈھی، اورنگی، سائٹ اور بلدیہ پختونوں کے لیے، مغربی کراچی بلوچ اور سندھیوں کے لیے جبکہ وسطی کراچی مہاجروں کے لیے۔ تقسیم کی یہ کوشش کراچی میں اس لیے بھی لہو رنگ ہے کہ کراچی کی ٹرانسپورٹ، کاروبار اور ملازمتیں شہر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں لوگوں کے آنے جانے کی وجہ بنتی ہیں اور یہ علاقے باہم اسی بنیاد پر جڑتے ہیں۔ ان علاقوں کو نسلی بنیادوں پر بانٹنا، فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا قطعاً ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں اپنی اپنی حصہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے خون بہایا جارہا ہے۔ نسلی بنیادوں پر اس تقسیم کا نشانہ مزدور، قالین باف، خوانچہ فروش، ریڑھی بان اور پروفیشنل بن رہے ہیں۔ سی سی پی او کراچی وسیم احمد کے خیال میں مسئلہ انتظامی سے کہیں زیادہ سیاسی ہے اور اس کا حل کراچی میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے اتحادیوں کو کنٹرول نہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وفاق میں اس کے پاس کل 126 نشستیں ہیں جن میں سے کئی کے سرپر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں پی پی پی کے اپنے اراکین کی تعداد سے سادہ اکثریت بھی نہیں بنتی اس لیے پی پی پی نے ابتدا میں عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ(نواز) اور جے یو آئی(ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی لیکن میاں نواز شریف کی حکومت سے علیحدگی اور دونوں جماعتوں کے درمیان سردجنگ نے پی پی پی کو متحدہ پر انحصار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پی پی پی کے دونوں اتحادی عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم ایسے ہیں جن کی مدد کے بغیر اب وفاق میں حکومت قائم رکھنا پی پی پی کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کراچی کے حوالے سے وفاق اور صوبہ سندھ سے انتظامی کنٹرول پر بڑا حق وصول کرنے کی خواہش مند ہے۔ وہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے پشتونوں کی بڑی تعداد میں کراچی آمد اور ان کے کراچی میں بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے ریاستی وغیر ریاستی سطح کے اقدامات پر فری ہینڈ مانگتی ہے، لیکن پی پی پی کے لیے یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سے سندھ پیپلزپارٹی اور سندھ کی حکومت کے اکثر وزرا نالاں ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ اور وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا پر خاصی تنقید ہورہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک انتہائی اہم رہنما جو کہ سرحد حکومت میں بھی اہم عہدہ رکھتے ہیں، انہوں نے راقم کو ایک اور ہی کہانی سنائی۔ ان کے مطابق ”متحدہ قومی موومنٹ اور ہیئت مقتدرہ کے اندر بیٹھے چند طاقت ور حلقوں کے درمیان جو بہتر تعلقات مشرف دور میں استوار ہوئے تھے ایسا لگتا ہے کہ وہ ترقی پر ہیں۔ ہیئت مقتدرہ کے اندر ایسے حلقے موجود ہیں جو متحدہ قومی موومنٹ کے سلوگن ’جاگیرداری کا خاتمہ، مڈل کلاس قیادت‘ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس سے علیحدگی پسند قوم پرستوں اور مذہبی دہشت گردوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے ایم کیو ایم کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ سے اظہار محبت کی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الطاف حسین کے بیان کی حمایت میں تقریر کر کے غیر منتخب ہیئت مقتدرہ کے اندر بیٹھے ایک حلقے کی سوچ اور پروجیکٹ کو جمہوریت گرانے کے لیے تیار ہونے والی سازش جیسے خدشات کو مزید تقویت پہنچائی ہے“۔

ایسا لگتا ہے کہ غیر منتخب ہیئت مقتدرہ کے اندر بعض لوگ میڈیا، سول سوسائٹی، وکلاءاور چند سیاسی جماعتیں جو کہ موجودہ نظام کا انتخابی بائیکاٹ کی وجہ سے حصہ نہیں ہیں اور جو حصہ ہیں وہ اپنے حصے پر مطمئن نہیں ہیں کو ملاکر سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی ریل کرنے کے لیے ایجنڈا بدعنوانی کا خاتمہ، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، دیانت دار قیادت کا ظہور وغیرہ ہوسکتا ہے اور انتخاب میں شکست کا خوف رکھنے والے چنددرمیانے طبقے کے افراد اقتدار میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کراچی اور پنجاب کے شہری مراکز کے اندر منظم طریقے سے میڈیا کا ایک حصہ کیمپین کو آگے چلارہا ہے۔