Showing posts with label Saudi Arabia. Show all posts
Showing posts with label Saudi Arabia. Show all posts

Monday, September 28, 2015

شام : اوبامہ اور پیوٹن کی پوکر گیم


کل جب یو این کے 70 ویں جنرل اسمبلی سیشن میں امریکی صدر باراک اوبامہ اور ولادیمیرپیوٹن نے خاص طور پر مڈل ایسٹ اور شام پر اپنے اپنے موقف کے دفاع میں دلائل دئے تو سچی بات یہ ہے کہ مجھے باراک اوبامہ کی بے بسی پر سچ مچ رحم سا آنے لگا کہ زمین پر سارےحقائق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے کیس کو مضبوط کررہے ہیں اور باراک اوبامہ کی کسی حد تک " آرٹفیشل فاختائی رنگ لئے تقریر " ان حقائق کے سامنے آنے پر پھیکی پڑگئی جس کے تذکرے سے اوبامہ جی اور ان کے اتحادی بہت گبھراتے ہیں امریکی صدر اوبامہ کی شام کے ایشو پر ساری تقریر کا مدعا یہ تھا کہ وہ شام میں روس کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور ایران کو بھی ایک فریق مانتے ہیں لیکن وہ اس بات پے بضد تھے کہ یہ دونوں ملک " بشار الاسد کی رخصتی " پر بھی اتفاق کرلیں اور ایک نئے سیاسی سیٹ اپ کی طرف آنے پر رضامند ہوجائیں - یعنی وہی رجیم تبدیلی پروجیکٹ مگر ایک نئے نام سے جسے امریکی صدر اوبامہ نے " ڈپلومیٹک ڈسکورس " کہا ولادی میر پیوٹن جوکہ دس سالوں میں پہلی مرتبہ جنرل اسمبلی سیشن میں ڈائس پر نمودار ہوئے نے امریکی صدر کے بچھائے دام میں آنے سے یکسر انکار کیا اور اس مرحلہ پر ان کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ " داعش " کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا - امریکی جریدہ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دونوں صدور کی اس نوک جھوک بارے کسی حد تک بہت ہی درست تجزیہ کیا ہے Beyond the verbal jousting and steely looks over lunch after the morning speeches, however, the two leaders were still playing a subtle game of diplomatic poker, each trying to maneuver the other into shifting his position. امریکی کیمپ میں شامل کئی ایک پاکستانی " کمرشل لبرل " اور شام ، عراق ، یمن کے معاملے پر بالخصوص اور مڈل ایسٹ پر بالعموم ان کے اتحادی بن جانے والے " سعودی نواز " دایاں بازو کے مہان جہادی تجزہ نگاروں ، کالمسٹوں ، اینکر پرسنز اور نام نہاد انوسٹی گیٹو رپورٹنگ کرنے والوں کے لئے " شام " کی صورت حال خاصی شرمندگی پیدا کرنے والی ہے لیکن وہ گبھرائیں نہیں ، مغرب کے اندر ایسے " جادوگر تجزیہ کاروں " کی کمی نہیں ہے جو ان کو " بے بسی " کی اس کیفیت سے جلد نکالنے کے لئے ایک اور " فرضی خطرہ " تلاشنے کی کوشش میں ہیں اور ایسا ہی ایک رائٹر برطانوی نژاد مصنف جان آر برادلی ہے جو کہ عمر کے پانچویں عشرے ( 45 سال ) میں ہیں مشرق وسطی کے امور پر ماہر خیال کئے جاتے ہیں اور انہوں نے " بہار عرب " میں چھپے " سلفی جنونیت اور بنیاد پرستانہ رجحانات اور ان کے بہار عرب تحریک کو ہائی جیک " کرنے کے امکانات پر جو پیشن گوئیاں کی تھیں وہ بہت حد تک درست ثابت ہوئیں - ان کی کتابوں
Inside Egypt
Saudi Arabia Exposed
Arab Spring نے کافی شہرت پائی مجھے جان آر برادلی اس لئے یاد آگئے کہ انہوں نے برطانوی ہفت روزہ رسالے Spectator میں حال ہی میں ایک آرٹیکل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر باراک حسین اوبامہ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خطابات کا باہمی موازانہ کرتے ہوئے لکھا ہے اور ان کے مضمون کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے Bizarrely, Putin is talking more sense on Syria than anyone else عجیب و غریب طور پر پیوٹن شام کے بارے میں کسی سے بھی زیادہ عقل مندی سے بات کررہا ہیں نوٹ : ویسے برادلی کے نزدیک پیوٹن کا زیادہ ہوش مندی کے ساتھ بات کرنے کو عجیب و غریب کہنا اس کے اپنے تعصبات کی عکاسی بھی کرتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں ہوش مندی کی باتیں تو یورپی اور امریکی حکومتوں کو زیب دیتی ہیں کیونکہ وہی عقل کے مدار المہام گردانے جاتے ہیں اور یہاں بھی اس پورے آرٹیکل میں برادلی نے امریکہ اور برطانیہ سمیت جملہ اتحادیوں کی مڈل ایسٹ بارے سٹریٹجی پر جو تنقید کی ہے اس میں بذات روس یا ایران کے لئے جذبہ خیر خواہی نہیں ہے بلکہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکیوں کی حماقتوں کی وجہ سے روسی صدر پیوٹن " مدبر نظر آرہے ہیں ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ان میں اور وہ اسے روسی صدر پیوٹن کی ایک بلف گیم کہتے ہیں اور یورپ و امریکہ کو " روس " کے عزائم سے ڈراتے نظر آتے ہیں اسی لئے اس مضمون کی ایک ذیلی سرخی رسالے کی ویب سائٹ پر یہ نظر آتی ہے
Our Syria plans have been a total shambles – leaving a vacuum for Russia's شام بارے ہمارا منصوبہ مکمل طور پر باعث شرم بن چکا ہے - اس نے روس کے ہماری جگہ لینے کا خلا پیدا کیا ہے یعنی برادلی کو روس کے مغربی بلاک ( اگرچہ یہ اصطلاح اب خاصی گمراہ کن ہوچکی ہے مگر پھر بھی اس سے کام چلانا مجبوری ہے ) کی جگہ مڈل ایسٹ میں شام کے اندر لینے پر خاصا دکھ ہے جان برادلی اپنے آرٹیکل کے آغاز میں لکھتا ہے کہ
At the outset of Syria’s brutal four-year civil war, I was an almost unique voice in the British media deploring the push to depose the secular dictator President Bashar al-Assad, especially in the absence of a genuinely popular uprising against him. Here in The Spectator I tried to point out that such a short-term strategy would have devastating long-term consequences. Assad, I argued, would not fall, because the people of Damascus would not rise up against him. The so-called secular rebels were in fact vicious Islamists in disguise. Western interests in the region would be dramatically undermined by Saudi and Iranian militias, who would fight a devastating proxy war. Syria’s extraordinarily diverse population risked annihilation as a result. شام کی چار سالہ خوفناک خانہ جنگی کے نمودار ہونے پر ہی میں برٹش میڈیا میں وہ منفرد آواز تھا جس نے خاص طور پر ایک حقیقی قسم کے پاپولر ، مقبول عوامی ابھار کی غیر موجودگی میں سیکولر آمر بشار الاسد کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کی تھی - سپکٹیٹر رسالے ہی میں ، مين نے ایسی شارٹ ٹرم حکمت عملی کے تباہ کن نتائج و عواقب نکلنے کی نشاندہی کی تھی - نام نہاد سیکولر شامی باغی اصل میں " اسلامسٹ " ہیں اور میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ " مغربی مفاد " سعودی اور ایرانی ملیشیاؤں کے مفادات کے باہمی ٹکراؤ میں گم ہوجائے گا ، جو کہ ایک تباہ کن پراکسی وار لڑیں گی - شام کی غیرمعمولی متنوع آبادی اس جنگ کے نتیجے میں مکمل طور پر فنا ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگی جان آر برادلی مغرب اور امریکہ کی حکومتوں کی حماقتوں کے نتائج و عواقب کا آئینہ بھی ہمارے سامنے اس آرٹیکل میں رکھتا ہے ، وہ لکھتا ہے کہ
No one listened, and I tired of trying to convince them of their folly. Four years on, the suffering of the Syrian people — 250,000 slaughtered, half of the population internally displaced and millions more made refugees — is obvious. And last week, in the midst of Europe’s biggest refugee crisis since the second world war (brought about in no small part by fleeing Syrians), the extent of the West’s geopolitical miscalculations became painfully evident کسی نے نہیں سنا ، اور میں ان کی حماقت بارے ان کو باور کرانے کی کوشش کرتا تھک گیا - چار سال کے دوران شام کے لوگوں کے مصائب اب سب پر ظاہر و باہر ہیں - ڈھائی لاکھ لوگ زبح کردئے گئے ، آدھی سے زیادہ آبادی داخلی طور پر مہاجر ہوگئی اور لاکھوں لوگ مہاجر بن گئے - گزشتہ ہفتے دوسری جنگ ‏عظیم کے بعد آنے والے یورپ کے سب سے بڑے " رفیوجی بحران " کے دوران مغرب کی تکلیف دہ حد تک " جیو پولیٹکل پیش بینی اور شماریت پسندی کے مغالطوں کی حد " بہت واضح ہوگئی برادلی شام میں جاری کشاکش کی خوفناکی کی مزید پرتیں کھولتا ہوا لکھتا ہے مختلف وابستگیاں رکھنے والے جہادی ، جوکہ اب بلاشک واحد اپوزیشن ہیں علوی اکثریت کے علاقے اور ساحلی پٹی پر مشتمل شامی علاقے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور انچ بہ انچ دمشق کے قریب تر ہوتے جاتے ہیں - تو لمبے عرصے سے چلے آرہے شام کے اتحادی روس نے جسے واشنگٹن کو دھوکہ دینے کے لئے کہا جائے گا شامی رجیم کے سب سے مضبوط گڑھ لٹکیا میں فوجی اڈے بنائے - اور چشم زدن میں اس کے ٹینک ، لڑاکا جیٹ طیارے ، فوجی مشیر ، جنگی طیارے اور یہاں تک کہ سب سے جدید ترین اینی کرافٹ مزائل سسٹم بھی وہاں پر موجود تھے -اس کے انجئینروں نے راتوں رات ہوائی جہازوں کی لینڈنگ کے لئے پٹی بھی تعمیر کردی اور اس کی بحریہ نے شامی بندرگاہ ٹارٹس جوکہ لیز پر رشیا کے پاس ہے کے ںزدیک فوجی مشقیں بھی کیں برادلی کے مطابق ایک طرف تو روس تھا جس نے بشار الاسد کی حکومت اور اس کے دفاع کو مضبوط بنایا جبکہ دوسری طرف مغربی حکومتیں تھیں جو داعش کے خطرے سے اس وقت تک بے خبر رہیں جب تک یو ٹیوب پر اس کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے اپنے خلیفہ ہونے اور نام نہاد اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان نہ کرڈالا -برادلی کہتا ہے کہ مغربی حکومتیں بشمول امریکہ نے داعش کا مقابل کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینے کی بجائے روس اور ایران کی مدد سے مضبوط ہونے والے بشار الاسد کی حکومت کے طوالت اختیار کرنے کے ڈر کو اپنے اعصاب پر سوار رکھا اور اس خوف کا تدارک کرنے کے لئے ایک نئی ماڈریٹ ، سیکولر باغی فوج بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا اور 500 ملین ڈالر کے اس پروجیکٹ سے ابتک چار سے پانچ فوجی تیار ہوئے جبکہ ایک اور فوجی دستے کے75 کے ایک فوجی بیج میں سے 35 القائدہ کے ساتھ جاکر مل گئے ہیں جان آر برادلی کا پیوٹن سے تعصب بلکہ جیلسی ایک مرتبہ پھر عود کرکے آتی ہے اور وہ کہتا کہ مغرب کی حماقتوں کی وجہ سے آج پیوٹن یورپ کے سامنے خود کو یورپ کو " رفیوجی کرائسز " سے بچانے والا بناکر پیش کررہا ہے - اور وہ کہتا ہے کہ " مہاجروں کے اس بہاؤ کو ہم صرف شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچاکر ہی روک سکتے ہیں جان برادلی کہتا ہے کہ بشار الاسد کی فوجیں شمال میں داعش کے ٹھکانوں پر ایک کے بعد ایک فضائی حملہ کرتی ہیں اور حیرت انگیز طور پر ٹھیک ٹھیک اہداف کو نشانہ بناتی ہیں اور مغربی سیاست دان جو بشار الاسد کو ایک شیطان آمر کہتے نہیں تھکتے تھے اور کہتے تھے کہ " بشار الاسد کی رخصتی کے دن " گنے جاچکے ہيں وہ داعش کے خلاف بشار الاسد کی فوجوں کی ان کامیابیوں پر " دانتوں میں انگلی " دبائے حیرت سے دیکھتے ہیں اور ان کے پاس اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں رہی جبکہ پیوٹن اب ان کو کہہ رہا ہے کہ داعش کا مقابلہ کرنے اور اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے بشار الاسد رجیم سے لڑنے کی بجائے اس کے ساتھ ملکر نیٹو فورسز کو داعش کے خلاف کاروائی اور شام کے دفاع کی ضرورت ہے برادلی پیوٹن کے اس رويے اور پالیسی کو پیوٹن کی " بلف گیم " قرار دیتا ہے - ہم اسے بھی برادلی کا تعصب کہہ کر نظر انداز کرسکتے ہیں لیکن یہ برادلی یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ بشارالاسد جوکہ اس وقت شام کے ایک تہائی حصّے کو کنٹرول کررہا ہے پہلے سے کہیں زیادہ شامیوں میں مقبول ہوچکا ہے - حال ہی میں ایک سروے نے بتایا کہ 80 فیصد شامی آبادی کا خیال یہ ہے کہ داعش کو " مغرب " نے جنم دیا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بشار الاسد کے زیر کنٹرول شامی علاقوں اور دمشق میں بشار الاسد کے مخالفوں میں سے جو باقی رہے ان میں سے کچھ نے تو داعش کی صفوں مين شمولیت کرلی جبکہ باقیوں نے اپنے آپ کو ان شامیوں ميں جاکر پھاڑ لیا جو ان کے خیال ميں " کافر اور مرتد " تھے واشنگٹن اور اس کے اتحادی بشمول رجعتی عرب ریاستیں اب یہ ماننے لگے ہیں کہ شام کے بارے میں پیوٹن کا موقف درست ہے اگرچہ انہوں نے یہ ماننے میں بہت دیر لگائی ، ابربوں ڈالر خرچ کئے برادلی کی طرح ایک اور برطانوی نژاد سابق انٹیلی جنس افسر اور مڈل ایسٹ کے امور پر ماہر پیٹرک کوک برن نے بھی مغرب کی مڈل ایسٹ پالیسی پر آغاز کار سے ہی شدید تنقید کی اور اس نے " داعش " کے عراق میں ابھار پر ایک مبسوط کتاب " جہادیوں کی واپسی " لکھی اور اس کے درجنوں تجزیاتی آرٹیکل بھی انھی باتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں جن کا تذکرہ برادلی نے کیا ہے اور " عراق " ميں امریکیوں کا فوجی ایڈونچر ایک ڈروآنے خواب میں بدلا اور یہآں بھی آخرکار امریکیوں کو اپنے سب سے بڑے " دشمن " ایران کا سہارا داعش کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لینا پڑا اور ایرانیوں سے تعاون کرنا پڑا برادلی داعش اور دیگر تکفیری فاشسٹوں کے خلاف بشار الاسد کی کامیابیوں اور اس حوالے سے ایران ، روس کے وہآن پر بڑھتے ہوئے اثر کی ایک " انتہائی پکچر " بناکر مغرب کے سامنے رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کی مضبوطی نے روس کو جدید ترین مزائل سسٹم اور جدید نیوی کے ساتھ ٹارٹس بندرگاہ کے زریعے سے یورپ کے دروازے پر لابٹھایا ہے اور اب اگر مستقبل قریب میں امریکہ نے بشار الاسد کے خلاف فوجی کاروائی کی تو یہ روس سے براہ راست جنگ بن جائیگی اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ امریکہ بشار الاسد کی حکومت کا حاتمہ اس لئے چاہتا تھا کہ اس کے زریعے سے ایران کی سب سے مضبوط اتحادی تنظیم حزب اللہ سے اس کو نجات ملے گی اور ایران کے مضبوط ٹھکانے ختم ہوں گے ، لیکن اوبامہ اور مغرب کی پالیسیوں اور حماقت نے الٹا بشار الاسد ، حزب اللہ کو مزید مضبوط کرڈالا ہے اور ایران سے " ایٹمی پروگرام پر ڈیل " کو بھی برادلی مغرب کی جانب سے اپنے مضبوط ترین اتحادی اسرائیل کو " کنارے " لگانے سے تعبیر کرتا ہے اور اسے ایک اور امریکی اور مغربی حماقت قرار دیتا ہے -مجھے برادلی بین السطور یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ مغرب اور امریکہ کو بشار الاسد کو روسی اور ایرانی کیمپ میں گرنے کی بجائے گود لے لینا چاہئیے تھا اور اپنے رجعت پسند اتحادی " سعودی عرب " کی ایران سے پراکسی وار کا حصّہ نہیں بننا چاہئیے تھا لیکن یہ ایک طرح سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے ایک یوٹوپیائی تصور سامنے لانے کی کوشش ہے برادلی کے مخصوص تعصبات سے بھرے تجزیے کی بجائے برطانوی وار رپورٹر رابرٹ فسک نے ڈیلی انڈی پینڈنٹ لندن میں اپنی تازہ رپورٹ میں کہیں زیادہ متوازن اور مثبت تبصرہ کیا ہے اس نے حال ہی میں ایک آرٹیکل Russia now has troops on the ground in the fight against Isis
روسی زمینی فوجی دستے داعش کے خلاف لڑنے کے لئے اب شام میں موجود ہیں کے عنوان سے لکھی رپورٹ میں وہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ روسی صدر پیوٹن جائز طور پر مغرب اور امریکیوں کی شام پر پالیسی کو ناکام پالیسی قرار دیتا ہے اور اپنی حکمت عملی کی کامیابی کا دعوی کرتا ہے اور زیادہ تفصیل سے بتاتا ہے کہ کیسے روسی فوجی زمینی دستے بشارالاسد اسد کے زیر کنٹرول شامی ساحلی پٹیوں کے گرد شہروں کی چیک پوسٹوں پر تعینات ہیں اور وہ روسی فوجی یونیفارم میں ملبوس ہیں اور شامی شہریوں سے اپنی شناخت چھپاتے نہیں ہیں اور روسی ڈرون روسی شام کے اندر بنے کنٹرول رومز سے کنٹرول کرتے ہیں اور جدید ترین جیٹ بمبار طیارے بھی ابھی روسی پائلٹ ہی چلارہے ہیں کیونکہ شامی پائلٹوں کو ان کو چلانے میں ابھی وقت لگے گا اور یہ بات حقیقت ہے کہ شام کے اندر اب اکثر سنّی ، شیعہ ، کرد ، علوی ، یہودی ، یزدی روسیوں ، ایرانیوں اور بشار الاسد کی فوجوں کو داعش کے خلاف اپنا " نجات دہندہ " خیال کرتے ہیں اور شام میں اکثر اب امریکیوں ، مغربی حکومتوں اور ان کے رجعت پسند اتحادی عرب بادشاہوں اور ترکی کے جعلی خلیفہ اعظم رجب طیب اردوغان کو ایک ولن کے طور پر دیکھا جارہا ہے

Tuesday, September 22, 2015

سعودی عرب : منتظر سر قلم و مصلوب علی محمد النمر کون ہے ؟


پاکستان کے انگریزی پریس میں ایک ، دو اخبارات میں خبر آئی ہے کہ 21 سالہ شیعہ ایکٹوسٹ علی محمد النمر کو سعودی عرب سرقلم کرکے مصلوب کرنے کی تیاری کررہا ہے اور اس کی آخری اپیل بھی مسترد کردی گئی ہے اردو پریس اس معاملے پر بالکل خاموش ہے اور الیکٹرانک میڈیا میں کسی ایک چینل نے بھی اس خبر کو نشر کرنا ضروری خیال نہیں کیا ہے جبکہ روزنامہ ایکسپریس سمیت کئی ایک اردو اخبارات نے ٹیکساس کے ہائی اسکول میں اپنا بنایا ہوا " گھڑیال " لیجانے اور اسے بم سمجھ کر پکڑے جانے والا سعودی نژاد احمد کے اسکول چھوڑ کر عمرہ ادا کرنے کی خبر کو صفحہ اول پر شایع کیا ہے ہالی ووڈ کے فلم سٹار اور امریکی ٹی وی چینل "ایچ بی او "پر " رئیل ٹائم " کے نام سے ٹاک شو کرنے والے بل ماہر نے اپنے شو میں پروگرام کرتے ہوئے " علی محمد النمر " کی المیاتی کہانی کو اجاگر کیا اور کہا کہ " اگر آپ نے اپنا سارا ھیرو ازم " آئی سٹینڈ ود احمد " ہیشٹیگ کے لئے خرچ نہ کردیا ہو تو ہیشٹیگ علی محمد النمر کے لئے بھی وقف کریں علی محمد النمر کون ہے ؟ اور اس کے لئے آواز اٹھانی کیوں ضروری ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو اکثر ذھنوں میں پیدا ہوسکتا ہے - فروری کی 14 تاریخ اور سال 2012ء سعودع عرب کے مشرقی دو صوبے قطیب اور الاحصاء جو سعودی عرب کے تیل کی دولت سے مالا مال ہیں " بہار عرب " سے متاثر ہوئے اور وہاں پر اپنے حقوق کی جو تحریک تھی اس میں تیزی آگئی اور ان دونوں صوبوں کی عوام سڑکوں پر آگئی ، مظاہرے شروع ہوگئے اور اس تحریک کے روح رواں الشیخ محمد نمر النمر بنکر ابھرے جوکہ ایک روشن خیال ، اعتدال پسند شیعہ عالم اور سیاسی رہنماء خیال کئے جاتے ہیں - سعودی عرب کے یہ دونوں مشرقی صوبے یعنی احصاء اور قطیف 99 فیصدی شیعہ آبادی پر مشتمل ہیں اور سعودی عرب میں شاید یہ دو صوبے ایسے ہیں جہاں کی غیر وہابی آبادی اپنی مذھبی شناخت کو قربان کرکے سعودی عرب کا برابر کا شہری بننے کے حقوق حاصل کرنے سے انکاری ہی نہیں بلکہ مزاحمت کررہی ہے اور اس آبادی نے آج تک " آل سعود " کے حجاز پر قبضے کو تسلیم نہیں کیا - سعودی عرب کی جابر ریاستی مشینری ان صوبوں کو زبردست جبر ، خوف ، تشدد اور پابندیوں مین رکھے ہوئے ہے اور ان دونوں صوبوں ميں بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ، سعودی پولیس ، انٹیلی جنس اور فوج نے خفیہ ٹارچر سیل بنارکھے ہیں جہآں سیاسی مخالفین پر جبر و تشدد کیا جاتا ہے -شیخ محمد نمر النمر اپنی بے مثال جدوجہد ، استقامت اور انتہائی واضح خیالات کی وجہ سے شیعہ اکثریت کے ان دو صوبوں میں مقبول ترین سیاسی رہنماء کے طور پر ابھرے ہیں اور وہ اس علافے میں جاری سیاسی مزاحمت اور اپوزیشن کی تحریک کے بلااختلاف متفقہ قائد بھی ہیں - ان کی مقبولیت اور ان دونوں صوبوں ميں تحریک مزاحمت میں اضافہ ہوتے چلے جانے سے سعودی حکام سخت پریشان تھے اور جب فروری 2014ء میں قطیف و احصاء میں بڑے پیمانے پر بہار عرب پھیل گئی اور مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تو سعودی حکام نے اسے کچلنے کا پروگرام بنالیا - پہلے شیخ محمد نمر النمر کو گرفتار کیا گیا اور ان پر " اللہ سے بغاوت کرنے " کا الزام عائد کیا گیا کیونکہ سعودی عرب میں سعودی بادشاہ کے خلاف سیاسی احتجاج کا مطلب اللہ سے بغاوت کرنا ہے اور ان پر دوسرا الزام " ایرانی ایجنٹ " ہونے اور سعودی عرب کے خلاف بغاوت کے لئے ہتھیار جمع کرنے کا لگایا گیا جبکہ ساری دنیا کو علم ہے کہ شیخ محمد نمر النمر " عدم تشدد پر مبنی پرامن سیاسی جدوجہد " کے قائل ہیں اور ان کی تقریروں میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ کہا جاسکے کہ وہ سعودی عرب کی مشرقی صوبے کی شیعہ اکثریت کو تشدد ، دھشت گردی پر اکسارہے ہیں - شیخ محمد نمر النمر کی گرفتاری اور عقوبت خانے میں ان پر تشدد کے باوجود سعودی عرب کے مشرقی صوبوں میں مظاہرے اور مزاحمت میں کمی نہیں آئی اور شیخ محمد نمر النمر نے بھی سعودی حکومت کے آگے جھکنے سے انکار کردیا تو چودہ فروری 2012ء کو قطیف کی پولیس نے شیخ محمد نمر النمر کے 17 سالہ بھتیجے علی محمد النمر کو آتشیں ہتھیار جمع کرنے اور قطیف کے لوگوں کو سعودی حکام کے خلاف تشدد اور دھشت گردی کے لئے اکسانے سمیت کئی سنگین الزامات لگاکر گرفتار کرلیا اور ٹارچر سیل میں اس کو تشدد کا نشانہ بنایا علی محمد النمر جو اپنی گرفتاری کے وقت محض 17 سال کا تھا کو پہلے " بچّہ جیل " میں رکھا گیا اور ایک سال اس جیل میں بھی علی محمد النمر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے زبردستی ایک اعترافی بیان بھی لیا گیا - ایک سال بعد جب علی محمد النمر 18 سال کا ہوا تو اس کو بالغوں کی جیل میں بھیج دیا گیا اور اس کا مقدمہ سعودی مذھبی عدالت مین پیش کیا گیا سعودی عرب کا عدالتی نظام بہت ہی خوفناک قسم کا ہے اور پراسراریت ، اخفاء اور اندھیرے ميں رکھے جانا اس نظام کے نمایاں اوصاف ہیں - علی محمد النمر کے کیس پر ایک تنظیم جو کہ " لیگل چئیرٹی ری پرائیو " کہلاتی ہے کی ڈائریکٹر فویا علی کا کہنا ہے کہ " علی جب گرفتار ہوا اور اس پر جب مقدمہ چلا تو وہ کم عمر تھا اور اس لئے اگر وہ کسی جرم کا بالفرض مرتکب بھی ہوا تو اس کو سزائے موت دیئے جانا انتہائی غلط ، قانون ، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور یہ اخلاقیات کے بھی سراسر منافی بات ہے " علی محمد النمر جب پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوا تو اسے نہ تو کوئی وکیل کرنے کی اجازت ملی ، اس کے خاندان کو ابتک اس سے ملنے کی اجازت نہیں ملی ہے اور اس نے عدالت کو بتایا کہ جو بیان سعودی حکام نے اس کے نام پر پیش کیا ہے وہ زبردستی لیا گیا ہے اور اس نے اپنے اوپر کئے جانے والے بہیمانہ تشدد کی شکائت بھی کی لیکن سعودی جج نے اس پر کوئی نوٹس نہ لیا - چار سال بعد جب علی محمد النمر کی آخری اور فائنل اپیل بھی عدالت نے مسترد کرڈالی اور اس کا سر قلم کرکے ، اسے قطیف کے چوک میں مصلوب کئے جانے کا حکم سنایا تو ستمبر میں اس کے اہل خانہ کو بس اس سزا کی اطلاع دی گئی جبکہ اس کی گرفتاری سے لیکر اس کے ٹرائل چلائے جانے تک اس کے اہل خانہ کو کوئی اطلاع اس بارے میں نہ تو دی گئی اور نہ ہی ان کے وکیل کو علی محمد النمر تک رسائی دی گئی علی محمد النمر کے خلاف جتنے الزامات ہیں سب فرضی اور بناوٹی ہیں - علی محمد النمر کا سب سے بڑا جرم اس کا شیخ محمد النمر کا بھتیجا ہونا ہے جسے سعودی حکومت مشرقی صوبوں میں تحریک مزاحمت سے پیدا ہونے والی تمام مشکلات کا زمہ دار خیال کرتی ہے اور وہ اب شیخ محمد النمر کو اس کی سزا سنانے سے پہلے ایک اور عذاب سے گزارنا چاہتی ہے سعودی عرب میں حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے اور سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے صرف سر ہی قلم نہیں کئے جاتے بلکہ ان کو کئی روز مصلوب کرکے بیچ چوراہے میں لٹکاکر بھی رکھا جاتا ہے تاکہ کسی اور کو آل سعود کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی ہمت نہ ہو -سعودی عرب کے اندر اس سال 87 سے زیادہ لوگوں کے سر قلم کئے جاچکے ہیں جبکہ گرفتاریوں اور عقوبت خانوں میں آذیتیں دئے جانے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے یورپ اور امریکہ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تںطیموں نے یورپی یونین ، مغربی حکومتوں اور امریکی حکومت کی سعودی عرب کی جانب سے علی محمد النمر کے سر کو قلم کرکے مصلوب کرنے کی سزا پر خاموشی اختیار کرنے اور نمر کے کیس کو " احمد " کے کیس کی طرح ہینڈل نہ کرنے پر شدید تنقید کی ہے -امریکی ٹاک شو ہوسٹ بل ماہر نے اپنے ٹی وی شو میں امریکی صدر اور اور دیگر حکومتی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ علی محمد النمر کے کیس میں ان کی خاموشی سوائے منافقت اور دوھرے معیار کے اور کچھ بھی نہیں ہے انٹرنیشنل بزنس ٹائم میں کلائیو سٹیفورڑ سمتھ نے اپنے ایک مضمون میں برطانوی حکومت کی علی محمد النمر کے خلاف سعودی حکومت کی خوفناک سزا پر خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت کو سعودی عرب سے اپنی بزنس ڈیل زیادہ عزیز ہے نہ کہ انسانی حقوق کا احترام جبکہ اسی جریدے میں اورنلڈو کروکرافٹ نے اپنے ایک مضمون میں سعودی عرب کے ظالمانہ عدالتی نظام کے وحشیانہ پن بارے کھل کر لکھا ہے اور اس حوالے سے یورپی اور امریکی حکومتوں کی منافقت کو بے نقاب کیا ہے مغرب میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ، انٹرنیشل ہیومن رائٹس واچ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ليگل چئیرٹی ری پرائیو وغیرہ اور انٹرنیشنل میڈیا کا ایک سیکشن پوری تندھی کے ساتھ " علی محمد النمر " کی جان بچانے اور سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس کے برعکس مسلم دنیا کے اکثر ملکوں ميں مین سٹریم ميڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لبرل ، لیفٹ پارٹیوں نے بھی اس معاملے پر قریب قریب خاموشی سادھ رکھی ہے - سوشل میڈیا پر اپنی طنز و مزاح سے بھرپور تنقید نگاری کے لئے معروف ریاض ملک الحجاجی نے اپنے حال ہی میں پوسٹ کئے گئے ایک آرٹیکل میں سعودی عرب کے فنڈز سے چلنے والی امریکہ میں قائم تنظیم " کونسل فار اسلامک ریلیشنز " کے منافقانہ کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی ٹیکساس میں سعودی نژاد ہائی اسکول طالب علم کے ساتھ " مسلم شناخت " کی بنیاد پر کیا جانے والا امتیازی سلوک اور گرفتاری کا معاملہ سامنے آیا تو اس تنظیم نے سوشل میڈیا ، مین سٹریم ميڈیا پر اس ایشو کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے اور ہیشٹیگ آئی سٹینڈ ود احمد کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن یہ تنظیم ایک طرف تو سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی صوبوں قطیف و الاحصاء میں سعودی عرب کی ریاستی مشینری کی جانب سے شیعہ شناخت رکھنے والے سعودی باشندوں کے خلاف تعصب ، امتیازی سلوک ، ان کے انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش ہے تو دوسری طرف " علی محمد النمر " کے کیس پر بھی یہ ٹس سے مس نہیں ہورہی اور اس نے آج تک ہیشٹیگ علی محمد النمر کو سوشل میڈیا میں پروموٹ کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور یہی کردار باراک اوبامہ کا ہے کہ انہوں نے جس طرح سے ہیشٹیگ آئی سٹینڈ ود احمد کو ری ٹیوٹ کیا اور امریکی عوام کو اس ایشو پر حساس کیا ویسے انہوں نے علی محمد النمر کے کیس میں نہیں کیا جبکہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے ایک وفد کی قیادت بھی سعودی عرب کے حوالے کی گئی جس پر شدید تنقید سامنے آئی ہے پاکستان کے اندر اپنے آپ کو کئی ایک صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار " انصاف کا مدارالمہام بناکر دکھاتے ہیں اور حال ہی میں شامی مہاجر بچّے ایلان کردی کے ڈوب کر مرجانے کے واقعے پر ان کی جانب سے بہت گریہ و ماتم کیا گیا لیکن علی محمد النمر جیسے جوان رعنا کے لئے ان کا قلم اور زبان دونوں حرکت کرنے سے قاصر ہیں اور اس خاموشی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو " مئے لانا اشرفی " کی پروجیکشن میں آج بھی جتے ہوئے ہیں اور ایرانی مذھبی ملائیت کی " سفاکیت " کو بے نقاب کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں مگر سعودی عرب کے " مشرقی صوبوں " ميں ہونے والے جبر اور ظلم پر بولنے سے پہلے ہی ان کی سٹّی گم ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اردو اور انگريزی پریس میں کسی بڑے سے بڑے جغادری کو " علی محمد النمر " کے بارے میں کوئی ایک کالم لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی ، کیونکہ ایک تو یہ ایسا کالم لکھ کر " مستحق عتاب آل سعود و نواز " نہیں ہونا چاہتے دوسرا پاکستان کا بالخصوص اردو پریس " سعودیہ عرب " کے خلاف ایک لفظ بھی شایع کرنا " گناہ گبیرہ " خیال کرتا ہے اور اسی لئے میں نے بھی یہ کالم بلاگ پر پوسٹ کیا ، کسی اخبار کو بھیجنے کا سوچا تک نہیں ہے اپنے پڑھنے والوں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ ایک تو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جائیں اور
#AliMohammedAlNimr
پر جائیں اور علی محمد النمر سے اظہار یکجہتی کا ٹوئٹ کریں ، اسی ہیش ٹیگ کے ساتھ فیس بک پر بھی النمر کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں اور اگر آپ کے پاس وقت ہو تو سعودی سفارت خانے کو بھی احتجاجی مراسلہ ارسال کریں اور ایک یاد دھانی امریکی سفارت خانے کو بھی بھیجیں کہ وہ سعودی عرب کے آمرو مطلق العنان حکمرانوں اور جابر رجیم کے خلاف بھی اسی طرح سے بیان دے اور اقدامات اٹھائے جس تندھی کے ساتھ وہ ایران میں مذھبی پیشوائیت ، شام میں بشار الاسد اور عراق میں صدام حسین کی آمریت کے خلاف خود کو جمہوریت پسند ثابت کرنے کے لئے دکھاتا آیا ہے - ایران میں بہائی اقلیت کے خلاف ، پارسیوں کے خلاف اٹھائے جانے والے ظالمانہ اور انسانی حقوق کی پامالی پر جس طرح سے ردعمل آتا ہے اس طرح سے ردعمل سعودی عرب کے خلاف بھی آنا ضروری ہے جماعت اسلامی نے " عید قربان پر جانوروں کی کھالوں " کے لئے کراچی میں بینرز پر مسلم دنیا پر سامراج کے مظالم سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لئے قربانی کی کھالیں جماعت اسلامی کو دینے کے لئے " ایلان کردی " کی تصویر پر مبنی پینافلیکس چھپوائے ہیں جبکہ اس کی " مظلوم پسندی " سعودی عرب کے باب میں اسی طرح سے ٹھس ہے جیسے جے یوآئی ف ، س ، ن ، جماعت دعوہ سمیت دائیں بازو کی اکثر جماعتوں کی ٹھس ہوجاتی ہے اور اگر معاملہ کبھی ایران کا ہو تو وحدت و تحریک نفاز۔۔۔۔۔۔ و ش کونسل و ج کونسل کی مظلومیت پسندی ٹھس ہوجاتی ہے - ان سب کے ہاں سلیکٹو قسم کی انصاف پسندی اور مظلومیت کے راگ ہی الاپے جاتے ہیں اور ولن و ظالم و آمر بھی " شناختوں اور علامتوں " کے ساتھ طے کئے جاتے ہیں اور اپنے اپنے مربیوں کا ہر ظلم روا اور دوسرے کا ناروا ہوتا ہے - شاید ہمیں ابھی " انسانیت پسندی " کی مںزل تک پہنچنے کے لئے اور طویل سفر طے کرنا پڑے گا اور کئی " علی محمد النمر " اس راستے میں قربان ہوں گے میں علی محمد النمر کے ساتھ کھڑا ہوں اور سعودی عرب کی حکومت کے نام نہاد نظام انصاف کا منکر ہوں ۔۔۔۔۔ مرگ بر آل سعود

Thursday, July 2, 2015

Deobandi Islam vs. Barelvi Islam in South Asia



Submitted by Martin W. Lewis on October 7, 2010 – 6:04 pm

Radical Islamist groups in South Asia such as the Taliban are often classified as Wahhabis, belonging to the austere, puritanical form of Islam institutionalized in Saudi Arabia. But while the ties between the Wahhabis and the Taliban are tight, the latter actually belong to a different branch of the faith. The clearest differences are found in the realm of religious law. Sunni Islam is divided into four orthodox schools of law (Madhhabs), each of which is followed in distinct parts of the Muslim world. A number of rites and prayer forms also vary among the schools. As the map above indicates, Wahhabism, based in Saudi Arabia, is associated with Hanbali law, the strictest form of Islamic jurisprudence. The Taliban, on the other hand, follow Hanafi law, in general the most liberal variant – albeit not as they interpret it. Early attempts by Wahabbi preachers to spread their doctrine in South Asia often stumbled on the differences of Madhhab. As Husain Haqqani explains, “Their adoption of Hanbali religious rites and their strict condemnation of many rituals widely practiced by South Asian Muslims did not sit well with the vast Hanafi Sunni population.”

But as Haqqani goes on to explain, the differences between Wahhabis and the more fundamentalist Hanafis in South Asia have recently diminished almost to the vanishing point. The two groups may differ on a number of minor practices, but they concur on the larger issues. “Sunni Muslims,” Haqqani writes, have cast aside their aversion to Wahhabi groups, creating a large number of traditional Sunnis who embrace Wahhabi political and jihadi ideas without necessarily giving up their rites and rituals.” As is often noted, Saudi Arabian religious financing has helped break down the barriers between the two sects. According to Haqqani, a few of the most radical South Asian Islamist groups, including Lashkar-e-Taiba (discussed last Tuesday), have fully embraced the Wahhabi creed.

Mapping the four standard schools of Sunni Islamic law is relatively easy, although the authors of the Wikipdia map posted above deserve commendation for doing a particularly good job. But the differences that really matter are not those of Madhhab, but rather are found among less formal and much more recent “movements” within Islamic thought and practice. Among South Asian Sunni Muslims, the crucial distinction is that separating Deobandis from Barelvis, both following Hafani law. The Deobandi movement is aligned with Wahhabism and advances an equally harsh, puritanical interpretation of Islam. The Barelvi movement, in contrast, defends a more traditional South Asian version of the faith centered on the practices of Sufi mysticism. In India and especially Pakistan, tensions between the two groups can be intense, sometimes verging on open warfare. Extremist Deobandi groups, such as the Taliban, specifically target the shrines of Sufi mystics, venerated by Barelvis as places of sanctity and worship. As recently reported in the Express Tribune, “When the Taliban took over Buner in April 2009, they first besieged Pir Baba’s shrine. Taliban leader Fateh Khan said it was because the place was a hub of ‘adultery and idolatry.’” As a result, many Sufi shrines are now heavily guarded by Pakistani security forces.

Mapping the distribution of Deobandi and Barelvi adherents is all but impossible, as the two movements are spatially intertwined. One can, however, easily depict their place of origin, as both movements are named for towns in northern India: Deoband and Bareilli. Although radical Deobandi groups are most closely associated with Pakistan and Afghanistan, the movement’s intellectual and spiritual heart is still the Indian city of Deoband. Its Darul Uloom Deoband is reputed to be the second largest madrasah (religious school) in the Sunni Muslim world, following only Al-Ahzar in Cairo. Barelvi Islam is more diffuse, without a clear center of gravity. Although firm numbers are impossible to find, most experts maintain that Barelvis significantly out-number Deobandis not just among Indian Muslims but in Pakistan as well. In Pakistan, however, Deobandis have been advancing of late, and Barelvis retreating. According to one estimate, “some 15 per cent of Pakistan’s Sunni Muslims would consider themselves Deobandi, and some 60 per cent are in the Barelvi tradition…. But some 64 per cent of the total seminaries are run by Deobandis, 25 per cent by the Barelvis …”

The Deobandi movement began with the founding of the Darul Uloom Deoband in 1866. Early Deobandi leaders were distressed by the triumph of British colonialism and English-language education, which they sought to combat by purifying their religion, stripping away mystical practices and other innovations that they viewed as contrary to the faith. The most hardline Deobandis came to regard Barelvis, as well as Shiites, as non-Muslim opponents deserving of attack.

The relationship between the Deobandi movement and the state of Pakistan is ambiguous. Deobandi thinking is too traditional to be nationalistic, regarding the community of the faithful, not the modern nation-state, as the proper Quranic political vehicle. Most Deobandi scholars rejected the partition of British India in 1947, preferring to seek the spread of Islam in an undivided India. The idea of Pakistan, moreover, was originally embraced by Muslim groups despised by the hardline Deobandis. The father-figure of Pakistan, Mohammad Ali Jinnah, was originally an Ismaili (a follower of the Aga Khan) who later converted to mainstream Shi’ism; the state he founded was at first strongly supported by Barelvis, Shi’ites, Ismailis, and Ahmadis. Over time, however, orthodox Sunni Islam came to dominate Pakistan. President Muhammad Zia-ul-Haq (1978-1988) worked hard to turn Pakistan into a fundamentalist Sunni state, officially declaring the heterodox Ahmadis to be non-Muslims. As a result, the Pakistani government increasingly veered in the direction of the harsh Deobandi movement. The connection, however, is a two-edged sword for modern Pakistan, as the Deobandi faithful ultimately have contempt for national identities and borders.

The Deobandi movement has attracted a good deal of negative attention lately, both locally and on the global stage. Critics link it to terrorist organizations; the Taliban, after all, sprang out of Deobandi madrasahs in northeastern Pakistan, as did several other violence-prone organizations. Outrageous fatwas (religious rulings) do not help its reputation. In May 2010, a decree that women cannot work for wages shocked mainstream Muslim opinion worldwide. (The Times of India referred to it as a “Talibanesque fatwa that reeked of tribal patriarchy.”) Even more embarrassing was the 2006 “fatwas for cash” bribery scandal, which was revealed by an Indian television sting operation.

But despite such issues, the Darul Uloom Deoband remains a highly respected institution in several quarters. Defenders of the movement note that the radical madrasahs that produce the Taliban extremists are only loosely affiliated with the Deobandi movement, and that no graduate of Darul Uloom Deoband itself has ever been associated with a terrorist organization. In a first-hand account of the seminary published this week in Religioscope, Mahan Abedin gives voice to the leaders of the Deobandi school. Of particular interest is the relationship between Deobandi and Wahabbi Islam. As Abedin writes:

    On the question of so-called Wahabism I put it to Madrassi that many critics of the Deoband seminary claim that Deobandi beliefs are just a small step away from full-scale Wahabism. In response the deputy Vice Chancellor makes a clear demarcation between the two schools of thought, before adding that if we consider the Wahabis and the Barelvis as two extremes, the Deobandis occupy the centre ground in that continuum.

The Vice Chancellor’s efforts to portray Deobandis as Islamic centrists would strike many as absurd. Consider, for example, his group’s position on the Barelvis, who still constitute the majority of South Asian Muslims. According to Abedin:

    The deputy Vice Chancellor and the head of PR go to great lengths to underline the “purist” nature of the Deoband seminary, and it is in this context that they use exclusivist terms to describe other Islamic traditions, such as the Barelvis and Shi’ites, both of which are regarded as non-Muslim by the hardline Deobandis. They are particularly critical of the Barelvis, a traditional quasi-Sufi movement started in 1880 to counter the influence of the Deobandis and other reform movements, directing most of their criticism at the Barelvi practice of visiting the shrines of saints.

Source : http://www.geocurrents.info/cultural-geography/deobandi-islam-vs-barelvi-islam-in-south-asia