Showing posts with label Najam Sethi. Show all posts
Showing posts with label Najam Sethi. Show all posts

Friday, July 3, 2015

چہ ارزاں فروختند ،،،،،،،،،،، مظلوموں کے خون کی تجارت کرنے والوں سے درخواست کیسی

رباب مہدی ، بینا سرور اینڈ کمپنی اس بچے کو ھاوس آف لارڈ میں لیکر گئیں اور جو سکرپٹ پڑھنے کو دیا اس میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی شناخت کو چھپادیا ، یہ ایک ثبوت ہے جلد رباب کی اپنی تقریر بھی شئیر کروں گا
یہ ویڈیو رباب مہدی کے جھوٹ ، مکاری ، مکر کا پول کھول کر رکھدیتی ہے
یہ halal-tweet کو فالو کرنے والوں کی لسٹ ہے ، کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی

ایل یو بی پاک کی جانب سے یہ اس کے ایڈیٹر انچیف نے علی مشہدی عرف علی ناطق کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے ، یہ خط اس آدمی سے یہ درخواست کررہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی صف سے ان لوگوں کی مذمت کرے جنھوں نے امام علی ، جناب فاطمہ ، امام مہدی کے بارے میں توھین آمیز ، اشتعال انگیز اور انتہائی لچر ، تھرڈ کلاس گفتگو کی ، جنھوں نے اس طرح کی گفتگو کرنے والوں کی حمائت کی اور اس طرح کی گفتگو کی مذمت کرنے والے ایل یو بی پاک کو گروہ قاتلان و تکفیریان کہا اور جو ایل یو بی پی کی حمائت میں آیا وہ بھی گردن کشتنی کے قابل ٹھہرگیا،( اس کی ایک مثال تو میں ہوں )  کیسے ، کیسے تماشے اس دوران ہوئے کہ ایک المانہ فصیح کو بچانے کے لئے اس کی انچارج بینا سرور کے اشارے پر نامور شیعہ  نوجوان ایکٹوسٹ جوکہ ہر کسی کے لتے لینے میں ماہر تھے ، منور حسین امیر جماعت اسلامی نے جب یزید و حسین کی جنگ کو شہزادوں کی جنگ کہا ، زاکر نائیک نے یزید کو سیدنا کہا اور جناب حسین کو باغی قرار دیا ، حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والوں اور داعش کے حق میں بیان دینے والے مولوی عبدالعزیز ، جاوید غامدی کی جانب سے واقعہ کربلا کو ٹوئسٹ کرنے پر روشنی کے پیج پر پیج سامنے آئے ، سیلاب سے لوگ مرے تو نواز شریف کی گت بنائی گئی ، ایک خاتون نے شیعہ نسل کشی کا انکار کیا تو پیپسی ، کوک برگر کی کہانی پر پوسٹر سامنے آئے ، روشنی کو برا بھلا کہنے والوں کے خلاف پوسٹرز سامنے آئے لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ المانہ فصیح کے باب میں زبان کنگ ہوگئی ، لب سوگئے ، دماغ کی بتی گل ہوگئی کہ اس کی مذمت کرنے کا خیال تک نہ آیا ، پھر جب المانہ فصیح کے بارے میں اس نامور شیعہ ایکٹوسٹ نے اپنی وال پر علی عباس اور خرم زکی کے کمنٹس ھٹادئے ، یہ بھی نہیں سوچا کہ مذمتی کمنٹس دینے والے مذمت اس کی کررہے تھے جس نے امام علی و فاطمہ کی تقدیس کا خیال نہیں رکھا تھا اور پھر جب اس سے بطور بھائی پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے تو انانیت اور تکبر سے بھرا اسقدر فرعونیت پر مبنی رویہ سامنے آیا کہ میں تو دنگ رہ گیا اور حیران ہوگیا ، عربی میں ایک لفظ ہے الدلخصام یعنی سنت جھگڑالو ، اکھڑ ، بدتمیز ، انتہائی بد لحاظ اور کینہ پرور اونٹ ، اونٹ جس سے کینہ رکھ لے اس کو کبھی بھی سامنے آکر نہیں للکارتا پہلے سازش سے اس کے کمزور پڑنے کا انتظار کرتا ہے ،
بینا سرور جو اس ساری مہم کی انچارج ہے اس نے اس شیعہ ایکٹوسٹ کی کمزوری بھانپ لی تھی اور اس نے صرف اسی شیعہ ایکٹوسٹ کی کمزوری نہیں بھانپی بلکہ اس نے منافقت میں پی ایچ ڈی اور جھوٹ و عیاری و مکاری میں تخصص کرنے والی " سیدہ رباب مہدی رضوی ولد ملک عضنفر مہدی بھٹوی ثم ضیاع الحقی ثم بے نظیری ثم نازوی " کی کمزوری بھی بھانپ لی کہ دونوں کا ایک ہی ماٹو اے
مینوں نوٹ وکھا ، میرا موڈ بنے
شیعہ خون کی تجارت گذشتہ سالوں کے اندر ایک منافع بخش تجارت کا روپ اختیار کرگئی ہے ، شیعہ نسل کشی کا علمبردار اپنے آپ کو بتلائیں اور شیعہ امراء اور شیعہ پروفیشنل کو اپروچ کریں مال بٹوریں ، دوسری طرف بہت سی ڈونر مغربی ایجنسیاں بھی اس ایشو پر کافی فنڈز رکھتی ہیں اور ان کو بھی اپروچ کرنے کے لئے آپ کے پاکستانی لبرل کمرشل مافیا سے تعلقات اچھے ہونے کی اشد ضرورت ہے لیکن ڈالر اور ہونڈ کے لئے شیعہ خون کا واویلا مچانے والے یہ بنیئے اور کھتری کسی بھی موقع پر اپنی جان خطرے میں ڈالنا پسند نہیں کرتے ، اس لئے ان کے ہاں یہ اصول رہا کہ حسین سے بھی دوستی کا دعوی رکھا جائے اور یزید سے بھی تعلقات بہتر بناکر رکھے جائیں اور اس کے لئے کمرشل لبرل مافیا اور سابق دیوبندی حال لے ملحدین گروپ بھی کام آتا ہے ، علی ناطق سے زیادہ یہ بات رباب مہدی اور اس کے ابا جان پر صادق آتی ہے ، رباب مہدی ، علی ناطق ، انور درانی عرف علی ارقم ، سلمان حیدر ، ایاز نظامی ، ایس ڈبلیو جے ، طاہر اشرفی یہ سب کے سب ایک طرف تو المانہ فصیح والی اپیسوڈ کے بعد اچانک پھر سے ایکٹو ہونے والے یا نئے سامنے آنے والے اکاونٹس جن میں جھوٹ کا تومار باندھا گیا کو فالو کرنے والے بنے بلکہ ان کے ٹوئٹس ، فیس بک تھریڈ اور بلاگ پوسٹس کو شئیر کرنے لگے اور سب کا ھدف ایل یو بی پاک تھا کیونکہ ایل یو بی پاک نے کمرشل لبرل مافیا ، بینا سرور کی خواہش پر نجم سیٹھی کی منافقت کو طشت ازبام نہ کرنے اور المانہ فصیح کی ھذیان و ہفوات کی مذمت کرنے سے دستبردار ہوجانے اور ان سب کو چھپالینے کے مشورے کو ماننے سے انکار کیا

Halal-Tweet , Unmaskingtraitor , LUBP Exposed ,
یہ وہ فیک جعلی اکاونٹس ہیں جن پر جعل سازی ، جھوٹ اور تہمات کا طوفان کھڑا کیا گیا ، سانپ جیسی فطرت رکھنے والے اس مافیا نے کس طرح سے جال بنا

ایل یو بی پاک کی کسی پوسٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ اس نے المانہ فصیح کے خلاف بلاسفیمی ھتیار استعمال کیا ہے تو اس مقصد کے لئے
Halal-Tweet
نے
Forged status and forged tweets screen shots
بنائے جن کا پول کھل گیا ، اس میں ایل یو بی پاک اور مجھے تکفیری و مذھبی جنونی ، قاتل گروہ ثابت کردیا گیا تھا لیکن نقل کے لئے جس مطلوبہ عقل کی ضرورت تھی وہ کینے ، بغض اور سخت نفرت کے گرداب میں سلب ہوگئی اور ہوا یہ کہ علی عباس تاج کے 2013ء کے فیس بک سٹیٹس کی تھریڈ میں جعل سازی کے دوران تاریخ بدلنا بھول گئے ، یہ ٹوئٹس علامہ ایاز نظامی سمیت اس سارے گروہ نے بڑے شوق سے شئیر کئے اور اپنی طرف سے ایل یو بی پاک اور مجھے صف سیکولریان و لبریان و ترقی پسندان سے خارج کردیا گیا

ایک اکونٹ ورڈ پرہیس پر بلاگ ، ٹونئٹر و فیس بک پر
Unmaskingtraitor
کے عنوان سے بنایا گیا اور یہاں بھی عقل سلب ہوئی تو اپنی ہی فیس بک وال کا سکرین شاٹ ڈال بیٹھے اور جب اس کی نشاندہی کی گئی تو بوکھلاہٹ میں اسے ڈیلیٹ کردیا گیا ، اس جعلی اکاونٹ پر خود کو ایل یو بی پی بنکر خود کو گالیاں نکالی گئیں اور خود کو دیوبندی کہا گیا اور یوں خود ساختہ شہید بننے کی کوشش کی گئی

علی ناطق اور سلمان حیدر نے اس جعلی کھاتے میں اپنے آپ کو دی گئی گالیوں اور مغلظات کو ایل یو بی پاک کے کھاتے میں ڈالا اور یوں شیعہ کمیونٹی کے اندر مظلوم بننے کی کوشش کی ، لبرل حلقوں کو کہا
دیکھو ہماری ساری کوششوں کا صلہ یہ دیا گیا کہ ہمیں دیوبندی بنادیا گیا ہے
ایک پنتھ دو کاج والی مثال صادق آگئی کہ سپاہ یزید والوں کو بھی یقین دلایا گیا کہ
دیکھو ہمیں تمہاری نشاندھی نہ کرنے کے جرم کی سزا دی جارہی ہے
اور اس مہم میں وہ سارے منافق ایک دوسرے کے عندلیب بنکر آہ و زاریاں کرنے لگے جن کو ایل یو بی پاک نے بے نقاب کرڈالا تھا
پھر یہ سارے آہستہ آہستہ پکڑے گئے ، علی ناطق نے بہت ہی چتر چالاکی سے کام لیا کہ ایک طرف تو کہا کہ دیکھو میں تو خاموش ہوں اور اس طرح ایل یو بی پاک والوں سے دو سے تین ہفتے لے لئے جو ان کو سمجھنے میں لگے اور اس دوران اس نے ایک طرف تو ایل یو بی پاک پر سائبر اٹیک کیا تاکہ ایل یو بی پاک کا کام ہی تمام ہوجائے ، دوسرا اس نے کئی جعلی اکاونٹ بنائے اور وہاں سے پروپیگنڈا شروع کردیا ، جیسے ہی ایل یو بی پاک نے اس سارے جال کو تار تار کیا تو اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کہ جھوٹے الزامات لگاکر الٹا خود ہی رونا شروع کردیا ، معاملہ پٹھان اور کمزور آدمی والا ہوا کہ پٹھان کو نیچے گراکر زور زور سے رویا جارہا تھا لوگوں نے پوچھا کہ بھائی روتے کیوں ہو کہا یہ جب اٹھے گا تو مجھے خوب مارے گا

ایسے ہی شور رباب مہدی نے بھی مچایا ، اس نے بھی بجائے اس کے کہ اعلانیہ توھین اہلبیت کرنے والوں کی مذمت کرتی ، الٹا اس ،مذمت کرنے والوں کو چور بناڈالا ، ویسے اسے چ سے شروی ہونے والی گالیاں اور کوسنے دینے کا بہت شوق ہے اور معصوم بننے کا یہاں تک ڈرامہ کرتی ہیں موصوفہ کہ حیدر جاوید سید کو لندن سے فون کرکے کہتی ہیں کہ
Ali Arqam Aka Anwar Durrani who cursed Imam Mehdi is son of ayazid and Illmana Fasih who used abusive language against Ahl bait is daughter of Yazeed

لیکن حیرت در حیرت کہ اپنے ٹوئٹس میں اور اپنی فیس بک تھریڈ میں وہ المانہ فصیح کخ مذمت کرنے والوں کو چ یا کہتی ہے اور حسین حقانی سے کہتی ہے کہ ایل یو بی پاک کے خلاف بیان دیں اور جب فرح ناز اصفہانی و حسین حقانی ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو
Halal-Tweet and LUBP Exposed
ان کے خلاف سرگرم ہوتا ہے اور ایل یو بی پاک کا سرپرست اعلی حسین حقانی کو قرار دیا جاتا ہے اور پاک فوج سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان غداروں کی سرکوبی کرے
ادھر لبرل کمرشل مافیا کی سرغنہ بینا سرور کہتی ہے کہ
ایل یو بی پاک اسٹبلشمنٹ کے تنخواہ دار ایجنٹوں کا ٹولہ ہے
یہ گردان نام نہاد مارکسسٹ اور اندر سے دلپذیر دیوبندی تکفیری فہد رضوان بھی
اور ایک جانب سے

Ajerresalat and  jaffary72
Facebook pages
پر رباب ایک ویڈیو  لوڈ کرتی ہے اور مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہے اور جب اس کے جھوٹ کا پول کھولا جاتا ہے تو پردے کے پیچھے خاموش کرانے کے لئے بہت سے زریعے استعمال کئے جاتے ہیں اور میں سادہ دل حیدر جاوید سید کی یقین دھانی پر اعتبار کرکے سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا ہوں لیکن اس سٹیٹس کو 72 گھنٹے بھی نہیں گزرتے دوسری ویڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے اور جب اس ویڈیو میں موجود جھوٹ کا پردہ فاش کیا جاتا ہے تو ایک مرتبہ پھر جھوٹے ٹسوے بہائے جاتے ہیں

یہ خود ساختہ قسم کے جھوٹے مظلوم اور جھوٹے شہید اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے درخواست کی جائے ، ان سے کہا جائے کہ اپنے دوستوں کی مذمت کرو

میں کہتا ہوں جو اہل بیت جیسی ھستیوں کے بارے میں لچر بازی کرنے والوں کو اپنا دوست رکھے ، ان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائے ، ان کی خاطر لچر بازی کی مذمت کرنے والوں کے خلاف ایک محاز کھڑا کردے اس شخص  سے ایسی درخواستیں فضول ہیں ، عمار کاظمی کے توسط سے علی عباس کو دیا جا ے والا جواب کافی نہیں تھا جو اب یہ خط لکھ دیا گیا
جس نے شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تاریکی کی قوتوں سے دوستی کرلی ہو اس کی مذمت بھی کسی کام کی نہیں ہے

یہ بے ایمان ، شیعہ خون کا سوداگر ٹولہ اس قابل نہیں ہے کہ ان سے کوئی رعائت رکھی جائے

Halal-Tweet
کو فالو کرنے والوں کی فہرست نکال لی جائے پتہ چل جائے گا کہ کون سا کلب اس وقت ایل یو بی پاک کے خلاف سرگرم ہے
علی ناطق سے لیکر طاہر اشرفی تک اور وہاں سے اے ایس ڈبلیع جے تک اور اس سے آگے بینا سرور تک بہت سارے نام ہیں ، ہوسکتا ہے اس فالوئنگ میں کچھ نام
Just ubdate
رہنے کے لئے ہوں مگر اس کی غالب فالوئنگ یہ بتاتی ہے کہ سارے منافقین کوفہ ایک جگہ پر جمع ہیں

علامہ ایاز نظامی رباب مہدی کو بہن اور علی ناطق کو بھائی کہتا ہے ، علی ارقم کے ساتھ رشتہ محبت ہے ، منیب ساحل کو ڈی ایم بھیجا جاتا ہے اے ایس ڈبلیو جے سمیت سب ھلال ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں ، اس کی جعل سازی کو سچائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، یہ سارا ٹولہ الگ نہیں ہے ایک ہے اور ان سب کا اتحاد از بات پر ہوا ہے کہ لبرل کمرشل مافیا جو دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کو امن کا سفیر بنانے پر تلا ہے اس لا تحفظ کیا جائے اور اس کے لئے توھین اہل بیت بھی برداشت کرلی جائے اور یہ سب ناطق سے لیکر رباب تک اور آگے علی ارقم تک زر اور شہرت و ناموری کی ہوس کے لئے کیا جارہا ہے

علی ناطق توھین اہل بیت کرنے والوں کی مذمت نہیں کرے گا
رباب کبھی اعلانیہ علی ارقم کو پسر یزید اور المانہ کو بنت یزید نہیں لکھے گی
کیوں کہ ایسا کرنے سے گمنامی کا خطرہ ہے ، فنڈز بند ہوجانے کا اندیشہ ہے اور لبرل کمرشل مافیا کی جانب سے رجعت پسندی کا فتوی لگ جانے کا اندیشہ ہے ، اب اتنی بڑی قربانی شیعہ نسل کشی مہم کی تجارت کرنے والوں کے بس کی بات نہیں ہے
ٹٹ پونجیا ، تھڑے باز ، لونڈے لپاڑے ، چو ...یا اور بہت سی سلینگ ان سول سوسائٹی کی سولائزڈ پرسانلٹی کی تھریڈز میں بکثرت استعمال ہورہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس جگہ پر اننکی تربیت ہوئی ہے ، اس قدر بکواس کرکے اپنے آپ کو بے نقاب کرنے کی ہمت تو کبھی لدھیانوی و فاروقی و اشرفی کو نہیں ہوئی ، یہ عصر حاضر کے جعفر کذاب ہیں جن کو آئینہ دکھایا جانا ہی بہتر ہے


Monday, June 29, 2015

رباب مہدی کی غلط بیانیاں ، حقائق کیا ہیں ؟

رباب مہدی کم از کم اپنے خاندان کے لوگوں کے وعدے کی پاس کرلے !

کچھ روز پہلے میرے بڑے بھائی ، محترم حیدر جاوید سید کا مجھے فون موصول ہوا ، جس میں انھوں نے کہا کہ
عامر اگر آپ سے کوئی قربانی مانگوں تو کیا آپ دوگے
میں نے کہا کیوں نہیں جناب
انہوں نے کہا کہ نذر اللہ ، نیاز حسین پھر رباب مہدی سے درگذر کرلیں اور اس حوالے سے فیس بک پر سٹیٹس دیں ،
یار دیکھو مومن گھرانا ہے ، اس گھر کے لوگوں کے فون آئے ہیں کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئیے
میں نے کہا کہ
شاہ جی آپ کا حکم سرآنکھوں پر ، لیکن معاملہ یہ ہے کہ رباب مہدی ان لوگوں کو سپورٹ کررہی ہے جو توھین اہل بیت اطہار کے مرتکب ہوئے ، اور نازیبا زبان استعمال کی ہے ، اس نے ان کی مذمت کرنے کی بجائے ان لوگوں کے خلاف کمپئن شروع کرڈالی جنھوں نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی اور مذمت کی ، کمرشل لبرل مافیا کے ساتھ اس کے گہرے سمبندھ ہیں
شاہ جی نے کہا کہ دوسری جانب سے کہا گیا ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا ، مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وعدہ اور یقین دھانی رباب مہدی کے والد ملک غضنفر مہدی اور ماموں سبطین لودھی کی جانب سے آئی تھی
ابھی تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ رباب مہدی نے ایک دوسری ویڈیو تیار کی اور اس ویڈیو کے لئے ایک شیعہ پیج جعفری 72 کی ٹیم کو فون کیا اور اس طرح سے یہ ویڈیو اس پیج پر اپ لوڈ ہوگئی اور اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرکے رباب مہدی نے اپنے بڑوں کے وعدے کا پاس بھی نہیں کیا

اس ویڈیو کے مندرجات جھوٹ کا پلندہ ہیں ، سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ میں زات پات ، رنگ ،نسل کے تعصبات پر یقین نہیں رکھتا ، لیکن صریح جھوٹ بھی تو بار بار نہیں بولنا چاہئیے ، اس ویڈیو میں کئی مرتبہ رباب مہدی کے لئے سیدہ اور سید زادی کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ان کے والد کو ایک زمانہ جانتا ہے ، کبیروالہ سے تعلق اور وہاں کی ملک برادری سے ان کا تعلق ہے اور ان کے ساتھ ملک غضنفر مہدی آج کا نہیں جڑا ہوا ، ان کے ماموں سبطین لودھی ہیں تو ظاہر ہے کہ والدہ لودھی پٹھان ہیں ، اس کے باوجود لکھا جارھا ہے کہ
ایک سیدہ یا سید زادی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا
یہ غلط بیانی اجر رسالت پیج پر بھی ویڈیو میں کی گئی تھی جس کی نشاندہی میں نے کی تھی ، معاملہ رباب کی زات کا نہیں ہے بلکہ اس کی غلط بیانی کا ہے ، پہلی ویڈیو میں میرے آرٹیکل کے ایک حصے کو اٹھاکر سیاق و سباق سے ھٹاکر لگایا گیا اور ساتھ اسی انسائٹ پروگرام کا کلپ دکھایا گیا
میں نے اس وقت رباب سے اپنی گفتگو کے سکرین شارٹ دئے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ میں نے جو بات کی اس کا تناظر کیا تھا
میرا موقف یہ تھا کہ رباب جب اقوام متحدہ کی کونسل فار ہیومن رائٹس کے ایک سائیڈ لائن اجلاس میں سلیم رضا ، علی عباس زیدی کے ساتھ شیعہ نسل کشی پر تقریر کرنے گئیں تو اس تقریر میں انھوں نے دیوبندی تکفیری دہشت گردی کی اصطلاح استعمال نہیں کی اور اہلسنت والجماعت کو شیعہ نسل کشی کا زمہ دار نہیں ٹھہرایا ، میں نے ان سے جب اس حوالے سے مئی 2014 میں سوال کیا تھا تو ان کا جواب یہ تھا کہ ایسا کرنے کے لئے ثبوت درکار ہے جو ایل یو بی پاک والے دیتے نہیں ہیں ، اس سے یہ تو پتہ چل گیا تھا نا کہ رباب نے یہ زکر اقوام متحدہ میں نہیں کیا تھا

میں پھر بھی رباب کو پیشکش کرتا ہوں کہ اگر آپ نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے اندر دیوبندی تکفیری اور اہلسنت والجماعت کا نام لیا تھا تو برائے مہربانی اس تقریر کے ایسے متعلقہ حصے کا کلپ اس ویڈیو میں کیوں نہیں ڈالا ، صرف ساکت تصویر کیوں ڈالی ؟ اب بھی اگر میرا دعوی غلط ہے تو چلئے متعلقہ کلپ اپ لوڈ کریں میں اعلانیہ معافی مانگ لوں گا

کہا گیا کہ ھاوس آف لارڈ میں شیعہ نسل کشی کا کئی مرتبہ کیس پیش کیا ، ھاوس آف لارڈ میں جہاں رباب نے دیوبندی تکفیری فاشزم اور اس کی مختلف شکلوں کے بارے میں کوئی تقریر یا کوئی بریفنگ دی ہو اس کا کوئی کلپ اس ویڈیو میں موجود نہیں ہے ، اگر ہے تو پیش کیوں نہیں کیا جارہا ؟

ایک اور جھوٹ جو اس ویڈیو میں بولا گیا وہ یہ ہے کہ رباب مہدی پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ ہزارہ شیعہ کے قتل کی وجہ نسلی یا لسانی بتلاتی ہے ، یہاں پر حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ، ان پر تنقید یہ تھی کہ وہ سلیم رضا کے ساتھ کیوں ہیں اور اس کو پروموٹ کیوں کرتی ہیں جبکہ یہ شخص اقوام متحدہ سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کو نسلی و لسانی ایشو کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسے شیعہ نسل کشی سے الگ کرتا ہے اور جب رباب ایسے آدمی کو پروموٹ کرے گی اور اس کے موقف کا نام لیکر رد نہیں کرے گی تو اسے بھی سلیم رضا کے موقف کا حامی سمجھا جائے گا ، اس سے خود اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کون حقائق کو مسخ کررہا ہے

رباب مہدی پر شدید تنقید اور مذمت کا سلسلہ کیوں شروع ہوا ،رباب مہدی نے اجر رسالت اور جعفری 72 دونوں پر جو ویڈیوز شئیر کیں اس پر پردہ ڈالا ہے ، اور اس کا زکر تک نہیں کیا

رباب مہدی سے Sania Hassan Kayani نام کی ایک خاتون نے المانہ فصیح کی جانب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، جناب فاطمہ الزھرا کی شان میں نازیبا الفاظ کے استعمال کی مذمت نہ کرنے بارے سوالات شروع کئے تو رباب مہدی نے نہ صرف اس کی مذمت کرنے سے گریز کیا بلکہ احتجاج اور مذمت کرنے والوں کو چو-یا کہہ ڈالا ، اس سے ایک تو رباب کی شائستگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، دوسرا اس نے ایل یو بی پاک پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک قاتلانہ مہم چلارہا ہے جو بلاسفیمی کارڈ کھیلنے کے مترادف ہے ، یہ وہ الزام تھا جو بینا سرور اینڈ کمپنی کی جانب سے ایل یو بی پاک اور ہر اس فرد پر لگایا جارہا تھا جو المانہ فصیح کی مذمت کررہا تھا ، رباب مہدی نے پوری تھریڈز اور کمنٹس میں ایک جگہ بھی المانہ فصیح کی مذمت نہ کی اور بلکہ یہ موقف بھی اختیار کرلیا کہ اہل بیت اطہار کوئی ستم رسیدہ شخصیات نہ تھیں اور نہ ہی ہمارے دفاع کی ان کو کوئی ضرورت ہے ، یعنی اگر کوئی آئمہ اہل بیت اطہار کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرتا ہے تو اس پر احتجاج اور مذمت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان ھستیوں کو ہماری مذمت اور احتجاج کی ضرورت نہیں ہے ، یہ اور اس طرح کے دوسرے عذر اصل معاملے سے فرار حاصل کرنے کے لئے ہیں

رباب مہدی نے یہ بھی اس ویڈیو میں کہا ہے کہ بیانات کو گھما پھرا کر مسخ کیا جارہا ہے تو ان کی ثانیہ حسن کیانی سے گفتگو کے سکرین شاٹ موجود ہیں ، میرے ساتھ بات چیت کے سکرین شاٹ موجود ہیں اگر کوئی شئے موجود نہیں تو ایک تو المانہ فصیح کی جانب سے کہے گئے فقروں کی مذمت ، علی ارقم کی امام مہدی کے ساتھ ملا عمر کی مشابہت اور میدان چھوڑ کر بھاگنے کی تہمت کی مذمت

اسی طرح رباب مہدی سے بھی میں یہ سوال کرتا ہوں کہ
وہ دکھائیں کہ کہاں المانہ فصیح کی مذمت کرنے والوں نے المانہ کے خلاف بلاسفیمی کا رڈ کھیلا ؟ کہاں اس پر بلاسفیمی ایکٹ کے تحت پرچہ درج کرنے کو کہا ؟ کہاں اس کے خلاف تشدد پر اکسایا ؟
یہ اور ایسے کئی سوالات سلمان حیدر سے میں نے کئے تھے تو وہ بدتمیزی اور ھذیان و ھفوات بکنے لگا تھا اور ڈھیٹ اتنا کہ جب بھی الزام لگایا ثبوت غائب تھا اور مانگا تو جواب بدزبانی تھا

رباب مہدی جعل سازی اور جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس کر شہید و مظلوم بننے کی کوشش کررہی ہے
اس نے اس ویڈیو میں ایک مقام پر کہا ہے کہ باہمی اختلاف کا مناسب فورم تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، عجیب بات ہے  کہ ایک تو وہ آن دی ریکارڈ مسخ شدہ حقیقتوں پر مبنی  ویڈیوز نشر کرتی ہیں اور دوسری طرف اختلاف کو سلجھانے کی بات کرتی ہیں
گویا لما تقولون ما لا تفعلون کی صف میں کھڑی ہوجاتی ہیں
انھوں نے ویڈئو کے شروع جو آیت رکھی ہے وہ خود ان پر صادق آتی ہے
میں سبطین لودھی سے معذرت خواہ ہوں کہ ان کو اس پوسٹ سے صدمہ ہوگا لیکن معاملہ میری زات کا ہوتا تو میں درگذر کرجاتا لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ کمرشل لبرل مافیا کے ساتھ بھی رہا جائے اور دعوی پھر حسینیت کا ہو
لندن والوں سے مجھے اور بھی بہت سی خبریں ملیں تھیں لیکن ان میں زاتیات کی بات غالب ہے ، میں نے اسے نظر انداز کیا کیونکہ میں اسے اپنے شایان شان خیال نہیں کرتا 


Tuesday, June 16, 2015

Why I Am with LUBPAK ? ایل یو بی پاک کی حمائت کیوں ؟


سوشل میڈیا پر ایل یو بی پاک - تعمیر پاکستان بلاگ کافی عرصہ سے کام کررہا ہے ، اس بلاگ نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، صوفی سنّی نسل کشی ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ اور دیگر مذھبی کمیونٹیز پر منظم دھشت گردی کے حملوں کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ ان سب کے پیچھے " دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں جو سلفی تکفیری تنظیموں جیسے داعش اور القائدہ ، جبھۃ النصری وغیرہ ہیں کے ساتھ ملکر کام کررہی ہیں اس بلاگ کی مجموعی پالیسی یہ نظر آتی ہے کہ پاکستان کے اندر سول سوسائٹی اور لبرل صحافت و تجزیہ نگاری سے منسلک ایسے افراد اور گروپس موجود ہیں جو ایک طرف تو شیعہ ، سنّی ، کرسچن اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم دھشت گردی کرنے والی تنظیموں کی دیوبندی تکفیری شناخت کو چھپاتے ہیں ، دوسری طرف یہ ان دیوبندی تکفیری تنظیموں کے لئے پروپیگنڈے اور دیگر زرایع سے جگہ ہموار کرنے والی تنظیموں اور افراد جیسے نام نہاد اہلسنت والجماعت - سپاہ صحابہ پاکستان اور اورنگ زیب فاروقی ، محمد احمد لدھیانوی ، اشرفی وغیرہ کو امن کے پیامبر کے طور پر پروموٹ کرتے ہیں ، ایل یو بی پاک نے اس حوالے سے کئی شخصیات کو بے نقاب کیا ہے جن میں سرفہرست نجم سیٹھی اینڈ کمپنی ہے ، جیو جنگ گروپ کے سرکردہ لوگ ہیں ، جناح انسٹی ٹیوٹ کی باس شیری رحمان اور اس کا گروہ ہے حال ہی میں ایل یو بی پاک نے امن کی آشا پروگرام کی انچارج بینا سرور ، اس کی اسسٹنٹ المانہ فصیح اور ان سے تعلق رکھنے والے کچھ اور لوگوں کے بارے میں بھی کافی انکشافات کئے کہ کیسے یہ پورا ٹولہ نجم سیٹھی مافیا کو بچانے میں سرگرم ہے اور اس پورے مافیا نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کو obfuscation کی نذر کرڈالا ہے اور یہ اس سارے معاملے کو " ادلے بدلے " اور شیعہ - سنّی بائنری کے تناظر میں دیکھتا ہے اور ان کے تناظر کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری فاشزم صاف صاف بچ نکلتا ہے کچھ روز پہلے المانہ فصیح نے دھشت گردی پر ہونے والی بحث کے دوران فیس بک پر اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃالذھرا رضی اللہ عنھا کے بارے میں انتھائی بھونڈے ، عامیانہ ، ابتذال اور انتہائی تہذیب و اخلاق سے گرے ہوئے کمنٹس لکھے اور ان کمنٹس پر ہر طرف سے مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا تعمیر پاکستان بلاگ کے سابق بانی مدیر عبدل نیشاپوری ،علی عباس تاج ، نور درویش ، عباس زیدی ، علی شہرام اور خرم زکی سمیت دیگر افراد نے المانہ فصیح کے ان فقرات کی سخت مذمت کی اور اپنے پالیسی موقف کے مطابق " بلامشروط معافی " معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے انھوں نے المانہ فصیح کے کمنٹس کے سکرین شارٹ اور المانہ فصیح کی تصویر بھی شایع کی اس دوران یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگوں کی جانب سے ایل یو بی پاک کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی ، جس میں یہ دھائی دی گئی کہ ایل یو بی پاک کے لوگوں نے تو لبرل لوگوں کے خلاف ایک محاز کھول رکھا ہے اور وہ لبرل ازم کے مہان لوگوں کو دیوبندی ہونے کے فتوے جاری کررہا ہے ، اس کے ساتھ ہی یہ مہم بھی جاری کی گئی کہ ایل یو بی پاک نے المانہ فصیح کو " بلاسفیمی " کا مرتکب ٹھہرایا ہے اور وہ دراصل المانہ فصیح کو مذھبی جنونیوں کے ہاتھوں قتل کرانا چاہتی ہے ایل یو بی پاک کے خلاف جب یہ مہم کچھ زیادہ جاندار نہ ثابت ہوئی تو ایک فیک آئی ڈی " ان ماسکینگ ٹریٹر " کے نام سے فیس بک پر بنایا گیا ، ان ماسکنگ ٹریٹر پی کے ڈاٹ ورڈ پریس ڈاٹ کام اور ایٹ دی ریٹ آف ان ماسکنگ ٹریٹر کے نام سے بلآگ و ٹوئٹر اکاؤنٹ سامنے آگیا اور اسی طرح سے ایک اور نام نہاد مارکسی دانشور احمد خان نے انھی جعلی کھاتوں کے سٹیٹس اور جعلی مواد کو استعمال کرتے ہوئے شیعہ نسل کشی بارے ايڈوکیسی مہم چلانے والے انسانی حقوق کے ایسے لوگوں کے بارے میں پروپیگنڈا شروع کیا جوکہ ایل یو بی پاک کے موقف سے کسی حد تک موافقت رکھتے ہیں اور معاشرے میں ان کی فالوئنگ کافی ہے ، جیسے علی ناطق عرف علی مشہدی ، سید طالب رضا کہ ان کے بارے میں ایل یو بی پاک سے یہ بات منسوب کی گئی کہ یہ سب لوگ اصل میں غدار ہیں ، یہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے ملے ہوئے ہيں اور یہ نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کے ہی لوگ ہیں ایک صاحب ہیں سلمان حیدر غضب کے شاعر ہیں " تو بھی کافر ، میں بھی کافر " نظم کے خالق ہیں ، جس کو بے مثال شہرت حاصل ہوئی ، وہ صاحب " عبدل نیشاپوری " کے ساتھ کہیں حالت فکری جدل میں تھے اور اختلاف وہی تھا کہ عبدل نیشا پوری کا اصرار تھا کہ شیعہ نسل کشی ، صوفی نسل کشی ، احمدی ، ہندؤ ، کرسچن پر منظم دھشت گردانہ حملے کرنے میں ساری ملائيت نہیں بلکہ صرف " دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیميں اور ان کے ںظریہ ساز " زمہ دار ہیں - جبکہ سلمان حیدر " دیوبندی تکفیری دھشت گرد اور دیوبندی تکفیری فاشزم " کی اصطلاحوں کو اپنانے پر تیار نہ تھے ، اور عبدل نیشا پوری ان سے چاہتے تھے کہ وہ اپنی شہری صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے " دیوبندی تکفیریت " کے خلاف زبردست نظم لکھیں لیکن یہ معاملہ ابھی درمیان میں تھا کہ عبدل نیشا پوری نے ان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو شیعہ نسل کشی کو شیعہ - سنّی بائنری اور ادلہ بدلہ قراردیں جیسے سیٹھی مافیا ، المانہ فصیح اور بینا سرور ، طارق فتح اینڈ کمپنی اور سپاہ صحابہ کی قیادت کے پروموٹرز ہیں ان کی مذمت کریں اور ان کو بے نقاب کریں ، اسی دوران " المانہ فصیح " والا معاملہ بھی سامنے آگیا تو سلمان حیدر بھی اس میدان میں کود پڑے انھوں نے اپنے ایک سٹیٹس میں دعوی کیا کہ
اور آپ اس سکرین شارٹ اور اس کے نیچے ان کے یا دوسروں کے کمنٹس میں پڑھ سکتے ہیں کہ کہیں ایک جگہ بھی انھوں نے یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ یہ سٹیٹس انھوں نے unmaskingtraitorpk.wordpress.com کے اوپر 'علی ناطق " بارے ایل یو بی پاک سے منسوب بیان پڑھنے کے بعد کیا ، بلکہ انھوں نے صاف صاف لکھا کہ ایل یو بی پاک نے اپنے ایک ٹوئٹ ميں ابھی علی ناطق کو بھی دیوبندی قرار دے ڈالا ہے ان کے اس سٹیٹس کے بعد ٹوئٹر ، فیس بک پر گویا ایک بھونچال آگیا اور مسلسل ایل یو بی پاک کے بارے میں جو منہ میں آیا بکا جانے لگا میں نے سلمان حیدر کا جب سٹیٹس پڑھا تو مجھے بڑا عجیب لگا اور میں نے ایل یو بی پاک کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک آرکائیوز کا اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کا اکاؤنٹ ، خرم زکی کا اکاؤنٹ ، نور درویش ، سید الملک الحجاجی کا اکاؤنٹ چیک کیا ، عباس زیدی کے کھاتے دیکھے کہیں پر بھی کوئی ایسا سٹیٹس موجود نہیں تھا ، میں نے ان میں تین کو ٹوئٹ بھی کیا اور پوچھا ، انھوں نے کہا کہ سلمان حیدر غلط بیانی کررہا ہے تو میں نے سلمان حیدر سے پوچھ لیا کہ وہ ٹوئٹ کہآں ہے کافی دیر بعد ان کا جواب آیا تو اس میں پہلے تو یہ کہا
آب اس سے کیا فرق پڑھتا ہے " سوال کی اہمیت " پر کہ ميں ایل یو بی پاک کا حصّہ ہوں یا نہیں ، ایل یو بی پاک میں لکھنے والے مرے لونڈے ، لپاڑے ہیں یا نہیں سلمان حیدر نے کہا کہ ایل یو بی پاک نے " سیٹھی ، سیٹھی " جو ںظم لکھی اس سے یہ صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ انھوں نے مجھے دیوبندی قرار دے ڈالا ہے اور اسی میں کہا کہ نظم میں ایک کیپشن پر لکھا ہے کہ Ale Natiq Joins Sethi Mafia اب پہلی تو بات یہ ہے کہ اس نظم کے متن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایل یو بی پاک نے سلمان حیدر کو سیٹھی کیمپ کا آدمی اس لیے قرار دیا کہ سلمان حیدر نے ایک طرف تو دیوبندی تکفیریت پر کوئی نظم لکھنے سے انکار کیا اور شیعہ نسل کشی پر بائنری پوزیشن لینے والوں کی مذمت نام لیکر کرنے سے گریز کیا اور یہاں تک کہ اس نے نجم سیٹھی ، شیری رحمان ، بینا سرو ، المانہ فصیح ، طارق فتح اینڈ کمپنی کی محمد احمد لدھیانوی ، فاروقی اور اشرفی کی پیس پروموٹر کے طور پر پروجیکشن کی مذمت کرنے سے بھی دوری اختیار کی ، ایل یو بی پاک کا موقف تھا کہ ایسی صورت میں وہ شیعہ نسل کشی کے زمہ داران کو چھپانے والوں کے کیمپ میں ہی کھڑے ہیں اور یہ اپالوجسٹ اور عذر خواہوں کا کیمپ ہے اور اس کے لئے دیوبندی ہونا لازم نہیں ہے بلکہ یہ شیعہ بھی ہوسکتے ہیں جن کو عبدل کوفی زھنیت کے شیعہ قرار دیتا ہے اور اس نے سلمان حیدر کو کوفی ذھنیت کا حامل سیکولر ، لبرل شیعہ قرار دیا اور یہ وہ بات نہیں ہے جو سلمان حیدر نے بنائی ایک صاحب ہیں جو بھینسا کے نام سے موجود ہیں
انھوں نے لکھا ایل یو بی پی نامی ایک سائیٹ جسے ایسے مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے ہیں جن کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں سنی اکثریت سے نفرت کا سامنا ہے اور یہ بات صرف نفرت سے کہیں آگے بڑھ کر باقاعدہ قتل و غارت میں تبدیل ہوچکی ہے اندازہ ہے کہ چند دہائیوں میں محض عقیدے کی بنیاد پر دیوبندی مسلمان دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، اس سٹیٹس کا پہلا جملہ ہی پورے مقدمے کی ایسی تیسی پھیرنے کے لیے کافی ہے ، بھینسا نے یہ فرض کرلیا کہ شیعہ اقلیت ، سنّی اکثریت کی پاکستان کے اندر مسلسل نفرت کا شکار رہی ہے ،،،،، گویا ان کے نزدیک بھی پاکستان کے اندر معاملہ شیعہ - سنّی بائنری اور شیعہ - سنّی جھگڑے کا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ایل یو بی پاک کے ساتھ مری جو ذھنی ہم آہنگی ہے اس کا سبب ہی یہ ہے کہ یہ بلاگ پاکستان سمیت پوری دنیا میں مذھبی دھشت گردی کو شیعہ - سنّی قدیم تاریخی تنازعے میں نہیں دیکھتا اور نہ ہی اسے وہ مسالک کی جنگ سمجھتا ہے ، یہآں تک یہ یہ ، یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ پاکستان کے اندر کوئی دیوبندی - شیعہ جنگ ، خانہ جنگی ہورہی ہے اگرچہ اس کا موقف یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری آئیڈیالوجی کی حامل تنظیميں جن میں سرفہرست سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے عسکری محاذوں پر جو نام ہیں لشکر جھنگوی ، طالبان ، جنداللہ ، جیش العدل ، داعش ، القائدہ ہندوپآک یہ سب یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسالک اور مذھبی برادریاں خانہ جنگی میں ملوث ہوجائیں ، دیوبندی تکفیری فاشزم ایک عفریت ہے اور اس کے خاتمے کے لئے سب کو جدوجہد کرنی چاہئیے اور سوشل میڈیا کے میدان میں اس حقیقت کو چھپانے یا اس کو دھندلانے والے نظریات کے حامل افراد اور گروہوں سے اس کی لڑائی اعلانیہ ہے جو لوگ شیعہ نسل کشی کو " ادلے بدلے " کی زھنیت کا شاخسانہ کہتے ہیں اور جو تکفیری دھشت گردوں کے حامیوں کو پیس پروموٹرز کے طور پر پیش کرتے ہیں اصل میں وہی یہ پروپیگنڈا تیز کرتے ہيں کہ ایل یو بی پاک بلاگ شیعہ - سنّی یا شیعہ - دیوبندی لڑائی کو تیز کرنے کا خواہاں ہے اور اسے کبھی تو آئی ایس آئی کا بلاگ اور کبھی امریکی سامراجی فنڈڈ بلاگ کہا جاتا ہے اور کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک ہی سانس میں اس بلاگ کو راحیل شریف کے تلوے چاٹنے والا اور دوسرے سانس میں اسے امریکی سامراجیت کا فنڈڈ پروجیکٹ قرار دیتے ہیں گویا کبھی آگ تو کبھی پانی میں ایل یو بی پاک کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس نے جب یہ ساری گرد اڑائی جارہی تھی ہوش و خردمندی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اس ساری لڑائی میں جو پردہ نشین چھپ کر وار کررہا تھا اسے سامنے لائے جانے کا بیڑا اٹھایا اب یہ اس پردہ نشین کی بدقسمتی ہے کہ اس دوران دو ایسی حقیقتیں سامنے آگئیں کہ پتہ چل گیا کہ یہ وار کہاں سے کیا جارہا ہے کراچی سیٹزن فورم پر بینا سرور - شیری مافیا کے قبضے کی کوشش کراچی سٹیزن فورم فار پیس ایک ایسا مرکز ہے جو کراچی کے شہریوں نے اپنے طور پر پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص امن کے قیام کو فروغ دینے کے لیے ، بلوچ گمشدگیاں ، شیعہ نسل کشی ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے قتل کو روکنے کے لئے قائم کیا ہے ، اس فورم کی تشکیل کے بعد سے اس فورم پر نجم سیٹھی کی سول سوسائٹی میں موجود لابی یعنی شیری اینڈی کمپنی نے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے ، حال ہی میں ایک سیمینار " ان سائلنسگ پاکستان " کے بینر تلے منعقد کرانے کی بات ہوئی تو مقررین کی فہرست میں بینا سرور نے شیری رحمان کے نام کی شمولیت پر اصرار کیا جس پر اعتراض ہوا اور ووٹنگ کرائی گئی تو اکثریت نے شیری رحمان کو نہ بلانے کے حق میں رائے دی ، جبکہ ادھر حال یہ تھا کہ بینا سرور نے کسی سے پوچھے بنا ہی شیری رحمان کو اس پروگرام میں بطور مقرر دعوت دے ڈالی تھی ، جب شیری رحمان کو مقرر کی بجائے محض ایک سامع کے دعوت کی ای میل روانہ کی گئی تو شیری رحمان نے غصے بھری ای میل لکھی اور یہاں تک کہا کہ میں دیکھوں گی کہ ہمارے بغیر یہ فورم کیسے کام کرے گا جب یہ ردعمل سامنے آیا تو کرامت ، بینا سرور اور دیگر لابی متحرک ہوئی اور اس نے پورا زور لگایا کہ شیری رحمان سیمینار میں بطور مقرر کے آئے لیکن ایسا نہیں ہوسکا تو پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن تھیسس بنانے والا نجم سیٹھی - شیری رحمان - بینا سرور لبرل مافیا اصل ميں سول سوسائٹی کو حقائق سے دور رکھنا چاہتا ہے اور یہ مسائل کے حوالے سے حقیقی ایکٹوازم کی جڑیں ہی ختم کرنے کا متمنی ہے مرے کئی ایک مارکسی دوستوں کا خیال ہے کہ بینا سرور اینڈ کمپنی لبرل کا وہ ٹولہ ہے جو امریکیوں سے ڈالر لیکر کھاتا رہا لیکن چینی لابی کے خلاف کوئی عملی محاذ تشکیل نہیں دے سکا تو اب امریکی فرسٹریشن کا شکار تو ہیں ہی ، وہ اس لبرل ٹولے پر بھی بے پناہ دباؤ ڈالے ہوئے ہیں لیکن یہ بزدل ڈرے ہوئے اور ڈالر میں لتھڑے لوگ " چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گآ " والے ہیں
علی عباس تاج ایڈیٹر انچیف ایل یوبی پاک اور بینا سرور -نجم سیٹھی مافیا
یہ کیسے لوگوں کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں ایل یو بی پاک کے موجودہ ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کی بینا سرور کے ساتھ کام کے دوران ہوئے تجربات و مشاہدات کو پڑھنے سے بھی ہوجاتا ہے بینا سرور اینڈ کمپنی بطور چارے کے کئی ایک پٹھوں کو استعمال کررہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان ٹھگوں کے خلا‌ف سوشل میڈیا وار کی جنگ کو جاری رکھنا چاہئیے میں بلا کم و کاست اس کو اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس داستان سے بہت سے معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی المانہ فصیح جس نے جناب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃ الذھرا رضی اللہ عنھا کی شان میں انتہائی نازیبا کلمات کہے تھے کے خلاف آنے والے ردعمل پر ایک معافی نامہ دیا جس میں اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ بینا سرور سے وہ ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ نہیں ملیں ، یہ دعوی کہاں تک سچا ہے ، اس کا اندازہ علی عباس کی اس آپ بیتی سے آپ اندازہ لگالیں گے بینا سرور سے مرا تعارف ہمارے ایک مشترکہ دوست نے کروایا تھا اور میں ٹیم پاکستان ٹائپ کے اس کے بنائے ہوئے گروپوں میں سے گروپ Fair and Free Journalism کا ایڈمن تھا ، میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی وجہ سے بہت ڈسٹرب تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہآں تھا تاکہ سنّی (صوفی ) ، شیعہ نسل کشی کرنے والے دیوبندی تکفیری گروپوں کو کے خلاف کام کرنے میں مددگار ہوں تو اسی سلسلے میں بینا سرور سے مرا تعارف ہوا اور بینا کے ساتھ کافی کام کرنا شروع کرڈالا مثال کے طور پر جب سماء ٹی وی کی ایک اینکر پرسن مایہ خان نے ایک پارک میں ملنے والے ایک لڑکا لڑکی سے نکاح نامہ طلب کیا تو میں نے اس طالبانی جرنلزم کے خلاف آواز اٹھائی اور بہت محنت سے ایک رپورٹ مرتب کی اور جبکہ اور اس پروگرام کے خلاف کئی ہزار لوگوں کے دستخط بھی کرواکے آگے بھیجے گئے اور اس پر سماء ٹی وی کے سی ای او نے معذرت بھی کی ، بینا نے مرے کام کو پسند کیا
اس قسم کا ایکٹوازم مرے ایجنڈے میں ٹاپ پر نہیں تھا لیکن مجھے یوں لگا کہ اگر میں اپنی توانائی ، وسائل اس کے لیے صرف کروں اور بینا کے لئے اس کی دلچسپی کے میدان میں قابل قدر کام کردکھاؤں تو شاید وہ " شیعہ نسل کشی " کے خلاف بڑی علم بردار بنکر سامنے آنے پر تیار ہوجائے گی میں نے بینا کے لیے بہت سے پیجز ، گروپس جن میں سے کئی ایک کا میں ایڈمن بھی تھا کام کیا ، وقت ، وسائل سب کچھ دیا بینا اور ان کے دوست اگرچہ شیعہ نسل کشی بارے بعض اوقات بہت اچھے آرٹیکل اور پوسٹ شئیر کرتے تھے لیکن وہ سب کے سب ایل یو بی پاک سے بہت بیزار تھے اور یہ بات میرے لئے حیرانی کا سبب بنتی تھی ، کیونکہ مجھے ایل یو بی پاک کی پوسٹس بہت پرمغز و پرمعنی لگتی تھیں ایل یو بی پاک کے بانی مدیر عبدل نیشاپوری نے مجھ سے اس وقت رابطہ کیا جب میں اپنی بیوی ، بچوں سمیت امریکہ میں سعودی سفارت حانے کے سامنے شیخ نمر کی رہائی کے پلے کارڑ اٹھائے کھڑا تھا اور یہ مظاہرہ تو اس وقت کی تمام مساجد میں آنے والے نمازیوں کو کرنا تھا لیکن کوئی نہ آیا اس ڈر سے کہ سعودی عرب کا ویزہ نہیں ملے گآ جبکہ حج فرض ہے تو وہ کیسے ادا گآ
ناداں سجدے میں گرپڑے جب وقت قیام آیا تو ایسے ایل یو بی پاک سے مرا تعلق بنا اور میں نے ایل یو بی پاک کے لئے لکھنا شروع کردیا اور جب عبدل نیشاپوری کو بوجہ ادارت سے الگ ہونا پڑا تو میں اس کا ایڈیٹر بن گیا جیسے ہی میں ایل یو بی پاک کا مدیر بنا تو مجھے معلوم ہوا کہ بینا سرور اس بلاگ کی اکثر پوسٹوں سے مطمئن تھی لیکن نجم سیٹھی کے بارے میں کسی بھی بلاگ کی تحریر کو پوسٹ کرنے یا نہ کرنے میں وہ اپنی رائے کو حتمی کے طور پر منوانا چآہتی تھی ، ایک عرصہ تک روزانہ ہم دونوں " نجم سیٹھی " پر لکھی جانے والی تحریروں پر بات ہوتی رہی اور سیٹھی پر کوئی ناقدانہ تحریر نہ چھپ پائی لیکن اخرکار مجھے شرح صدر ہوگیا کہ ایل یو بی پاک کے بلاگرز نجم سیٹھی کو ٹھیک بے نقاب کررہے تھے تو میں نے ان پوسٹوں کو شایع کرنے کی اجازت دے ڈالی تو اس موقعہ پر میری اور بینا سرور کی دوستی اپنے اختتام کو پہنچی ہماری دوستی میں سردمہری کیا آئی ، بینا سرور نے شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اپنی دلچسپی بالکل ہی کم کردی اور نہ ہی اب اس کو #takfirideobandi Hash Tag
استعمال کو بھی بند کردیا یہ دیکھکر میں نے بینا کو کہا
" سیٹھی کے بارے میں ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن شیعہ نسل کشی کے خلاف ہمارا کاز اس سے متاثر نہ ہو " اس پر بینا سرو کا جو جواب آیا وہ بہت ہی شاکنگ تھا اس نے کہا
It was a quid pro Quo
بینا سرور کے مطابق " شیعہ نسل کشی ، ادلے بدلے یعنی شیعہ کے کرموں کا پھل ہے مطلب یہ ہوا کہ یہ نسل کشی نہیں بلکہ دو طرفہ جنگ ہے المانہ فصیح جو یہ کہتی ہے اپنے مفروضہ معافی نامے میں کہ وہ بینا سرور سے ایک یا دو مرتبہ ملی ہے بینا کی وہ بہترین دوست تھی جو مرے بھی جاننے والی تھی اور بنیا سے مری ملاقات اسی نے کروائی تھی میں کہتا ہوں کہ جب سے شیعہ نسل کشی پر اس کی مداہنت واضح ہوئی تو میں نے تو جتنے بھی پیجز و گروپ اس کے ایڈمن کررہا تھا کہ کل سارے چھوڑ ڈالے اور پھر کبھی بینا سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن بینا نے ان پیجز کو ایکٹویٹ کرنا ترک نہیں کیا اور جب المانہ فصیح کا تکفیری خارجی رنگ ابھرا تو سب سے پہلے اس کے بچاؤ میں بینا سرور آئیں میں بینا سرور کے کام کے سارے طریقہ کار کو کو بہت قریب سے جانتا ہے اور میں یہ شبہ کرتا ہوں کہ اس اپالوجی کو بھی بینا سرور نے ہی ڈرافٹ کیا ہے اور وہی اس کو معذرت نامے کو پھیلارہی ہے بینا نے اپنی اسسٹنٹ المانہ فصیح کو اس کے نازیبا کلمات بارے باور کرانے اور اس سے غلطی کی تلافی کرانے کی بجائے بلاسفیمی کارڑ کھیلا اور اس کارڑ کو اپنے لوگوں کو ایل یو بی پاک کے خلاف استعمال کرنے کو کہا ، بینا سرور کے اشارے پر " فری سیکس " کی تبلیغ کرنے بلکہ اس کو آسیب کی طرح اپنے اوپر سوار کرلینے والی عورت شازیہ نوآز کو ایل یو بی پاک کے پیچھے لگایا اور محسن سید جیسے معقول لوگوں کو ہم سے متنفر کرنے کے لیے چالاکی سے کام لیا بینا سرور کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس نے اول دن سے نجم سیٹھی مافیا کو کور کرنے کا کام سنبھال رکھا ہے اور وہ یہ کام کرنے کے دوران کسی اخلاقیات کو خاطر میں نہیں لیکر آتی میں ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر کے طور پر بہت واضح طور پر بتادینا چاہتا ہزں کہ بینا سرور کے بارے میں یہ آگاہی پھیلاؤ پروگرام کسی زاتی پرخاش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ بینا سرور کی جانب سے شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن خیالات پھیلانے ، اسے " ادلے کا بدلہ " قرار دینے اور پاکستانی ميڈیا میں خبروں کے سیلف کنٹرول کو بے نقاب کرنے کا معاملہ ہے بینا سرور - نجم سیٹھی - شیری رحمان ایںڈ کمپنی ایک مافیا ہے جو تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے ہمدردوں اور محافظوں جیسے احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی ، اورنگ زیب فاروقی کو امن کا پروموٹر بناکر پیش کرتا ہے اور نیوز کنٹرول کرکے لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے بینا سرور ، نجم سیٹھی کو کس نے اختیار دیا کہ وہ لوگوں کو بیوقوف بنائیں اور اپنے لوگوں کو پہلے استعمال کریں ، جب وہ کہیں ایکسپوز ہوں تو ان کے سٹیٹس ہٹائیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں میڈیا آزاد نہیں ہے ، یہ فیور اور زاتی مفادات کے سسٹم کے تابع کام کرتا ہے اور یہ خبروں کو پھیلانے سے زیادہ ان کو اپنے مفادات کے مطابق ان کی مینوفیکچرنگ کرنے اور ان کے خلاف جانے والی نیوز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ ہم اس ناجائز نیوز کنٹرول کے خلاف کام کرتے رہیں گے