Showing posts with label Fake liberals. Show all posts
Showing posts with label Fake liberals. Show all posts

Friday, July 3, 2015

چہ ارزاں فروختند ،،،،،،،،،،، مظلوموں کے خون کی تجارت کرنے والوں سے درخواست کیسی

رباب مہدی ، بینا سرور اینڈ کمپنی اس بچے کو ھاوس آف لارڈ میں لیکر گئیں اور جو سکرپٹ پڑھنے کو دیا اس میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی شناخت کو چھپادیا ، یہ ایک ثبوت ہے جلد رباب کی اپنی تقریر بھی شئیر کروں گا
یہ ویڈیو رباب مہدی کے جھوٹ ، مکاری ، مکر کا پول کھول کر رکھدیتی ہے
یہ halal-tweet کو فالو کرنے والوں کی لسٹ ہے ، کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی

ایل یو بی پاک کی جانب سے یہ اس کے ایڈیٹر انچیف نے علی مشہدی عرف علی ناطق کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے ، یہ خط اس آدمی سے یہ درخواست کررہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی صف سے ان لوگوں کی مذمت کرے جنھوں نے امام علی ، جناب فاطمہ ، امام مہدی کے بارے میں توھین آمیز ، اشتعال انگیز اور انتہائی لچر ، تھرڈ کلاس گفتگو کی ، جنھوں نے اس طرح کی گفتگو کرنے والوں کی حمائت کی اور اس طرح کی گفتگو کی مذمت کرنے والے ایل یو بی پاک کو گروہ قاتلان و تکفیریان کہا اور جو ایل یو بی پی کی حمائت میں آیا وہ بھی گردن کشتنی کے قابل ٹھہرگیا،( اس کی ایک مثال تو میں ہوں )  کیسے ، کیسے تماشے اس دوران ہوئے کہ ایک المانہ فصیح کو بچانے کے لئے اس کی انچارج بینا سرور کے اشارے پر نامور شیعہ  نوجوان ایکٹوسٹ جوکہ ہر کسی کے لتے لینے میں ماہر تھے ، منور حسین امیر جماعت اسلامی نے جب یزید و حسین کی جنگ کو شہزادوں کی جنگ کہا ، زاکر نائیک نے یزید کو سیدنا کہا اور جناب حسین کو باغی قرار دیا ، حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والوں اور داعش کے حق میں بیان دینے والے مولوی عبدالعزیز ، جاوید غامدی کی جانب سے واقعہ کربلا کو ٹوئسٹ کرنے پر روشنی کے پیج پر پیج سامنے آئے ، سیلاب سے لوگ مرے تو نواز شریف کی گت بنائی گئی ، ایک خاتون نے شیعہ نسل کشی کا انکار کیا تو پیپسی ، کوک برگر کی کہانی پر پوسٹر سامنے آئے ، روشنی کو برا بھلا کہنے والوں کے خلاف پوسٹرز سامنے آئے لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ المانہ فصیح کے باب میں زبان کنگ ہوگئی ، لب سوگئے ، دماغ کی بتی گل ہوگئی کہ اس کی مذمت کرنے کا خیال تک نہ آیا ، پھر جب المانہ فصیح کے بارے میں اس نامور شیعہ ایکٹوسٹ نے اپنی وال پر علی عباس اور خرم زکی کے کمنٹس ھٹادئے ، یہ بھی نہیں سوچا کہ مذمتی کمنٹس دینے والے مذمت اس کی کررہے تھے جس نے امام علی و فاطمہ کی تقدیس کا خیال نہیں رکھا تھا اور پھر جب اس سے بطور بھائی پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے تو انانیت اور تکبر سے بھرا اسقدر فرعونیت پر مبنی رویہ سامنے آیا کہ میں تو دنگ رہ گیا اور حیران ہوگیا ، عربی میں ایک لفظ ہے الدلخصام یعنی سنت جھگڑالو ، اکھڑ ، بدتمیز ، انتہائی بد لحاظ اور کینہ پرور اونٹ ، اونٹ جس سے کینہ رکھ لے اس کو کبھی بھی سامنے آکر نہیں للکارتا پہلے سازش سے اس کے کمزور پڑنے کا انتظار کرتا ہے ،
بینا سرور جو اس ساری مہم کی انچارج ہے اس نے اس شیعہ ایکٹوسٹ کی کمزوری بھانپ لی تھی اور اس نے صرف اسی شیعہ ایکٹوسٹ کی کمزوری نہیں بھانپی بلکہ اس نے منافقت میں پی ایچ ڈی اور جھوٹ و عیاری و مکاری میں تخصص کرنے والی " سیدہ رباب مہدی رضوی ولد ملک عضنفر مہدی بھٹوی ثم ضیاع الحقی ثم بے نظیری ثم نازوی " کی کمزوری بھی بھانپ لی کہ دونوں کا ایک ہی ماٹو اے
مینوں نوٹ وکھا ، میرا موڈ بنے
شیعہ خون کی تجارت گذشتہ سالوں کے اندر ایک منافع بخش تجارت کا روپ اختیار کرگئی ہے ، شیعہ نسل کشی کا علمبردار اپنے آپ کو بتلائیں اور شیعہ امراء اور شیعہ پروفیشنل کو اپروچ کریں مال بٹوریں ، دوسری طرف بہت سی ڈونر مغربی ایجنسیاں بھی اس ایشو پر کافی فنڈز رکھتی ہیں اور ان کو بھی اپروچ کرنے کے لئے آپ کے پاکستانی لبرل کمرشل مافیا سے تعلقات اچھے ہونے کی اشد ضرورت ہے لیکن ڈالر اور ہونڈ کے لئے شیعہ خون کا واویلا مچانے والے یہ بنیئے اور کھتری کسی بھی موقع پر اپنی جان خطرے میں ڈالنا پسند نہیں کرتے ، اس لئے ان کے ہاں یہ اصول رہا کہ حسین سے بھی دوستی کا دعوی رکھا جائے اور یزید سے بھی تعلقات بہتر بناکر رکھے جائیں اور اس کے لئے کمرشل لبرل مافیا اور سابق دیوبندی حال لے ملحدین گروپ بھی کام آتا ہے ، علی ناطق سے زیادہ یہ بات رباب مہدی اور اس کے ابا جان پر صادق آتی ہے ، رباب مہدی ، علی ناطق ، انور درانی عرف علی ارقم ، سلمان حیدر ، ایاز نظامی ، ایس ڈبلیو جے ، طاہر اشرفی یہ سب کے سب ایک طرف تو المانہ فصیح والی اپیسوڈ کے بعد اچانک پھر سے ایکٹو ہونے والے یا نئے سامنے آنے والے اکاونٹس جن میں جھوٹ کا تومار باندھا گیا کو فالو کرنے والے بنے بلکہ ان کے ٹوئٹس ، فیس بک تھریڈ اور بلاگ پوسٹس کو شئیر کرنے لگے اور سب کا ھدف ایل یو بی پاک تھا کیونکہ ایل یو بی پاک نے کمرشل لبرل مافیا ، بینا سرور کی خواہش پر نجم سیٹھی کی منافقت کو طشت ازبام نہ کرنے اور المانہ فصیح کی ھذیان و ہفوات کی مذمت کرنے سے دستبردار ہوجانے اور ان سب کو چھپالینے کے مشورے کو ماننے سے انکار کیا

Halal-Tweet , Unmaskingtraitor , LUBP Exposed ,
یہ وہ فیک جعلی اکاونٹس ہیں جن پر جعل سازی ، جھوٹ اور تہمات کا طوفان کھڑا کیا گیا ، سانپ جیسی فطرت رکھنے والے اس مافیا نے کس طرح سے جال بنا

ایل یو بی پاک کی کسی پوسٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ اس نے المانہ فصیح کے خلاف بلاسفیمی ھتیار استعمال کیا ہے تو اس مقصد کے لئے
Halal-Tweet
نے
Forged status and forged tweets screen shots
بنائے جن کا پول کھل گیا ، اس میں ایل یو بی پاک اور مجھے تکفیری و مذھبی جنونی ، قاتل گروہ ثابت کردیا گیا تھا لیکن نقل کے لئے جس مطلوبہ عقل کی ضرورت تھی وہ کینے ، بغض اور سخت نفرت کے گرداب میں سلب ہوگئی اور ہوا یہ کہ علی عباس تاج کے 2013ء کے فیس بک سٹیٹس کی تھریڈ میں جعل سازی کے دوران تاریخ بدلنا بھول گئے ، یہ ٹوئٹس علامہ ایاز نظامی سمیت اس سارے گروہ نے بڑے شوق سے شئیر کئے اور اپنی طرف سے ایل یو بی پاک اور مجھے صف سیکولریان و لبریان و ترقی پسندان سے خارج کردیا گیا

ایک اکونٹ ورڈ پرہیس پر بلاگ ، ٹونئٹر و فیس بک پر
Unmaskingtraitor
کے عنوان سے بنایا گیا اور یہاں بھی عقل سلب ہوئی تو اپنی ہی فیس بک وال کا سکرین شاٹ ڈال بیٹھے اور جب اس کی نشاندہی کی گئی تو بوکھلاہٹ میں اسے ڈیلیٹ کردیا گیا ، اس جعلی اکاونٹ پر خود کو ایل یو بی پی بنکر خود کو گالیاں نکالی گئیں اور خود کو دیوبندی کہا گیا اور یوں خود ساختہ شہید بننے کی کوشش کی گئی

علی ناطق اور سلمان حیدر نے اس جعلی کھاتے میں اپنے آپ کو دی گئی گالیوں اور مغلظات کو ایل یو بی پاک کے کھاتے میں ڈالا اور یوں شیعہ کمیونٹی کے اندر مظلوم بننے کی کوشش کی ، لبرل حلقوں کو کہا
دیکھو ہماری ساری کوششوں کا صلہ یہ دیا گیا کہ ہمیں دیوبندی بنادیا گیا ہے
ایک پنتھ دو کاج والی مثال صادق آگئی کہ سپاہ یزید والوں کو بھی یقین دلایا گیا کہ
دیکھو ہمیں تمہاری نشاندھی نہ کرنے کے جرم کی سزا دی جارہی ہے
اور اس مہم میں وہ سارے منافق ایک دوسرے کے عندلیب بنکر آہ و زاریاں کرنے لگے جن کو ایل یو بی پاک نے بے نقاب کرڈالا تھا
پھر یہ سارے آہستہ آہستہ پکڑے گئے ، علی ناطق نے بہت ہی چتر چالاکی سے کام لیا کہ ایک طرف تو کہا کہ دیکھو میں تو خاموش ہوں اور اس طرح ایل یو بی پاک والوں سے دو سے تین ہفتے لے لئے جو ان کو سمجھنے میں لگے اور اس دوران اس نے ایک طرف تو ایل یو بی پاک پر سائبر اٹیک کیا تاکہ ایل یو بی پاک کا کام ہی تمام ہوجائے ، دوسرا اس نے کئی جعلی اکاونٹ بنائے اور وہاں سے پروپیگنڈا شروع کردیا ، جیسے ہی ایل یو بی پاک نے اس سارے جال کو تار تار کیا تو اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کہ جھوٹے الزامات لگاکر الٹا خود ہی رونا شروع کردیا ، معاملہ پٹھان اور کمزور آدمی والا ہوا کہ پٹھان کو نیچے گراکر زور زور سے رویا جارہا تھا لوگوں نے پوچھا کہ بھائی روتے کیوں ہو کہا یہ جب اٹھے گا تو مجھے خوب مارے گا

ایسے ہی شور رباب مہدی نے بھی مچایا ، اس نے بھی بجائے اس کے کہ اعلانیہ توھین اہلبیت کرنے والوں کی مذمت کرتی ، الٹا اس ،مذمت کرنے والوں کو چور بناڈالا ، ویسے اسے چ سے شروی ہونے والی گالیاں اور کوسنے دینے کا بہت شوق ہے اور معصوم بننے کا یہاں تک ڈرامہ کرتی ہیں موصوفہ کہ حیدر جاوید سید کو لندن سے فون کرکے کہتی ہیں کہ
Ali Arqam Aka Anwar Durrani who cursed Imam Mehdi is son of ayazid and Illmana Fasih who used abusive language against Ahl bait is daughter of Yazeed

لیکن حیرت در حیرت کہ اپنے ٹوئٹس میں اور اپنی فیس بک تھریڈ میں وہ المانہ فصیح کخ مذمت کرنے والوں کو چ یا کہتی ہے اور حسین حقانی سے کہتی ہے کہ ایل یو بی پاک کے خلاف بیان دیں اور جب فرح ناز اصفہانی و حسین حقانی ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو
Halal-Tweet and LUBP Exposed
ان کے خلاف سرگرم ہوتا ہے اور ایل یو بی پاک کا سرپرست اعلی حسین حقانی کو قرار دیا جاتا ہے اور پاک فوج سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان غداروں کی سرکوبی کرے
ادھر لبرل کمرشل مافیا کی سرغنہ بینا سرور کہتی ہے کہ
ایل یو بی پاک اسٹبلشمنٹ کے تنخواہ دار ایجنٹوں کا ٹولہ ہے
یہ گردان نام نہاد مارکسسٹ اور اندر سے دلپذیر دیوبندی تکفیری فہد رضوان بھی
اور ایک جانب سے

Ajerresalat and  jaffary72
Facebook pages
پر رباب ایک ویڈیو  لوڈ کرتی ہے اور مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہے اور جب اس کے جھوٹ کا پول کھولا جاتا ہے تو پردے کے پیچھے خاموش کرانے کے لئے بہت سے زریعے استعمال کئے جاتے ہیں اور میں سادہ دل حیدر جاوید سید کی یقین دھانی پر اعتبار کرکے سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا ہوں لیکن اس سٹیٹس کو 72 گھنٹے بھی نہیں گزرتے دوسری ویڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے اور جب اس ویڈیو میں موجود جھوٹ کا پردہ فاش کیا جاتا ہے تو ایک مرتبہ پھر جھوٹے ٹسوے بہائے جاتے ہیں

یہ خود ساختہ قسم کے جھوٹے مظلوم اور جھوٹے شہید اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے درخواست کی جائے ، ان سے کہا جائے کہ اپنے دوستوں کی مذمت کرو

میں کہتا ہوں جو اہل بیت جیسی ھستیوں کے بارے میں لچر بازی کرنے والوں کو اپنا دوست رکھے ، ان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائے ، ان کی خاطر لچر بازی کی مذمت کرنے والوں کے خلاف ایک محاز کھڑا کردے اس شخص  سے ایسی درخواستیں فضول ہیں ، عمار کاظمی کے توسط سے علی عباس کو دیا جا ے والا جواب کافی نہیں تھا جو اب یہ خط لکھ دیا گیا
جس نے شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تاریکی کی قوتوں سے دوستی کرلی ہو اس کی مذمت بھی کسی کام کی نہیں ہے

یہ بے ایمان ، شیعہ خون کا سوداگر ٹولہ اس قابل نہیں ہے کہ ان سے کوئی رعائت رکھی جائے

Halal-Tweet
کو فالو کرنے والوں کی فہرست نکال لی جائے پتہ چل جائے گا کہ کون سا کلب اس وقت ایل یو بی پاک کے خلاف سرگرم ہے
علی ناطق سے لیکر طاہر اشرفی تک اور وہاں سے اے ایس ڈبلیع جے تک اور اس سے آگے بینا سرور تک بہت سارے نام ہیں ، ہوسکتا ہے اس فالوئنگ میں کچھ نام
Just ubdate
رہنے کے لئے ہوں مگر اس کی غالب فالوئنگ یہ بتاتی ہے کہ سارے منافقین کوفہ ایک جگہ پر جمع ہیں

علامہ ایاز نظامی رباب مہدی کو بہن اور علی ناطق کو بھائی کہتا ہے ، علی ارقم کے ساتھ رشتہ محبت ہے ، منیب ساحل کو ڈی ایم بھیجا جاتا ہے اے ایس ڈبلیو جے سمیت سب ھلال ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں ، اس کی جعل سازی کو سچائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، یہ سارا ٹولہ الگ نہیں ہے ایک ہے اور ان سب کا اتحاد از بات پر ہوا ہے کہ لبرل کمرشل مافیا جو دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کو امن کا سفیر بنانے پر تلا ہے اس لا تحفظ کیا جائے اور اس کے لئے توھین اہل بیت بھی برداشت کرلی جائے اور یہ سب ناطق سے لیکر رباب تک اور آگے علی ارقم تک زر اور شہرت و ناموری کی ہوس کے لئے کیا جارہا ہے

علی ناطق توھین اہل بیت کرنے والوں کی مذمت نہیں کرے گا
رباب کبھی اعلانیہ علی ارقم کو پسر یزید اور المانہ کو بنت یزید نہیں لکھے گی
کیوں کہ ایسا کرنے سے گمنامی کا خطرہ ہے ، فنڈز بند ہوجانے کا اندیشہ ہے اور لبرل کمرشل مافیا کی جانب سے رجعت پسندی کا فتوی لگ جانے کا اندیشہ ہے ، اب اتنی بڑی قربانی شیعہ نسل کشی مہم کی تجارت کرنے والوں کے بس کی بات نہیں ہے
ٹٹ پونجیا ، تھڑے باز ، لونڈے لپاڑے ، چو ...یا اور بہت سی سلینگ ان سول سوسائٹی کی سولائزڈ پرسانلٹی کی تھریڈز میں بکثرت استعمال ہورہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس جگہ پر اننکی تربیت ہوئی ہے ، اس قدر بکواس کرکے اپنے آپ کو بے نقاب کرنے کی ہمت تو کبھی لدھیانوی و فاروقی و اشرفی کو نہیں ہوئی ، یہ عصر حاضر کے جعفر کذاب ہیں جن کو آئینہ دکھایا جانا ہی بہتر ہے


Wednesday, July 1, 2015

زید حامد : اس کی کھینچ لے زبان ، سعودیہ تو رہے سدا

پاکستان کی وزرات خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار قاضی خلیل اللہ نے اب یہ تصدیق کردی ہے کہ معروف تجزیہ کار ، سکالر زید حامد کو سعودی عرب نے مدینہ جیل میں ڈال رکھا ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مدینہ منورہ میں سعودی حکمران خاندان اور اس کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی اور ایک تقریر بھی کی تھی جبکہ قاضی خلیل کا کہنا ہے کہ مدینہ جیل میں زید حامد تک ان کو رسائی نہیں دی گئی جبکہ ان کی کوششوں سے زید حامد کی اھلیہ کی مدینہ منورہ کی جیل میں ان سے ملاقات ممکن ہوگئی ہے ، سعودی حکام نے قاضی خلیل اللہ کے بقول زید حامد کو سزا کی تصدیق یا تردید نہیں کی

دوسری جانب مختلف خبر رساں ایجنسیوں ، اخبارات اور ٹی وی چینلز کی رپورٹ کے مطابق زید حامد کو سعودی حکام نے 8 سال قید اور 100 کوڑوں کی سزا سنائی ہے

آل سعود کی جزیرتہ العرب ، نجد اور طائف و یمن کے بعض صوبوں پر زبردستی قائم کی گئی حکومت کے جابر ، ظالم ، خونخوار ، مذھبی جنونی اور مطلق العنان  ملوکیت کے بارے میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہے اور ذید حامد سے سعودی حکام بھلا کیسے خوش ہوسکتے تھے کہ اس کو وہ نظر انداز کردیتے

زید حامد وہ واحد پاکستانی تجزیہ کار ہیں  جنھوں نے مین سٹریم میڈیا پر پبلک میں آکر سعودی عرب کی قیادت میں گلف ریاستوں کے جابرانہ ، ظالمانہ اور انتہاپسندانہ طرز حکومت پر شدید تنقید کی اور آل سعود کو خوب بے نقاب کیا ، اور یمن کے سوال پر بھی انھوں نے پاکستانی مین سٹریم میڈیا پر چھائے تجزیہ کاروں ، اینکر پرسنز ، کالم نگاروں سے ھٹ کر موقف اختیار کیا

دن ٹی وی چینل نے ان کے کئی ایک خصوصی انٹرویوز اردو اور انگریزی میں چلائے ، جس میں انھوں نے سعودی عرب کی تشکیل ، آل سعود کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی جبکہ انھوں نے اپنا سارا فوکس اس بات پر رکھا کہ سعودی عرب عالم اسلام کا تو کیا سنی اسلام کا بھی قائد نہیں ہے

زید حامد نے پاکستان کے اندر سعودی نواز ملاوں ، سیاست دانوں ، میڈیا پرسنز اور پاکستان کے اندر سعودیہ کی سب سے بڑی پراکسی دیوبندی فرقہ پرستوں کو ٹف ٹائم دیا اور اگر یہ کہا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا کہ
He emerged as hard challenger for Deobandization process and forces involved in promoting this process in Pakistan.

زید حامد سعودی عرب اور اس کی سب سے بڑی پراکسی کے لئے اس لحاظ سے بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھے کہ وہ مسلک کے اعتبار سے شیعہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا دور ،دور تک ایرانیوں سے کوئی رشتہ بنتا ہے ، بلکہ وہ سی آئی فنڈڈ نام نہاد جہاد افغانستان اور آئی ایس آئی بیسڈ جہاد کشمیر میب بڑی سرگرمی کے ساتھ شریک رہے تھے اور وہ تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو بھی سپورٹ کرتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان دونوں پراکسی نام نیاد جہاد پر جماعت اسلامی ، دیوبندی اور سلفی عسکریت پسندوں کے غلبے کے سخت مخالف ہوگئے اور اب جب پاکستان کی فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو وہ اس کے بھی سب سے بڑے حامی بنکر سامنے آئے تو ایسے آدمی کی جانب سے سعودی عرب کے سنی اسلام کے قائد ہونے کے دعوے کو سختی سے جھٹلانے اور اس کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کے روکنے کے لئے یہ روائتی پروپیگنڈا کام آنے والا نہیں تھا کہ وہ ایرانی ایجنٹ ہیں ، شیعہ لابی سے تعلق رکھتے ہیں ، اس لیے زید حامد کو پاکستان کے اندر سعودی نواز دیوبندی لابی کبھی تو یوسف کے نام کے ساتھ نتھی کرتی رہی اور کبھی گوہر شاہی کے اور مقصد اس کے خلاف بلاسفیمی کے ھتیار کا استعمال تھا ، لیکن زید حامد ان کے قابو نہیں آسکا

پھر زید حامد کا صوفی سنی ہونا بھی ایک بڑی روکاوٹ بنا ہوا تھا ، اس کے خلاف اگر شرک ، بدعت کا ھتیار استعمال کیا جاتا تو سعودی نواز دیوبندی لابی کی جانب سے سنی ازم کی علمبرداری کا جو راگ الاپا جارہا تھا وہ غیر موثر ہوجاتا

اگر میں یہ کہوں کہ زید حامد کی جانب سے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں القائدہ ، طالبان ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ، داعش اور ان کی نام نہاد جہادی فکر و پالیسی سے اتفاق کرنے والی جماعتیں جیسے جے یو آئی ، جماعت اسلامی ، وفاق المدارس کی مخالفت اور ان کی سلفیت کو سنی اسلام سے متصادم قرار دینے پر اصرار سعودی نواز جماعتوں کے اس پروپیگنڈے کے لئے کاری ضرب تھا کہ

پاکستان میں ایران ، شیعہ توسیع پسندانہ عزائم موجود ہیں اور یہ پاکستان کے لئے ایران واقعی ایک سریس معاملہ ہے اور شیعہ کی توسیع پسندی اگر روکی جاسکتی ہے تو وہ سعودی عرب کی قیادت میں چل کر روکی جاسکتی ہے

یہ جو

False Shia - Sunni binary or Saudi - Iran binary

ہے اس کا استعمال کرنے کا مقصد ایک جانب سعودی نواز سیاست دانوں ، مولویوں ، صحافتی بریگیڈ کے سعودی نواز ہونے کا جواز پیش کرنا ہے تو ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سلفی و دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے ھاتھوں مارے جانے والے شیعہ کے قتل کا جواز اور صوفی سنی نسل کشی پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے

زید حامد دائیں بازو کی مذھبی پرتوں میں ایک ایسے صوفی سنی ڈسکورس کو سامنے لیکر آرھا تھا جو

False binaries
کا رد تھا اور ساتھ ساتھ وہ پاکستانی سماج کے اندر تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے دیوبندیانے جانے کے پروسس کے آگے بند باندھنے کی کوشش بھی ، یہ ایسا ڈسکورس ہے جسے اس ملک کی اکثریتی صوفی سنی آبادی کی تائید مل رہی تھی اور ظاہر سی بات ہے کہ سعودی عرب اور آل سعود کے وفادار زید حامد کے بارے میں مکمل رپورٹس سعودی سفارت خانے تک روانہ کررہے ہوں گے اور کبھی اس زمانے کی سعودی سفارت خانے کی کیبلز سامنے آئیں تو بہت سے چہروں پر چڑھا پاکستانی نقاب اتر جائے گا اور اندر سے وہ بھی لبنان کے سیاست دانوں ، اینکرز ، صحافیوں اور ملاوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی طرح سعودی عرب کے ھاتھوں بکے نظر آئیں گے

زید حامد کے خلاف پاکستان میں تو یہ لابی کچھ نہیں کرسکی لیکن سعودی حکومت کو زید حامد کے عمرے کے لئے سعودی عرب جانے اور مدینہ میں حکومت کے خلاف ایک تقریر سے موقع مل گیا ، اس نے سارے سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے زید حامد کو ملک بدر کرنے کی بجائے قید میں ڈال دیا اور اب ان کو آٹھ سال قید سنائے جانے کی خبریں بھی آرہی ہیں جب کہ سو کوڑے الگ ہیں

زید حامد کی گرفتاری کی سب سے پہلے خبر دن ٹی وی چینل نے چلائی تھی لیکن اس وقت مین سٹریم میڈیا کے باقی چینلز نے اس خبر کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ اس گرفتاری کو مشکوک بنانے کی کوشش ہوئی ، پھر اس گرفتاری کو مذاق بنانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر بھی ایسا لگنے لگا جیسے کہ زاہد حامد سعودی عرب منشیات لیجاتا پکڑا گیا ہو

یکم جولائی 2015 ء کو پاکستانی سفارت نے جب زید حامد کی گرفتاری کی تصدیق کی تو میڈیا نے گرفتاری کی خبر تو دی لیکن ساتھ ہی قدرے طنزیہ انداز بھی اختیار کیا

اس معاملے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک سیکشن کی خاموشی معنی خیز ہے ، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان یا کسی اور بڑی تنظیم کی جانب سے تاحال زید حامد کی سعودی عرب کی حکومت پر تنقید پر گرفتاری کی مذمت نہیں کی گئی ، نہ ہی کسی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، ان کی خاموشی سے کئی سوال جنم لے رہے ہیں ، سب سے زیادہ سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کے آزادی اظہار کو بند کرنے کے حوالے سے جب رائف بداوی کا کیس سامنے آیا تھا اور ان کو سزا سنائی گئی تو پاکستان میں بھی اس پابندی کے خلاف سوشل میڈیا ، پریس میں لبرل حلقوں کی جانب سے بہت طاقتور طریقے سے آواز اٹھائی گئی ، انسانی حقوق کی پامالی قرار دیکر بہت سی آوازیں ہمارے کانوں تک پہنچی تھیں لیکن زید حامد کی باری  میں وہ سب مہر بہ لب ہیں ، کیوں ؟

کیا زید حامد بھی پابند زبان و بیان کا شکار نہیں ہوا ؟ اس کو بھی سعودی حکومت پر تنقید کے جرم میں گرفتار نہیں کیا گیا ، جیسے رائف بداوی کو کیا گیا تھا ، ہاں ایک فرق ہوسکتا ہے اور وہ ہے دونوں کی فکری جہتوں کے مختلف ہونے کا ، ایک سنٹر لبرل نظریات کا حامل ہے تو دوسرا سنٹر رائٹ کا ، لیکن اس سے ایک آدمی کے بنیادی انسانی حقوق تو سلب نہیں ہوجاتے اور آل سعود کی حکومت پر تنقید کرنے پر زید حامد کی قید اور کوڑوں کی سزا بالکل ویسا ہی جرم ہے سعودی حکام کا جیسا رائف بداوی اور ولید ابوالخیر کے معاملے میں ہوا
ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ہے کہ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے 21 ویں ترمیم کے زریعے فوجی کورٹ قائم کیں اور سزائے موت پر سے پابندی ختم کی تو پاکستان کی اکثر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ، عاصمہ نے فوجی عدالتوں کو رد کیا اور دہشت گردوں لے بنیادی انسانی حقوق پر بھی زور دیا گیا ، لیکن زید حامد کے معاملے میں یہ سب کچھ کسی نے تادم تحریر نہیں دیکھا ، انسانی حقوق پر یہ دوہرے معیار آخر کس چیز کی علامت ہیں ؟

زید حامد کے ساتھ بہت سارے معاملات میں اختلاف اور اس کا بعض جگہوں پر شاونسٹ پاکستانی نیشنلزم اور اس کی دائیں بازو کی روائت اور انڈیا کے حوالے سے انتہائی رجعت پسندانہ خیالات سے میری بیزاری کے باوجود میں زید حامد کی سعودی عرب میں گرفتاری کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی خیال کرتا ہوں ، جیسے میں مصر میں محمد مرسی کی گرفتاری ، اس کے تختہ الٹائے جانے  کی مذمت کرتا رہا ہوں حالانکہ اخوان المسلمون کی نہ تو فلاسفی سے مجھے اتفاق ہے نہ ہی ان کے وژن  سے