“The oppressed are allowed once every few years to decide which particular representatives of the oppressing class are to represent and repress them.” ― Karl Marx
Tuesday, July 27, 2010
Saturday, July 17, 2010
کالعدم تنظیمیں نہ صرف مدارس چلا رہی ہیں بلکہ وہ اپنا لٹریچر چھاپنے کے ساتھ ساتھ آزادی سے جلسے جلوس بھی کر رہی ہیں
سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم سے بات چیت
عامر حسینی
صاحبزادہ فضل کریم کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ وہ معروف عالم دین مولانا سردار احمد رضوی کے صاحبزادے ہیں۔ فیصل آباد سے وہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہ انتخاب انہوں نے مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔ وہ مرکزی جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر بھی ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر کی تنظیموں کے اتحاد ’سنی اتحاد کونسل‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے ان سے خصوصی بات چیت کی گئی جو قارئین کی نذر ہے۔
ہم شہری: ملک میں دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب کے مرکز لاہور میں حضرت علی عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا مزار بھی اس کا نشانہ بنا۔ حکومت اس کی روک تھام کیوں نہیں کر پا رہی؟
فضل کریم: میرے خیال میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو نہ پانے کی سب سے بڑی وجہ تو حکومت کا اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کا حال یہ ہے کہ اس نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی رشوت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بریلوی اور شیعہ کی نسل کشی، ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل سنت اس ضلع میں سخت عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ لیکن وہاں کوئی کارروائی اس لیے نہیں کی جا رہی کیونکہ مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر اس وقت بھی یہ حال ہے کہ وہاں اہل سنت کے مزارات مقدسہ، جو تباہ کر دیے گئے، ان کی اب تک مرمت کا کام نہیں ہوا جبکہ جن مزارات پر قبضہ ہوا وہ قبضہ بھی واگزار نہ ہوا۔ علمائے اہل سنت و مشائخ عظام کا جو قتل ہوا اس کے ذمہ دار بھی تاحال گرفتار نہیں کیے گئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں بریلوی اور شیعہ عوام کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ یہ قدغن دہشت گردوں نے لگائی ہے اور اس صورت حال پر وفاقی اور صوبائی حکومت خاموش بیٹھی ہیں۔ دوسری بڑی اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ’پنجاب علما بورڈ‘ بنایا۔ بدقسمتی سے اس بورڈ کا ممبر ایسے لوگوں کو بھی بنایا گیا جن کو جیل میں ہونا چاہیے تھا۔
ہم شہری: مثال کے طور پر کون سے لوگ؟
فضل کریم: کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی اس کی بڑی مثال ہیں۔
ہم شہری: آپ مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر فیصل آباد سے منتخب ہوئے۔ میاں برادران کے ساتھ آپ کے گہرے روابط موجود ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ (نواز) کی حکومت ہے، لیکن لگتا ہے کہ آپ پنجاب حکومت سے خاصے ناراض ہیں۔ کیا شکایات ہیں پنجاب حکومت سے آپ کو؟
فضل کریم: جب سے میاں محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنے ہم نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ پنجاب کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس حکمت عملی ترتیب دیں۔ ہمارا ان سے مطالبہ تھا کہ وہ پنجاب حکومت اور پنجاب کی سول ایڈمنسٹریشن کے اندر سے ایسے لوگوں کو فارغ کریں جن کے بارے میں یہ خبریں ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے ہمدرد اور حامی ہیں۔ ہم نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ علمائے اہل سنت کو دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دینے اور اس کے خلاف جدوجہد کرنے کی وجہ سے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی سخت تشویش تھی کہ پنجاب کے اندر کالعدم تنظیمیں نہ صرف مدارس چلا رہی ہیں بلکہ وہ اپنا لٹریچر چھاپنے کے ساتھ ساتھ آزادی سے جلسے جلوس بھی کر رہی ہیں۔ ہمیں بجا طور پر پنجاب کے اندر کالعدم سپاہ صحابہ کے ’اہلسنت والجماعت‘ کے نام سے کام کرنے پر تشویش تھی۔ اس طرح جماعت الدعوة کو پابندی کے باوجود کام کرنے کی آزادی بھی تشویش کا باعث بن رہی تھی۔ ہمارے خدشات اس وقت درست ثابت ہوئے جب اہل سنت کے عظیم رہنما مہتمم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد جھنگ کے ضمنی انتخاب میں وزیر قانون نے اپنی گاڑی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی کو بیٹھا کر کیمپین کی اور ان کی گاڑیاں فیصل آباد میں بارہ ربیع الاوّل کے جلوس میں فائرنگ کے لیے استعمال ہوئیں۔ ہمارے لیے یہ بڑے دُکھ اور تکلیف کی بات تھی کہ پنجاب حکومت کا وزیر قانون، جو وزیر داخلہ بھی ہے، وہ دہشت گردوں کا سرپرست بنا ہوا ہے۔ پنجاب کے اندر عوام اہلسنت میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارا پنجاب حکومت سے اختلاف صرف یہ ہے کہ وہ حکومتی اور انتظامی عہدوں پر متنازعہ بلکہ ملزم لوگ فائز کیے ہوئے ہے اور ان مدارس کو سرکاری تحویل میں لیے جانے سے قاصر ہے جو کالعدم تنظیموں نے بنائے اور چلائے جا رہے ہیں۔
ہم شہری: کیا آپ ان مدارس کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
فضل کریم: ویسے تو پنجاب حکومت کے پاس خفیہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹیں موجود ہیں، ان میں مدارس کی تفصیل موجود ہے۔ میں آپ کو فیصل آباد میں گول مسجد کے ساتھ قائم مدرسے کی مثال دوں گا۔ یہ مدرسہ سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سرپرست مرحوم ضیا القاسمی کا ہے جسے اب ان کا بیٹا زاہد القاسمی چلا رہا ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جسے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس نے 12 ربیع الاوّل کے جلوس پر مسجد سے مورچہ زن ہو کر فائرنگ کی اور بعد میں کلاشنکوفوں سے لیس ہو کر جلوس بھی نکلا۔ اسی طرح جھنگ کے اندر جامعہ محمودیہ ہے جسے مولوی حق نواز جھنگوی نے قائم کیا اور یہ مدرسہ آج بھی سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اسی طرح کراچی کے اندر اور جنوبی پنجاب میں کئی مدارس ہیں۔ جامعہ عبداللہ بن مسعود بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر، بانی جیش محمد، کا مدرسہ ہے۔ اس مدرسے کے بارے میں ایجنسیوں کی چونکا دینے والی رپورٹس موجود ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر کون سی مجبوری ہے میاں برادران کو کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔
ہم شہری: سانحہ داتا دربار کے بعد سنی اتحاد کونسل کے وزیراعلیٰ سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ آپ کی طرف سے 30 سے زائد مطالبات پیش ہوئے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ کیا آپ اس سے بہتری کی امید رکھتے ہیں؟
فضل کریم: دیکھئے۔ سنی اتحاد کونسل کے دو اہم اور بڑے مطالبے ہیں، اوّل وزیر قانون رانا ثنااللہ کی برطرفی کا۔ ہمیں وزارت کی تبدیلی قابل قبول نہیں ہو گی۔ دوم تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، اور یہ کارروائی ایسی ہو کہ سب کو نظر آئے۔ اگر کالعدم تنظیموں کے لوگ آزادی کے ساتھ کام کرتے رہیں گے تو پھر ایسی پابندی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہم جولائی کے آخری ہفتے میں ملک بھر کے علما اور مشائخ کا ایک اجلاس جامعہ حزب الاحناف لاہور، میں بلا رہے ہیں۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبات کا چارٹر تیار کیا جائے گا۔ ابھی پنجاب حکومت نے 100 سے زائد تنظیموں پر پابندی کے احکامات جاری کیے ہیں، ہم ان پر عمل درآمد کے منتظر ہیں لیکن اس میں ’جماعت الدعوة‘ کو شامل نہ کر کے پھر منفی سگنل دیا گیا ہے، جس پر ہمیں سخت تشویش ہیں۔
ہم شہری: وفاقی حکومت نے اس مسئلے پر قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ کیا سنی اتحاد کونسل اس اجلاس میں جائے گی؟
فضل کریم: بالکل۔ دعوت ملی تو ضرور جائیں گے۔ لیکن ایک بات ضرور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہم باور کرانا چاہیں گے اور وہ یہ کہ ان کانفرنسوں میں دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو مت بلایا جائے۔ انہیں سرکاری طور پر عزت و احترام دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر کانفرنس بے کار ہے۔
ہم شہری: کچھ لوگ ملی یکجہتی کونسل طرز کا اتحاد تشکیل دینے کی بات کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی؟
فضل کریم: دیکھئے! ہم صاف یہ بات کہتے ہیں کہ یہ کوئی مسالک کے درمیان جھگڑے کا معاملہ نہیں ہے۔ ایک گروہ ہے تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت الجہاد الاسلامی، جماعت الفرقان، لشکر طیبہ، لشکر اسلام اس گروہ سے تعلق رکھنے والی مساجد، امام بارگاہوں، مزارات مقدسہ، پولیس، فوج، بازار، عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سارے گروہ پاکستان کی ریاست اور اس کے عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی فکری حمایت کرنے والے، ان کی مالی اور لاجسٹک مدد کرنے والے اور ان کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والے سب کے سب اسلام، پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔ ان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم تو وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان، جنرل سیکرٹری قاری حنیف جالندھری، دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع الدین، دارالعلوم جامعہ بنوریہ کراچی کے مفتی نعیم اور سابق جج شرعی عدالت نقی عثمانی سے محض اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر مذکورہ بالا تمام تنظیموں سے اعلان لاتعلقی کریں اور ان کے خلاف فتویٰ دیں کہ احمد لدھیانوی، قاری زاہد القاسمی، مسعود اظہر سمیت ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان سے الحاق کو ختم کریں۔ خودکش حملوں کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کریں۔ میں آپ کو بتلاؤں کہ جامعہ اشرفیہ میں خودکش حملوں کے خلاف متفقہ فتویٰ نہیں آیا۔ وفاق المدارس سے تعلق رکھنے والے بعض مدارس کے علما نے پاکستانی ریاست کو دارالحرب قرار دے کر اس کے خلاف لڑنے والوں کے فعل کو جہاد قرار دے دیا۔ اس کے خلاف جب وفاق المدارس کے ایک جید عالم مولانا سرفراز گھگڑوی کے صاحبزادے نصرة العلوم کے مہتمم علامہ زاہد الراشدی نے فتویٰ دیا اور دیگر علما سے رائے مانگی تو اس پر مفتی رفیع الدین عثمانی نے خاموشی اختیار کر لی، جس کا ذکر انہوں نے اپنے ماہنامے میں بھی کیا۔
یہ طرزِ عمل ہمارے تحفظات کا سبب بنتا ہے۔ ہم نے جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد روشن خیالی کے خلاف جدوجہد کے لیے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ قائم کیا۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی اس میں آگے آگے تھے۔ ہمارا وفاق المدارس سے ہر اجلاس میں مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ ایسے مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کرے جو ایک طرف کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے تحت چل رہے ہیں اور دوسری طرف ان میں سے کئی مدارس ناجائز قبضہ کر کے بنائے گئے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ سمیت اکثر دہشت گرد تنظیمیں ہمارے مدارس اور مساجد پر قبضوں میں ملوث ہیں۔ ہم نے وفاق المدارس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان لوگوں سے علانیہ لاتعلقی کریں اور اپنے علما کو ایسے لوگوں کی سرپرستی سے منع فرمائیں لیکن اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ یہ جو دو عملی ہے جب تک یہ ختم نہیں ہو گی اس وقت تک ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔
وفاق المدارس کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس کی بے عملی، تساہل اور ڈھیل سے ملک کا امن خراب ہو رہا ہے۔ وفاق المدارس قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختونخوا، سوات اور اسلام آباد میں غازی برادران کی اسلام اور نفاذ شریعت کی آڑ میں دہشت گردی کی لہر کو روکنے اور اس پر دیوبندی اسلام کا لیبل لگانے والوں کو منع کرنے میں اگر تندہی سے کام کرتا اور پاکستان کے اندر نجی لشکر بنانے والوں کو اور غیر سرکاری طور پر اعلان جہاد کرنے والوں کے خلاف ٹھیک ٹھیک اسلامی اور شرعی رائے بیان کرتا تو پاکستان میں دہشت گردی کا کب کا خاتمہ ہو جانا تھا۔
سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم سے بات چیت
عامر حسینی
صاحبزادہ فضل کریم کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ وہ معروف عالم دین مولانا سردار احمد رضوی کے صاحبزادے ہیں۔ فیصل آباد سے وہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہ انتخاب انہوں نے مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔ وہ مرکزی جمعیت العلمائے پاکستان کے صدر بھی ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر کی تنظیموں کے اتحاد ’سنی اتحاد کونسل‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے ان سے خصوصی بات چیت کی گئی جو قارئین کی نذر ہے۔
ہم شہری: ملک میں دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب کے مرکز لاہور میں حضرت علی عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا مزار بھی اس کا نشانہ بنا۔ حکومت اس کی روک تھام کیوں نہیں کر پا رہی؟
فضل کریم: میرے خیال میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو نہ پانے کی سب سے بڑی وجہ تو حکومت کا اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کا حال یہ ہے کہ اس نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی رشوت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بریلوی اور شیعہ کی نسل کشی، ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل سنت اس ضلع میں سخت عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ لیکن وہاں کوئی کارروائی اس لیے نہیں کی جا رہی کیونکہ مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر اس وقت بھی یہ حال ہے کہ وہاں اہل سنت کے مزارات مقدسہ، جو تباہ کر دیے گئے، ان کی اب تک مرمت کا کام نہیں ہوا جبکہ جن مزارات پر قبضہ ہوا وہ قبضہ بھی واگزار نہ ہوا۔ علمائے اہل سنت و مشائخ عظام کا جو قتل ہوا اس کے ذمہ دار بھی تاحال گرفتار نہیں کیے گئے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں بریلوی اور شیعہ عوام کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ یہ قدغن دہشت گردوں نے لگائی ہے اور اس صورت حال پر وفاقی اور صوبائی حکومت خاموش بیٹھی ہیں۔ دوسری بڑی اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ’پنجاب علما بورڈ‘ بنایا۔ بدقسمتی سے اس بورڈ کا ممبر ایسے لوگوں کو بھی بنایا گیا جن کو جیل میں ہونا چاہیے تھا۔
ہم شہری: مثال کے طور پر کون سے لوگ؟
فضل کریم: کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی اس کی بڑی مثال ہیں۔
ہم شہری: آپ مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر فیصل آباد سے منتخب ہوئے۔ میاں برادران کے ساتھ آپ کے گہرے روابط موجود ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ (نواز) کی حکومت ہے، لیکن لگتا ہے کہ آپ پنجاب حکومت سے خاصے ناراض ہیں۔ کیا شکایات ہیں پنجاب حکومت سے آپ کو؟
فضل کریم: جب سے میاں محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنے ہم نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ پنجاب کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس حکمت عملی ترتیب دیں۔ ہمارا ان سے مطالبہ تھا کہ وہ پنجاب حکومت اور پنجاب کی سول ایڈمنسٹریشن کے اندر سے ایسے لوگوں کو فارغ کریں جن کے بارے میں یہ خبریں ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے ہمدرد اور حامی ہیں۔ ہم نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ علمائے اہل سنت کو دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دینے اور اس کے خلاف جدوجہد کرنے کی وجہ سے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی سخت تشویش تھی کہ پنجاب کے اندر کالعدم تنظیمیں نہ صرف مدارس چلا رہی ہیں بلکہ وہ اپنا لٹریچر چھاپنے کے ساتھ ساتھ آزادی سے جلسے جلوس بھی کر رہی ہیں۔ ہمیں بجا طور پر پنجاب کے اندر کالعدم سپاہ صحابہ کے ’اہلسنت والجماعت‘ کے نام سے کام کرنے پر تشویش تھی۔ اس طرح جماعت الدعوة کو پابندی کے باوجود کام کرنے کی آزادی بھی تشویش کا باعث بن رہی تھی۔ ہمارے خدشات اس وقت درست ثابت ہوئے جب اہل سنت کے عظیم رہنما مہتمم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد جھنگ کے ضمنی انتخاب میں وزیر قانون نے اپنی گاڑی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی کو بیٹھا کر کیمپین کی اور ان کی گاڑیاں فیصل آباد میں بارہ ربیع الاوّل کے جلوس میں فائرنگ کے لیے استعمال ہوئیں۔ ہمارے لیے یہ بڑے دُکھ اور تکلیف کی بات تھی کہ پنجاب حکومت کا وزیر قانون، جو وزیر داخلہ بھی ہے، وہ دہشت گردوں کا سرپرست بنا ہوا ہے۔ پنجاب کے اندر عوام اہلسنت میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارا پنجاب حکومت سے اختلاف صرف یہ ہے کہ وہ حکومتی اور انتظامی عہدوں پر متنازعہ بلکہ ملزم لوگ فائز کیے ہوئے ہے اور ان مدارس کو سرکاری تحویل میں لیے جانے سے قاصر ہے جو کالعدم تنظیموں نے بنائے اور چلائے جا رہے ہیں۔
ہم شہری: کیا آپ ان مدارس کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
فضل کریم: ویسے تو پنجاب حکومت کے پاس خفیہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹیں موجود ہیں، ان میں مدارس کی تفصیل موجود ہے۔ میں آپ کو فیصل آباد میں گول مسجد کے ساتھ قائم مدرسے کی مثال دوں گا۔ یہ مدرسہ سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سرپرست مرحوم ضیا القاسمی کا ہے جسے اب ان کا بیٹا زاہد القاسمی چلا رہا ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جسے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس نے 12 ربیع الاوّل کے جلوس پر مسجد سے مورچہ زن ہو کر فائرنگ کی اور بعد میں کلاشنکوفوں سے لیس ہو کر جلوس بھی نکلا۔ اسی طرح جھنگ کے اندر جامعہ محمودیہ ہے جسے مولوی حق نواز جھنگوی نے قائم کیا اور یہ مدرسہ آج بھی سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اسی طرح کراچی کے اندر اور جنوبی پنجاب میں کئی مدارس ہیں۔ جامعہ عبداللہ بن مسعود بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر، بانی جیش محمد، کا مدرسہ ہے۔ اس مدرسے کے بارے میں ایجنسیوں کی چونکا دینے والی رپورٹس موجود ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر کون سی مجبوری ہے میاں برادران کو کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔
ہم شہری: سانحہ داتا دربار کے بعد سنی اتحاد کونسل کے وزیراعلیٰ سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ آپ کی طرف سے 30 سے زائد مطالبات پیش ہوئے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ کیا آپ اس سے بہتری کی امید رکھتے ہیں؟
فضل کریم: دیکھئے۔ سنی اتحاد کونسل کے دو اہم اور بڑے مطالبے ہیں، اوّل وزیر قانون رانا ثنااللہ کی برطرفی کا۔ ہمیں وزارت کی تبدیلی قابل قبول نہیں ہو گی۔ دوم تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، اور یہ کارروائی ایسی ہو کہ سب کو نظر آئے۔ اگر کالعدم تنظیموں کے لوگ آزادی کے ساتھ کام کرتے رہیں گے تو پھر ایسی پابندی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہم جولائی کے آخری ہفتے میں ملک بھر کے علما اور مشائخ کا ایک اجلاس جامعہ حزب الاحناف لاہور، میں بلا رہے ہیں۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبات کا چارٹر تیار کیا جائے گا۔ ابھی پنجاب حکومت نے 100 سے زائد تنظیموں پر پابندی کے احکامات جاری کیے ہیں، ہم ان پر عمل درآمد کے منتظر ہیں لیکن اس میں ’جماعت الدعوة‘ کو شامل نہ کر کے پھر منفی سگنل دیا گیا ہے، جس پر ہمیں سخت تشویش ہیں۔
ہم شہری: وفاقی حکومت نے اس مسئلے پر قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ کیا سنی اتحاد کونسل اس اجلاس میں جائے گی؟
فضل کریم: بالکل۔ دعوت ملی تو ضرور جائیں گے۔ لیکن ایک بات ضرور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہم باور کرانا چاہیں گے اور وہ یہ کہ ان کانفرنسوں میں دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو مت بلایا جائے۔ انہیں سرکاری طور پر عزت و احترام دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر کانفرنس بے کار ہے۔
ہم شہری: کچھ لوگ ملی یکجہتی کونسل طرز کا اتحاد تشکیل دینے کی بات کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی؟
فضل کریم: دیکھئے! ہم صاف یہ بات کہتے ہیں کہ یہ کوئی مسالک کے درمیان جھگڑے کا معاملہ نہیں ہے۔ ایک گروہ ہے تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت الجہاد الاسلامی، جماعت الفرقان، لشکر طیبہ، لشکر اسلام اس گروہ سے تعلق رکھنے والی مساجد، امام بارگاہوں، مزارات مقدسہ، پولیس، فوج، بازار، عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سارے گروہ پاکستان کی ریاست اور اس کے عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی فکری حمایت کرنے والے، ان کی مالی اور لاجسٹک مدد کرنے والے اور ان کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والے سب کے سب اسلام، پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔ ان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم تو وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان، جنرل سیکرٹری قاری حنیف جالندھری، دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع الدین، دارالعلوم جامعہ بنوریہ کراچی کے مفتی نعیم اور سابق جج شرعی عدالت نقی عثمانی سے محض اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر مذکورہ بالا تمام تنظیموں سے اعلان لاتعلقی کریں اور ان کے خلاف فتویٰ دیں کہ احمد لدھیانوی، قاری زاہد القاسمی، مسعود اظہر سمیت ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان سے الحاق کو ختم کریں۔ خودکش حملوں کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کریں۔ میں آپ کو بتلاؤں کہ جامعہ اشرفیہ میں خودکش حملوں کے خلاف متفقہ فتویٰ نہیں آیا۔ وفاق المدارس سے تعلق رکھنے والے بعض مدارس کے علما نے پاکستانی ریاست کو دارالحرب قرار دے کر اس کے خلاف لڑنے والوں کے فعل کو جہاد قرار دے دیا۔ اس کے خلاف جب وفاق المدارس کے ایک جید عالم مولانا سرفراز گھگڑوی کے صاحبزادے نصرة العلوم کے مہتمم علامہ زاہد الراشدی نے فتویٰ دیا اور دیگر علما سے رائے مانگی تو اس پر مفتی رفیع الدین عثمانی نے خاموشی اختیار کر لی، جس کا ذکر انہوں نے اپنے ماہنامے میں بھی کیا۔
یہ طرزِ عمل ہمارے تحفظات کا سبب بنتا ہے۔ ہم نے جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد روشن خیالی کے خلاف جدوجہد کے لیے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ قائم کیا۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی اس میں آگے آگے تھے۔ ہمارا وفاق المدارس سے ہر اجلاس میں مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ ایسے مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کرے جو ایک طرف کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے تحت چل رہے ہیں اور دوسری طرف ان میں سے کئی مدارس ناجائز قبضہ کر کے بنائے گئے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ سمیت اکثر دہشت گرد تنظیمیں ہمارے مدارس اور مساجد پر قبضوں میں ملوث ہیں۔ ہم نے وفاق المدارس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان لوگوں سے علانیہ لاتعلقی کریں اور اپنے علما کو ایسے لوگوں کی سرپرستی سے منع فرمائیں لیکن اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ یہ جو دو عملی ہے جب تک یہ ختم نہیں ہو گی اس وقت تک ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔
وفاق المدارس کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس کی بے عملی، تساہل اور ڈھیل سے ملک کا امن خراب ہو رہا ہے۔ وفاق المدارس قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختونخوا، سوات اور اسلام آباد میں غازی برادران کی اسلام اور نفاذ شریعت کی آڑ میں دہشت گردی کی لہر کو روکنے اور اس پر دیوبندی اسلام کا لیبل لگانے والوں کو منع کرنے میں اگر تندہی سے کام کرتا اور پاکستان کے اندر نجی لشکر بنانے والوں کو اور غیر سرکاری طور پر اعلان جہاد کرنے والوں کے خلاف ٹھیک ٹھیک اسلامی اور شرعی رائے بیان کرتا تو پاکستان میں دہشت گردی کا کب کا خاتمہ ہو جانا تھا۔
عدلیہ - حکومت تنازعہ، نیب پر کنٹرول کی کوششیں
عامر حسینی
این آر او کے حوالے سے سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے حوالے سے جن اقدامات کی نیب سے توقع کر رہی تھی وہ بالآخر ایک نئے تنازعہ کی شکل اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو بتلا چکی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ نہیں کھول سکتی۔ اس میں ایک طرف تو آئین کی شق 248 حائل ہے، دوسری طرف سوئس قانون اور تیسری طرف بین الاقوامی قواعد و ضوابط۔ وزیر قانون، سیکرٹری قانون اس حوالے سے اپنی پوزیشن بیان کر چکے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے کالعدم ہونے کے بعد بحال ہونے والے کیسز پر نیب کے کام کی نگرانی اور پراسکیوشن کو ہدایات جاری کرنے کے عمل نے بھی ایک نیا ایشو کھڑا کیا۔ سپریم کورٹ سابق چیئرمین نیب نوید احسن پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ سوئس عدالتوں کو خط لکھیں اور منی لانڈنگ، کک بیکس کے کیسز دوبارہ شروع کریں۔ ان پر جب دباؤ زیادہ بڑھا تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ابھی تک نیب کا نیا چیئرمین نہیں بنا ہے۔ جب کہ نیب کے قائم مقام چیئرمین جاوید قاضی نے بتایا ہے کہ انہیں کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب بینک فراڈ کیس کی از خود نوٹس کے تحت جو سماعت کر رہی ہے اس کے دوران ہی نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ پر واضح کیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس ایکٹ کے تحت نیب کی نگرانی اور کنٹرول کا کوئی اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کے انتظامی امور کی نگرانی یا کنٹرول کا سپریم کورٹ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ صرف اس ادارے کے قیام کا سبب بننے والے ایکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس لے سکتی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ این آر او کیس اور بینک آف پنجاب فراڈ کیس سمیت کئی معاملات میں نیب کے انتظامی امور اور اختیارات میں غلط مداخلت کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان عدالتوں میں نیب کے حکام کی تضحیک اور انہیں ہراساں کرنے کا عمل معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی پر بُرا اثر پڑا ہے۔ نیب کے شعبہ انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب کے سابق چیئرمین نوید احسن نے ہراساں کیے جانے اور تذلیل ہونے پر استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں بینک آف پنجاب کے وکیل سرکار خواجہ حارث اور میاں شہباز شریف پر بھی الزامات لگائے۔ عرفان قادر نے اس کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کو دوران سماعت یہ بھی بتایا کہ امریکا سے ہمیش خان نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے انہیں لکھا تھا کہ میاں شہباز شریف ان سے غیر قانونی فائدے اور حمایت کے خواہاں ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اس خط میں یہ لکھ کر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ موجودہ عدلیہ کے بحال شدہ ججز کی بحالی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ 1973ء کے آئین کی رُو سے وزیر اعظم کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججز کو معطل یا بحال کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں کو اس کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔
ایک طرف تو عدلیہ کی طرف سے نیب کو کنٹرول کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آ رہا ہے اور دوسری طرف خود نیب کے اندر بھی اکھاڑ بچھاڑ کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ حکومت اس وقت نیب کے 35 افسران کو تبدیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ان میں سے 10 افراد کو تبادلے کے نوٹیفکیشن مل چکے ہیں۔ ان 35 افسران کے پاس نیب کے اہم مناصب ہیں۔ ان میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب شاہنواز بدر، خیبر پختونخوا میں نیب کے سربراہ مصدق عباسی، ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ہیڈ کوارٹر خورشید عالم، ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، ڈائریکٹر جنرل انسداد بدعنوانی لائحہ عمل عالیہ راشد، ایڈیشل ڈائریکٹر ظاہر شاہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر بریگیڈیئر اشفاق، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شہزاد سلیم بھی شامل ہیں۔ ان 35 افسران کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد نیب میں سیاستدانوں اور آمریت مخالف افراد کے خلاف سیاسی انتقام کی بنیاد پر مقدمات بنانے اور جمہوریت کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد احتساب کے کام کو شفاف رکھنے کے بجائے اسے سیاسی جماعتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، جو طویل عرصے سے نیب میں ہیں، وہ ڈائریکٹر جنرل آف آپریشن کے عہدے پر رہ کر صدر آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو اور پی پی پی کے دیگر وفاداروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں آگے رہے ہیں۔
ان افسران کا اب بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہیں ان کے حالیہ عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق یہ افسران بغاوت اور مزاحمت کے موڈ میں ہیں کہ یہ اپنے عہدوں سے ہرگز نہیں ہٹیں گے اور عہدوں کا چارج دیگر افراد کے حوالے نہیں کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کے یہ افسران اپنی مجاز اتھارٹی کے حکم سے سرتابی کس قانون اور ضابطے کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت نیب کے ترجمان غزنی خان کی مثال سامنے آ چکی ہے جنہوں نے اچانک پریس کانفرنس کر کے یہ بتانے کی کوشش کی کہ نیب کے پاس صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ غزنی خان کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ نیب کے پاس اگر صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت تھے تو گزشتہ 10 برسوں میں یہ ثبوت عدالت کے سامنے لا کر صدر آصف علی زرداری کو سزا کیوں نہ دلائی جا سکی۔ نیب کو عدالتی کنٹرول میں دینے اور اس کے اندر سے توڑ پھوڑ کی باتیں اس وقت سے زیادہ کھل کر سامنے آنے لگی ہیں جب سے نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نیب بہت سارے سیاسی لیڈروں پر بنائے گئے ایسے کیسز واپس لینے کی سوچ رہا ہے جو محض قیاس آرائیوں اور بوگس اندازوں سے بنائے گئے تھے۔ ان میں کوٹیکنا کیس بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ، جو کہ بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی از خود سماعت کر رہا ہے، اس نے خواجہ حارث کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے جس میں عرفان قادر کی بطور پراسکیوٹر جنرل دوسری مرتبہ تقرری اور ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کی بطور قائم مقام چیئرمین کام کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔
پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے صحافیوں کو بتایا کہ خواجہ حارث نے اپنی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ کہا کہ وہ مدت پوری ہونے کے باوجود اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں حالانکہ ان کو دوبارہ پراسکیوٹر جنرل بنایا گیا ہے اور یہ بالکل قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔ یہ بیان انہوں نے عدالت میں بھی دیا۔
جاوید قاضی قائم مقام چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ انہیں کام سے روکنے کا مطلب نیب جیسے ادارے کی مکمل تباہی ہے۔
نیب، جو کہ میاں نواز شریف کے دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اور بعدازاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ (نواز) کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، میں بہتر تبدیلیاں لانے کے لیے وفاقی حکومت نے جہاں قومی احتساب ایکٹ میں تبدیلی کرنے کے لیے ایک بِل متعارف کرایا وہیں اس کے انتظامی، انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کے اندر تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کو ایک طرف تو پارلیمنٹ کے اندر مشکلات کا سامنا ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی کے پاس نیا احتساب بل 56 ہفتوں سے پڑا ہوا ہے، اس بل پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف عدالتوں کے ذریعے نیب کے انتظامی امور میں مداخلت اس ادارے کی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ رکاوٹیں قومی دولت خزانے میں واپس لانے کے نام سے ڈالی جا رہی ہیں لیکن اب عوامی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالف قوتیں ”نیب اور عدالت“ دو مراکز کا استعمال کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ نئے انتخابات تک پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف کیسز اسی طرح سے قائم رہیں اور نیب کو پی پی پی کے خلاف استعمال کیا جاتا رہے۔ اس مہم میں پی پی پی مخالف سیاسی جمہوری قوتیں اگر حصہ نہیں بن رہیں تو وہ اس مذموم مہم پر خاموشی بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بدعنوانی کے شور اور احتساب کے مطالبے میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت اور پارلیمنٹ کو ناکام نظام اور ادارے کہنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور حکومت مخالف رٹس دائر کرنے میں معروف اکرم شیخ ایڈووکیٹ ایک ٹی وی چینل پر موجودہ جمہوریت سے پرویز آمریت کو بہتر قرار دے رہے تھے اور میڈیا، وکلاء اور سیاسی حلقوں کا ایک حصہ صدر آصف علی زرداری کو سویلین آمر کا لقب دے رہا ہے۔ مسلم لیگ (نواز)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف وغیرہ پیپلز پارٹی اور حکومت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے عدالتوں اور میڈیا میں ٹرائل کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کے سیاسی مخالفین چند تجزیہ کاروں اور وکیلوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔
تبصرہ
امیل
عامر حسینی
این آر او کے حوالے سے سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے حوالے سے جن اقدامات کی نیب سے توقع کر رہی تھی وہ بالآخر ایک نئے تنازعہ کی شکل اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو بتلا چکی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ نہیں کھول سکتی۔ اس میں ایک طرف تو آئین کی شق 248 حائل ہے، دوسری طرف سوئس قانون اور تیسری طرف بین الاقوامی قواعد و ضوابط۔ وزیر قانون، سیکرٹری قانون اس حوالے سے اپنی پوزیشن بیان کر چکے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے کالعدم ہونے کے بعد بحال ہونے والے کیسز پر نیب کے کام کی نگرانی اور پراسکیوشن کو ہدایات جاری کرنے کے عمل نے بھی ایک نیا ایشو کھڑا کیا۔ سپریم کورٹ سابق چیئرمین نیب نوید احسن پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ سوئس عدالتوں کو خط لکھیں اور منی لانڈنگ، کک بیکس کے کیسز دوبارہ شروع کریں۔ ان پر جب دباؤ زیادہ بڑھا تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ابھی تک نیب کا نیا چیئرمین نہیں بنا ہے۔ جب کہ نیب کے قائم مقام چیئرمین جاوید قاضی نے بتایا ہے کہ انہیں کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب بینک فراڈ کیس کی از خود نوٹس کے تحت جو سماعت کر رہی ہے اس کے دوران ہی نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ پر واضح کیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس ایکٹ کے تحت نیب کی نگرانی اور کنٹرول کا کوئی اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کے انتظامی امور کی نگرانی یا کنٹرول کا سپریم کورٹ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ صرف اس ادارے کے قیام کا سبب بننے والے ایکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس لے سکتی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ این آر او کیس اور بینک آف پنجاب فراڈ کیس سمیت کئی معاملات میں نیب کے انتظامی امور اور اختیارات میں غلط مداخلت کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان عدالتوں میں نیب کے حکام کی تضحیک اور انہیں ہراساں کرنے کا عمل معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی پر بُرا اثر پڑا ہے۔ نیب کے شعبہ انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب کے سابق چیئرمین نوید احسن نے ہراساں کیے جانے اور تذلیل ہونے پر استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں بینک آف پنجاب کے وکیل سرکار خواجہ حارث اور میاں شہباز شریف پر بھی الزامات لگائے۔ عرفان قادر نے اس کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کو دوران سماعت یہ بھی بتایا کہ امریکا سے ہمیش خان نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے انہیں لکھا تھا کہ میاں شہباز شریف ان سے غیر قانونی فائدے اور حمایت کے خواہاں ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اس خط میں یہ لکھ کر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ موجودہ عدلیہ کے بحال شدہ ججز کی بحالی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ 1973ء کے آئین کی رُو سے وزیر اعظم کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججز کو معطل یا بحال کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں کو اس کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔
ایک طرف تو عدلیہ کی طرف سے نیب کو کنٹرول کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آ رہا ہے اور دوسری طرف خود نیب کے اندر بھی اکھاڑ بچھاڑ کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ حکومت اس وقت نیب کے 35 افسران کو تبدیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ان میں سے 10 افراد کو تبادلے کے نوٹیفکیشن مل چکے ہیں۔ ان 35 افسران کے پاس نیب کے اہم مناصب ہیں۔ ان میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب شاہنواز بدر، خیبر پختونخوا میں نیب کے سربراہ مصدق عباسی، ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ہیڈ کوارٹر خورشید عالم، ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، ڈائریکٹر جنرل انسداد بدعنوانی لائحہ عمل عالیہ راشد، ایڈیشل ڈائریکٹر ظاہر شاہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر بریگیڈیئر اشفاق، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شہزاد سلیم بھی شامل ہیں۔ ان 35 افسران کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد نیب میں سیاستدانوں اور آمریت مخالف افراد کے خلاف سیاسی انتقام کی بنیاد پر مقدمات بنانے اور جمہوریت کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد احتساب کے کام کو شفاف رکھنے کے بجائے اسے سیاسی جماعتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، جو طویل عرصے سے نیب میں ہیں، وہ ڈائریکٹر جنرل آف آپریشن کے عہدے پر رہ کر صدر آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو اور پی پی پی کے دیگر وفاداروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں آگے رہے ہیں۔
ان افسران کا اب بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہیں ان کے حالیہ عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق یہ افسران بغاوت اور مزاحمت کے موڈ میں ہیں کہ یہ اپنے عہدوں سے ہرگز نہیں ہٹیں گے اور عہدوں کا چارج دیگر افراد کے حوالے نہیں کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کے یہ افسران اپنی مجاز اتھارٹی کے حکم سے سرتابی کس قانون اور ضابطے کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت نیب کے ترجمان غزنی خان کی مثال سامنے آ چکی ہے جنہوں نے اچانک پریس کانفرنس کر کے یہ بتانے کی کوشش کی کہ نیب کے پاس صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ غزنی خان کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ نیب کے پاس اگر صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت تھے تو گزشتہ 10 برسوں میں یہ ثبوت عدالت کے سامنے لا کر صدر آصف علی زرداری کو سزا کیوں نہ دلائی جا سکی۔ نیب کو عدالتی کنٹرول میں دینے اور اس کے اندر سے توڑ پھوڑ کی باتیں اس وقت سے زیادہ کھل کر سامنے آنے لگی ہیں جب سے نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نیب بہت سارے سیاسی لیڈروں پر بنائے گئے ایسے کیسز واپس لینے کی سوچ رہا ہے جو محض قیاس آرائیوں اور بوگس اندازوں سے بنائے گئے تھے۔ ان میں کوٹیکنا کیس بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ، جو کہ بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی از خود سماعت کر رہا ہے، اس نے خواجہ حارث کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے جس میں عرفان قادر کی بطور پراسکیوٹر جنرل دوسری مرتبہ تقرری اور ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کی بطور قائم مقام چیئرمین کام کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔
پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے صحافیوں کو بتایا کہ خواجہ حارث نے اپنی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ کہا کہ وہ مدت پوری ہونے کے باوجود اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں حالانکہ ان کو دوبارہ پراسکیوٹر جنرل بنایا گیا ہے اور یہ بالکل قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔ یہ بیان انہوں نے عدالت میں بھی دیا۔
جاوید قاضی قائم مقام چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ انہیں کام سے روکنے کا مطلب نیب جیسے ادارے کی مکمل تباہی ہے۔
نیب، جو کہ میاں نواز شریف کے دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اور بعدازاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ (نواز) کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، میں بہتر تبدیلیاں لانے کے لیے وفاقی حکومت نے جہاں قومی احتساب ایکٹ میں تبدیلی کرنے کے لیے ایک بِل متعارف کرایا وہیں اس کے انتظامی، انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کے اندر تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کو ایک طرف تو پارلیمنٹ کے اندر مشکلات کا سامنا ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی کے پاس نیا احتساب بل 56 ہفتوں سے پڑا ہوا ہے، اس بل پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف عدالتوں کے ذریعے نیب کے انتظامی امور میں مداخلت اس ادارے کی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ رکاوٹیں قومی دولت خزانے میں واپس لانے کے نام سے ڈالی جا رہی ہیں لیکن اب عوامی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالف قوتیں ”نیب اور عدالت“ دو مراکز کا استعمال کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ نئے انتخابات تک پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف کیسز اسی طرح سے قائم رہیں اور نیب کو پی پی پی کے خلاف استعمال کیا جاتا رہے۔ اس مہم میں پی پی پی مخالف سیاسی جمہوری قوتیں اگر حصہ نہیں بن رہیں تو وہ اس مذموم مہم پر خاموشی بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بدعنوانی کے شور اور احتساب کے مطالبے میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت اور پارلیمنٹ کو ناکام نظام اور ادارے کہنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور حکومت مخالف رٹس دائر کرنے میں معروف اکرم شیخ ایڈووکیٹ ایک ٹی وی چینل پر موجودہ جمہوریت سے پرویز آمریت کو بہتر قرار دے رہے تھے اور میڈیا، وکلاء اور سیاسی حلقوں کا ایک حصہ صدر آصف علی زرداری کو سویلین آمر کا لقب دے رہا ہے۔ مسلم لیگ (نواز)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف وغیرہ پیپلز پارٹی اور حکومت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے عدالتوں اور میڈیا میں ٹرائل کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کے سیاسی مخالفین چند تجزیہ کاروں اور وکیلوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔
تبصرہ
امیل
Friday, July 16, 2010
Thursday, July 15, 2010
Tuesday, July 13, 2010
پنجاب میں نیا سیاسی میدان لگنے کا امکان
پنجاب میں نیا سیاسی میدان لگنے کا امکان
پی پی پی، مسلم لیگ اتحاد پنجاب میں خطرے میں پڑگیا
عامر حسینی
18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اب کم از کم پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں سٹریٹ پالیٹکس کی طرف جانے کا عندیہ دینا بند کر دیں گی اور ملک میں جمہوری سفر ہموار طریقے سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گا، لیکن اس سفر کے ہموار طریقے سے طے ہونے کے آثار افق سیاست پر نظر نہیں آتے۔ ایک طرف عدلیہ ہے جہاں 18 ویں ترمیم پر سماعت ہو رہی ہے، این آر او کیس کے عمل درآمد ہونے کی سماعت جاری ہے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ صدر آصف علی زرداری کے دو عہدے رکھے جانے والا کیس سن رہی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے گزشتہ دنوں ایک مقامی بار کی تقریب میں مسلم لیگ (نواز) کو پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ان کے اس بیان پر پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر برائے پنجاب راجہ ریاض نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف وہ جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گے۔ اس بیان پر عدلیہ بحالی تحریک کے روح رواں چوہدری اعتزاز احسن ایڈووکیٹ نے بھی سخت غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو سیاست کا شوق ہے تو وہ مستعفی ہو کر سیاسی پارٹی کا حصہ بن جائیں۔ اس متنازعہ تقریر میں خواجہ محمد شریف نے میاں نواز شریف کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ وہ جدہ اور لندن میں میاں نواز شریف کے مہمان بنتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحبان کے ان پر بے تحاشہ احسانات ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو ایسی کون سی ضرورت آن پڑی تھی کہ انہوں نے مسلم لیگ (نواز) کو علانیہ سیاسی مشورے بھی دیے اور ان سے اپنے تعلقاتِ خاطر کا اظہار بھی کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے دوران سروس ہی جو کتاب لکھی ہے اس کے مندرجات بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔ ان پر بعض حلقوں نے جانبداری کا جو الزام عائد کیا اب اس کو شواہد بھی مل رہے ہیں۔
خواجہ محمد شریف کی طرف سے یہ اظہار خیال ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ وکلاءکو پیسے دے کر خریدنا چاہ رہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان ایڈووکیٹ پر کافی الزامات لگائے اور سیکرٹری قانون کی تقرری کی مذمت کی۔ میاں نواز شریف نے حکومتی کارکردگی کو سخت الفاظ میں ہدف تنقید بنایا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کا عندیہ دیا۔ میاں نواز شریف نے عدلیہ کے لیے دوبارہ سٹرکوں پر آنے کا اشارہ بھی دیا۔ مسلم لیگ (نواز) عدالتی، انتظامی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی کا ایک اجلاس بھی بلوانا چاہتی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں محمد نواز شریف اب پارٹی کے عقابوں کے زیر اثر آ گئے ہیں، اسی لیے اب ان کی گفتگو میں جارحانہ رنگ دکھائی دے رہا ہے۔مسلم لیگ (نواز) کا جو اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا اس میں پارٹی کے ہارڈ لائنرر قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف وغیرہ نے پارٹی کو میثاق جمہوریت کی رٹ لگانے سے منع کیا۔ ان کے خیال میں اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی خیر سگالی یاترا اور زرداری صاحب کی فون ڈپلومیسی کا سرد مہری سے جواب دینا چاہیے۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ (نواز) کی جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پختون خوا میں انتہائی کمزور پوزیشن کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلی بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں نواز شریف جنوبی پنجاب اور سندھ کا تفصیلی دورہ کریں گے۔ سندھ میں عوامی تحریک سندھ، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہان رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی اور ممتاز بھٹو سے سیاسی اتحاد کی بات چلانے پر غور کیا گیا۔
اسی طرح سے صوبہ خیبر پختون خوا میں پی پی پی (شیر پاؤ) کے آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو سیاسی اتحاد میں شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ مسلم لیگ (نواز) اپنی پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ہم خیال) کی کئی شخصیات کو دوبارہ پارٹی میں شامل کرنے کو تیار ہے۔ یہ سب تیاریاں بتلاتی ہیں کہ مسلم لیگ (نواز) ایک طرف تو پارٹی بنیاد وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور دوسری طرف وہ حزب اختلاف کا نیا سیاسی پلیٹ فارم بنانے میں کوشاں ہے۔ مسلم لیگ (نواز) کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ سندھ، بلوچستان اور صوبہ خیبر پختون خوا میں کسی بھی بڑی طاقتور پارلیمانی جماعت سے اتحاد بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت العلمائے اسلام سے اس کی دوریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب مستقبل قریب میں اتحاد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
مسلم لیگ (نواز) کی ایک بڑی پریشانی بین الصوبائی تنازعوں میں اس کی مبہم پوزیشن بھی ہے۔ وہ پنجاب میں عوامی رائے عامہ کے مطابق کالا باغ ڈیم، این ایف سی ایوارڈ، ارسا میں ہونے والا تنازعہ پر مؤقف اختیار کرتی ہے تو اسے سندھ، صوبہ خیبر پختون خوا، بلوچستان میں غیر مقبولیت کا خطرہ لاحق ہے۔ جیسے ابھی اسے مرضی کے برخلاف صوبہ پختون خوا کو مان لینے سے ہزارہ ڈویژن کے عوام کی ناراضی مول لینا پڑی ہے۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم پر اس کا مؤقف سندھی، پشتون اور بلوچ عوام کے لیے غصہ کا باعث بنتا ہے۔ مسلم لیگ (نواز) اپنی پالیسیوں سے صوبوں کے درمیان خاصی سینڈوچ بن چکی ہے۔ اس سے مسلم لیگ کی سیاسی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پنجاب حکومت کی کمزور مالیاتی حالت، صوبہ کا ڈیفالٹ لائن پر کھڑے ہونا، غربت، بے روزگاری اور معاشی تنگ دستی نے بھی مسلم لیگ (نواز) کا مورال گرایا۔ لاہور پی پی 160 میں پاکستان تحریک انصاف کا 18 ہزار سے زائد ووٹ نکلنا ایک علامت ہے عوامی ناراضی کی۔ مسلم لیگ (نواز) اس بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی سے نکلنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے مسلم لیگ (نواز) جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا سوچ رہی ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت تیز ہو گا۔ لیکن مسلم لیگ (نواز) اگر حکومت کو مدت پوری کرنے سے پہلے گرانے کی کوشش کرے گی تو اس کا اسے فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
پی پی پی، مسلم لیگ اتحاد پنجاب میں خطرے میں پڑگیا
عامر حسینی
18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اب کم از کم پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں سٹریٹ پالیٹکس کی طرف جانے کا عندیہ دینا بند کر دیں گی اور ملک میں جمہوری سفر ہموار طریقے سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گا، لیکن اس سفر کے ہموار طریقے سے طے ہونے کے آثار افق سیاست پر نظر نہیں آتے۔ ایک طرف عدلیہ ہے جہاں 18 ویں ترمیم پر سماعت ہو رہی ہے، این آر او کیس کے عمل درآمد ہونے کی سماعت جاری ہے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ صدر آصف علی زرداری کے دو عہدے رکھے جانے والا کیس سن رہی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے گزشتہ دنوں ایک مقامی بار کی تقریب میں مسلم لیگ (نواز) کو پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ان کے اس بیان پر پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر برائے پنجاب راجہ ریاض نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف وہ جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گے۔ اس بیان پر عدلیہ بحالی تحریک کے روح رواں چوہدری اعتزاز احسن ایڈووکیٹ نے بھی سخت غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو سیاست کا شوق ہے تو وہ مستعفی ہو کر سیاسی پارٹی کا حصہ بن جائیں۔ اس متنازعہ تقریر میں خواجہ محمد شریف نے میاں نواز شریف کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ وہ جدہ اور لندن میں میاں نواز شریف کے مہمان بنتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحبان کے ان پر بے تحاشہ احسانات ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو ایسی کون سی ضرورت آن پڑی تھی کہ انہوں نے مسلم لیگ (نواز) کو علانیہ سیاسی مشورے بھی دیے اور ان سے اپنے تعلقاتِ خاطر کا اظہار بھی کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے دوران سروس ہی جو کتاب لکھی ہے اس کے مندرجات بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔ ان پر بعض حلقوں نے جانبداری کا جو الزام عائد کیا اب اس کو شواہد بھی مل رہے ہیں۔
خواجہ محمد شریف کی طرف سے یہ اظہار خیال ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ وکلاءکو پیسے دے کر خریدنا چاہ رہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان ایڈووکیٹ پر کافی الزامات لگائے اور سیکرٹری قانون کی تقرری کی مذمت کی۔ میاں نواز شریف نے حکومتی کارکردگی کو سخت الفاظ میں ہدف تنقید بنایا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کا عندیہ دیا۔ میاں نواز شریف نے عدلیہ کے لیے دوبارہ سٹرکوں پر آنے کا اشارہ بھی دیا۔ مسلم لیگ (نواز) عدالتی، انتظامی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی کا ایک اجلاس بھی بلوانا چاہتی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں محمد نواز شریف اب پارٹی کے عقابوں کے زیر اثر آ گئے ہیں، اسی لیے اب ان کی گفتگو میں جارحانہ رنگ دکھائی دے رہا ہے۔مسلم لیگ (نواز) کا جو اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا اس میں پارٹی کے ہارڈ لائنرر قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف وغیرہ نے پارٹی کو میثاق جمہوریت کی رٹ لگانے سے منع کیا۔ ان کے خیال میں اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی خیر سگالی یاترا اور زرداری صاحب کی فون ڈپلومیسی کا سرد مہری سے جواب دینا چاہیے۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ (نواز) کی جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پختون خوا میں انتہائی کمزور پوزیشن کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلی بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں نواز شریف جنوبی پنجاب اور سندھ کا تفصیلی دورہ کریں گے۔ سندھ میں عوامی تحریک سندھ، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہان رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی اور ممتاز بھٹو سے سیاسی اتحاد کی بات چلانے پر غور کیا گیا۔
اسی طرح سے صوبہ خیبر پختون خوا میں پی پی پی (شیر پاؤ) کے آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو سیاسی اتحاد میں شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ مسلم لیگ (نواز) اپنی پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ہم خیال) کی کئی شخصیات کو دوبارہ پارٹی میں شامل کرنے کو تیار ہے۔ یہ سب تیاریاں بتلاتی ہیں کہ مسلم لیگ (نواز) ایک طرف تو پارٹی بنیاد وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور دوسری طرف وہ حزب اختلاف کا نیا سیاسی پلیٹ فارم بنانے میں کوشاں ہے۔ مسلم لیگ (نواز) کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ سندھ، بلوچستان اور صوبہ خیبر پختون خوا میں کسی بھی بڑی طاقتور پارلیمانی جماعت سے اتحاد بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت العلمائے اسلام سے اس کی دوریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب مستقبل قریب میں اتحاد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
مسلم لیگ (نواز) کی ایک بڑی پریشانی بین الصوبائی تنازعوں میں اس کی مبہم پوزیشن بھی ہے۔ وہ پنجاب میں عوامی رائے عامہ کے مطابق کالا باغ ڈیم، این ایف سی ایوارڈ، ارسا میں ہونے والا تنازعہ پر مؤقف اختیار کرتی ہے تو اسے سندھ، صوبہ خیبر پختون خوا، بلوچستان میں غیر مقبولیت کا خطرہ لاحق ہے۔ جیسے ابھی اسے مرضی کے برخلاف صوبہ پختون خوا کو مان لینے سے ہزارہ ڈویژن کے عوام کی ناراضی مول لینا پڑی ہے۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم پر اس کا مؤقف سندھی، پشتون اور بلوچ عوام کے لیے غصہ کا باعث بنتا ہے۔ مسلم لیگ (نواز) اپنی پالیسیوں سے صوبوں کے درمیان خاصی سینڈوچ بن چکی ہے۔ اس سے مسلم لیگ کی سیاسی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پنجاب حکومت کی کمزور مالیاتی حالت، صوبہ کا ڈیفالٹ لائن پر کھڑے ہونا، غربت، بے روزگاری اور معاشی تنگ دستی نے بھی مسلم لیگ (نواز) کا مورال گرایا۔ لاہور پی پی 160 میں پاکستان تحریک انصاف کا 18 ہزار سے زائد ووٹ نکلنا ایک علامت ہے عوامی ناراضی کی۔ مسلم لیگ (نواز) اس بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی سے نکلنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے مسلم لیگ (نواز) جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا سوچ رہی ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت تیز ہو گا۔ لیکن مسلم لیگ (نواز) اگر حکومت کو مدت پوری کرنے سے پہلے گرانے کی کوشش کرے گی تو اس کا اسے فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


