Saturday, July 17, 2010

عدلیہ - حکومت تنازعہ، نیب پر کنٹرول کی کوششیں

عامر حسینی

این آر او کے حوالے سے سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے حوالے سے جن اقدامات کی نیب سے توقع کر رہی تھی وہ بالآخر ایک نئے تنازعہ کی شکل اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو بتلا چکی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ نہیں کھول سکتی۔ اس میں ایک طرف تو آئین کی شق 248 حائل ہے، دوسری طرف سوئس قانون اور تیسری طرف بین الاقوامی قواعد و ضوابط۔ وزیر قانون، سیکرٹری قانون اس حوالے سے اپنی پوزیشن بیان کر چکے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے کالعدم ہونے کے بعد بحال ہونے والے کیسز پر نیب کے کام کی نگرانی اور پراسکیوشن کو ہدایات جاری کرنے کے عمل نے بھی ایک نیا ایشو کھڑا کیا۔ سپریم کورٹ سابق چیئرمین نیب نوید احسن پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ سوئس عدالتوں کو خط لکھیں اور منی لانڈنگ، کک بیکس کے کیسز دوبارہ شروع کریں۔ ان پر جب دباؤ زیادہ بڑھا تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ابھی تک نیب کا نیا چیئرمین نہیں بنا ہے۔ جب کہ نیب کے قائم مقام چیئرمین جاوید قاضی نے بتایا ہے کہ انہیں کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب بینک فراڈ کیس کی از خود نوٹس کے تحت جو سماعت کر رہی ہے اس کے دوران ہی نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ پر واضح کیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس ایکٹ کے تحت نیب کی نگرانی اور کنٹرول کا کوئی اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کے انتظامی امور کی نگرانی یا کنٹرول کا سپریم کورٹ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ صرف اس ادارے کے قیام کا سبب بننے والے ایکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس لے سکتی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ این آر او کیس اور بینک آف پنجاب فراڈ کیس سمیت کئی معاملات میں نیب کے انتظامی امور اور اختیارات میں غلط مداخلت کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان عدالتوں میں نیب کے حکام کی تضحیک اور انہیں ہراساں کرنے کا عمل معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی پر بُرا اثر پڑا ہے۔ نیب کے شعبہ انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب کے سابق چیئرمین نوید احسن نے ہراساں کیے جانے اور تذلیل ہونے پر استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں بینک آف پنجاب کے وکیل سرکار خواجہ حارث اور میاں شہباز شریف پر بھی الزامات لگائے۔ عرفان قادر نے اس کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کو دوران سماعت یہ بھی بتایا کہ امریکا سے ہمیش خان نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے انہیں لکھا تھا کہ میاں شہباز شریف ان سے غیر قانونی فائدے اور حمایت کے خواہاں ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے اس خط میں یہ لکھ کر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ موجودہ عدلیہ کے بحال شدہ ججز کی بحالی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ 1973ء کے آئین کی رُو سے وزیر اعظم کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججز کو معطل یا بحال کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں کو اس کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔

ایک طرف تو عدلیہ کی طرف سے نیب کو کنٹرول کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آ رہا ہے اور دوسری طرف خود نیب کے اندر بھی اکھاڑ بچھاڑ کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ حکومت اس وقت نیب کے 35 افسران کو تبدیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ان میں سے 10 افراد کو تبادلے کے نوٹیفکیشن مل چکے ہیں۔ ان 35 افسران کے پاس نیب کے اہم مناصب ہیں۔ ان میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب شاہنواز بدر، خیبر پختونخوا میں نیب کے سربراہ مصدق عباسی، ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ہیڈ کوارٹر خورشید عالم، ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، ڈائریکٹر جنرل انسداد بدعنوانی لائحہ عمل عالیہ راشد، ایڈیشل ڈائریکٹر ظاہر شاہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر بریگیڈیئر اشفاق، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شہزاد سلیم بھی شامل ہیں۔ ان 35 افسران کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد نیب میں سیاستدانوں اور آمریت مخالف افراد کے خلاف سیاسی انتقام کی بنیاد پر مقدمات بنانے اور جمہوریت کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کا خیال ہے کہ یہ افراد احتساب کے کام کو شفاف رکھنے کے بجائے اسے سیاسی جماعتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

ڈائریکٹر فنانس شہزاد انور بھٹی، جو طویل عرصے سے نیب میں ہیں، وہ ڈائریکٹر جنرل آف آپریشن کے عہدے پر رہ کر صدر آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو اور پی پی پی کے دیگر وفاداروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں آگے رہے ہیں۔

ان افسران کا اب بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہیں ان کے حالیہ عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق یہ افسران بغاوت اور مزاحمت کے موڈ میں ہیں کہ یہ اپنے عہدوں سے ہرگز نہیں ہٹیں گے اور عہدوں کا چارج دیگر افراد کے حوالے نہیں کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کے یہ افسران اپنی مجاز اتھارٹی کے حکم سے سرتابی کس قانون اور ضابطے کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔

اس وقت نیب کے ترجمان غزنی خان کی مثال سامنے آ چکی ہے جنہوں نے اچانک پریس کانفرنس کر کے یہ بتانے کی کوشش کی کہ نیب کے پاس صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ غزنی خان کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ نیب کے پاس اگر صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت تھے تو گزشتہ 10 برسوں میں یہ ثبوت عدالت کے سامنے لا کر صدر آصف علی زرداری کو سزا کیوں نہ دلائی جا سکی۔ نیب کو عدالتی کنٹرول میں دینے اور اس کے اندر سے توڑ پھوڑ کی باتیں اس وقت سے زیادہ کھل کر سامنے آنے لگی ہیں جب سے نیب کے پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نیب بہت سارے سیاسی لیڈروں پر بنائے گئے ایسے کیسز واپس لینے کی سوچ رہا ہے جو محض قیاس آرائیوں اور بوگس اندازوں سے بنائے گئے تھے۔ ان میں کوٹیکنا کیس بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ، جو کہ بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی از خود سماعت کر رہا ہے، اس نے خواجہ حارث کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے جس میں عرفان قادر کی بطور پراسکیوٹر جنرل دوسری مرتبہ تقرری اور ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کی بطور قائم مقام چیئرمین کام کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔

پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر نے صحافیوں کو بتایا کہ خواجہ حارث نے اپنی درخواست میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ کہا کہ وہ مدت پوری ہونے کے باوجود اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں حالانکہ ان کو دوبارہ پراسکیوٹر جنرل بنایا گیا ہے اور یہ بالکل قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔ یہ بیان انہوں نے عدالت میں بھی دیا۔

جاوید قاضی قائم مقام چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ انہیں کام سے روکنے کا مطلب نیب جیسے ادارے کی مکمل تباہی ہے۔

نیب، جو کہ میاں نواز شریف کے دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اور بعدازاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر پی پی پی اور مسلم لیگ (نواز) کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، میں بہتر تبدیلیاں لانے کے لیے وفاقی حکومت نے جہاں قومی احتساب ایکٹ میں تبدیلی کرنے کے لیے ایک بِل متعارف کرایا وہیں اس کے انتظامی، انوسٹی گیشن اور پراسکیوشن کے اندر تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کو ایک طرف تو پارلیمنٹ کے اندر مشکلات کا سامنا ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی کے پاس نیا احتساب بل 56 ہفتوں سے پڑا ہوا ہے، اس بل پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف عدالتوں کے ذریعے نیب کے انتظامی امور میں مداخلت اس ادارے کی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ رکاوٹیں قومی دولت خزانے میں واپس لانے کے نام سے ڈالی جا رہی ہیں لیکن اب عوامی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالف قوتیں ”نیب اور عدالت“ دو مراکز کا استعمال کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ نئے انتخابات تک پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف کیسز اسی طرح سے قائم رہیں اور نیب کو پی پی پی کے خلاف استعمال کیا جاتا رہے۔ اس مہم میں پی پی پی مخالف سیاسی جمہوری قوتیں اگر حصہ نہیں بن رہیں تو وہ اس مذموم مہم پر خاموشی بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بدعنوانی کے شور اور احتساب کے مطالبے میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت اور پارلیمنٹ کو ناکام نظام اور ادارے کہنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور حکومت مخالف رٹس دائر کرنے میں معروف اکرم شیخ ایڈووکیٹ ایک ٹی وی چینل پر موجودہ جمہوریت سے پرویز آمریت کو بہتر قرار دے رہے تھے اور میڈیا، وکلاء اور سیاسی حلقوں کا ایک حصہ صدر آصف علی زرداری کو سویلین آمر کا لقب دے رہا ہے۔ مسلم لیگ (نواز)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف وغیرہ پیپلز پارٹی اور حکومت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے عدالتوں اور میڈیا میں ٹرائل کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کے سیاسی مخالفین چند تجزیہ کاروں اور وکیلوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔


تبصرہ


امیل

No comments:

Post a Comment