Saturday, June 20, 2015

Pakistan People 's Party and Friends of military establishment


پی پی پی اور اسٹبلشمنٹ کے دوست
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے ملٹری اسٹبلشمنٹ کو چنوتی دئے جانے کو ابھی تین دن مشکل سے گزرے ہوں گے کہ خود پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر سے ایسی آوازیں سامنے آنا شروع ہوگئیں جن کو انگریزی کے معروف اخبار " روزنامہ ڈان " نے " نقصان کنٹرول " کرنے کی پالیسی سے تعبیر کیا ہے آصف علی زرداری کی جانب سے افطار ڈنر کے بعد قمر الزمان کائرہ اور شیری رحمان نے جو پریس بریفنگ دی ، اس میں شیری رحمان تو اس بات سے صاف انکاری ہو گئیں کہ آصف علی زرداری نے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ بارے کوئی اختلافی بات کی ہو ، انھوں نے آصف عل؛ زرداری کے بیان کو سابق آمروں سے منسلک کردیا اور یہ توضیح اصل میں عذر گناہ ، بدتر از گناہ کی ذیل میں آتی ہے شیری رحمان پاکستان پیپلزپارٹی میں شہید بے نظیر بھٹو کے دور میں ان لوگوں میں شامل تھیں جن کی اصل میں پروفیشنل صلاحیتوں سے محترمہ بے ںظیر بھٹو نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا ، یہ لوگ صحافت ، سول سوسائٹی اور مغربی صحافتی حلقوں میں معروف تھے ، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ان سے پارٹی کے پیغام کو اچھے طریفے سے آگے تک پہنچانے کے لئے کام لیا کرتی تھیں ، بالکل ایسے جیسے حسین حقانی نے امریکہ کے اندر جو تعلقات بنائے تھے بی بی نے ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کو اپنے قریب کیا تھا اور ایسے کئی مینجرز اور بھی شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے قریب کئے تھے ، رحمان ملک ایف آئی اے سے آئے تھے اور گھر کے بھیدی تھے ، انھوں نے بی بی کو ان کے خلاف ہونے والے ٹرائل میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں بارے آگاہ کیا تھا ، جسٹس قیوم کی ٹیپس انھوں نے فراہم کی تھی اور بی بی ان سے اس حوالے سے کام لیا کرتی تھیں ، ایسے ہی بابر اعوان ، فاروق ایچ نائیک تھے جن سے بی بی قانونی معاملات میں مدد لیا کرتی تھیں ، لطیف کھوسہ بھی ایسے ہی ایک وکیل تھے اور زیادہ سے ان کا کوئی سیاسی کردار تھا تو وہ بار میں پیپلزلائرز فورم کی سیاست تک محدود تھا مگر بی بی صاحبہ کی شہادت کے بعد شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے ان سب لوگوں کو پاکستان پیپلزپارٹی میں کلیدی عہدے دئیے بلکہ ان کو پاکستان پیپلزپارٹی کے 2008ء کے اقتدار کا چہرہ بھی بنا ڈالا بابر اعوان نے ابتک جتنی بھی رونمائی دکھائی ہے ، اس کا سرسری سا تجزیہ یہ بتادے گا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے سے لڑائی وہ مول لینے کا خیال تک نہیں لاسکتے ، بلکہ جب بھٹو کے کیس کے ری ٹرائل کا موقعہ آیا تو اس وقت بھی بابر اعوان نے سارا فوکس " عدالتی اسٹبلشمنٹ " کی جانب رکھا اور اس معاملے میں " ملٹری اسٹبلشمنٹ " کا جو غالب کردار تھا اس بارے میں ان کا ایک بیان بھی سامنے نہیں تھا اور پھر جب عدالتی اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی شروع ہوئی تو یہ بابر اعوان تھے جنھوں نے بار کے اس سارے گند کو پیسے دیکر اپنے ساتھ کھڑا کروایا جو مشرف کے ساتھ بھی کذرا رہا تھا اور مسعود چشتی جیسے لوگ سیکرٹری قانون بنادئے گئے ، یہ سارا معاملہ جیسے بابر اعوان ، فاروق ایچ نآئیک اور کھوسہ نے ہینڈل کیا ، اس سے پی پی پی کی حکومت کو کیا پریشانیاں پیش آئیں ، وہ اب ریکارڑ کا حصّہ ہے شیری رحمان کا اگر معاملہ دیکھا جائے تو بطور وزیر اطلاعات و نشریات ان کا کردار ہمارے سامنے ہے ، کیسے وہ مشکل وقت میں پسپائی اختیار کرگئیں اور پھر یہ شیری رحمان اینڈ کمپنی تھی جس نے آصف علی زرداری کو نجم سیٹھی ، اعجاز حیدر ، دانیال حسن ، بینا سرور اور دیگر کئی کرداروں کے پارٹی کے حق میں ہونے کا یقین دلایا اور پھر وہ اسی دوران اپنی این جی او " جناح انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ " کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے قریب لانے اور ان کو رام کرنے کے لئے استعمال کرتی رہیں اور ایک وقت میں ہم نے رضا رومی کو اس کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی دیکھا اور پھر جب حسین حقانی کے بعد امریکہ میں نئے امریکی سفیر کے تعین کی بات سامنے آئی تو اس کا فیصلہ بھی قومی سلامتی کیمٹی کے اجلاس میں ہوا اور امریکہ میں سفیر کے لئے بیگم عابدہ حسین کا نام چاہتے تھے لیکن ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر شیری رحمان کا نام سامنے آیا اور پھر ان کے دور سفیری میں یہ بھی سنا گیا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر ان لوگوں کو فارغ کیا گیا جو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے نزدیک گھس پیٹھیہ تھے شیری رحمان اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات بارے ایک مرتبہ پھر اس وقت شور اٹھا جب معروف دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عاشہ صدیقہ نے اپنے ایک کالم میں شیری رحمان کے جناح انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار معید یوسف کو لیکر یہ کہا کہ آئی ایس آئی امریکی تھنک ٹینکس میں اس انسٹی ٹیوٹ کے زریعے سے اپنے بندے داخل کررہی ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعمیر بینک کے زریعے سے جناح انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کو تنخواہیں آئی ایس آئی ادا کرتی ہے جناح انسٹی ٹیوٹ نے اسی دوران افغانستان کے حوالے سے ایک رپورٹ شایع کی ، جس میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کی لائن لی گئی تھی ، جس سے پی پی پی کی حکومت اتفاق نہیں رکھتی تھی اور اس معاملے کو لیکر بھی بہت سے لوگوں نے شری رحمان کے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ روابط کو بحث کا موضوع بنایا شیری رحمان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر ایسے لبرل اشراف زادے اور زادیاں موجود ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر بہت پختہ ہوچکا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی میں برگر کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنی ہیں شیری رحمان اور سول سوسائٹی میں ان کی گروپنگ نجم سیٹھی اور بینا سرور گروپ کے ساتھ ہے اور یہ سول سوسائٹی اور میڈیا کا وہ سیکشن ہے جس نے ایک طرف تو پاکستان کے اندر شیعہ ، سنّی نسل کشی پر ابہام کا پردہ ڈالا تو دوسری طرف اس سیکشن نے اس نسل کشی کے زمہ دار تںظیموں کو سپورٹ کرنے والے محمد احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی اور اورنگ زیب فاروقی جیسوں کو امن کے پیامبر کے طور پر پروموٹ کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار اور اس مرتبہ کی سندھ حکومت کے دور میں اگر شیعہ اور سنّی بریلوی یہاں تک کہ کرسچن ، ہندؤ وغیرہ بھی جو پی پی پی سے دوری کا سبب ہے اس کی وجہ بھی یہی گول مول رویہ ہے اور اس کی وجہ سے ملٹری اسٹبلشمنٹ نے " ایک پنتھ دو کاج " والا کام کیا کہ ایک تو ان برادریوں کے ایسے لیڈر سامنے لیکر آئی جو ملٹری اسٹبلشمنٹ کے زیادہ قریب ہوگئے اور پھر ڈاکٹر طاہر القادری جیسے لیڈروں کی پی پی پی سے دوری کا سبب یہی نام نہاد لبرل لیڈر بن گئے شیری رحمان کراچی کے اندر بینا سرور ایںڈ کمپنی کے زریعے سے کام کرتی ہے ، اس حوالے سے ایل یو بی پاک رائٹ بلاگ کے موجودہ ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج نے راقم سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بینا سرور سے اپنا ایک مکالمہ یوں بیان کیا
Beena's argument on defense of Sethi. Sethi has to please everyone so he has to bring in Ludhanvi and Ashrafi. My answer: Why does he bring in those who advocate Genocide of Shia Sunni Sufi and Barelvi as well as Ahmadis and Christians? If he sits with our killers, how does it help the victims? It only helps he killers. Beena: Well he has to live in Pakistan and be on TV. ME: No he does not have to be on TV it is not necessary for him to be on TV, he can choose another profession or another country. گویا اس ملک میں ٹی وی پر موجود رہنے اور زندہ رہنے کے لئے لدھیانوی ، اشرفی جیسوں کو راضی رکھنا ضروری ہے ، یقینی بات ہے کہ بینا سرور نے مبالغے سے کام لیا اور نجم سیٹھی گروپ کی موقعہ پرستی ، خود غرضی کا دفاع کرنے کی کوشش کی ، مگر اس سے یہ ثابت تو ہوتا ہے کہ یہ لوگ فیک قسم کے ہیں اور ان جعلی لوگوں کے ہاتھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مہار دے دینا کہاں کی عقل مندی ہے علی عباس تاج نے کہا کہ عامر بھائی ! مجھے ایسا ہی معاملہ رضا رومی سے پیش آیا ، جب میں نے اس سے اشرفی کے ساتھ بیٹھنے کی وضاحت طلب کی تو اس کے پاس بھی وہی دلائل تھے جو بینا کے پاس تھے علی عباس تاج نے مجھ سے سوال کیا کہ اس قدرسمجھوتہ بازی کے باوجود رضا رومی پر حملہ ہوگیا اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جب ان کے گھر تک آگ پہنچ چکی ہو تو بھی یہ لوگ مصلحتوں کو ترک کیوں نہیں کرتے ؟ تو جو لوگ " فریب کی حد تک " بتوں سے امیدیں لگائے ہوئے ہوں اور اپنے قاتلوں سے زندگی کے پروانے طلب کرتے ہوں ، وہ عوام کی مسیحائی کے قابل کس طرح سے ہوسکتے ہیں شیری رحمان کی اسٹبلشمنٹ نوازی کے حوالے سے مجھے ایک اور واقعہ بھی یاد آرہا ہے کہ منیر مینگل جب بازیاب ہوکر آیا تو اس نے کئی ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ شیری رحمان جو اس وقت انفارمیشن منسٹر تھیں کی جانب سے دھمکی آمیز کالز وصول ہوئی تھیں ، شیری رحمان نے اسے زبان بند رکھنے کو کہا اور زرینہ بلوچ کے معاملے کو اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے ، اسے ہندوستان کی طرف سے چیلنجز کا سامنا ہے ، پاک بھارت تعلقات معمول پر آئے تو زرینہ بلوچ کا معاملہ اٹھایا جائے گا اور شیری رحمان نے منیر مینگل کو بھاری رشوت کی پیشکش بھی کی تھی

Friday, June 19, 2015

Interview with Alex Callincos on Middle East


سعودی عرب کے حوثی قبائل پر فضائی حملے بند کرنے کے سعودی دعوے کے باوجود حملے جاری ہیں - سعودی عرب کس چیز کے لیے لڑرہا ہے ؟ ہم سعودی شاہی خاندان کی مجموعی پوزیشس سے آغاز کرتے ہیں - وہ وہابی کنزرویٹو رژیم کی قیادت کرتے ہیں ، جو کہ گلف کیپٹل ازم کی مرکزی قیادت فراہم کرتی ہے ، اب وہ عالمی معشیت کا ایک اہم سنٹر بھی ہے ، جس کا سرمایہ عالمی سطح پر بھی سرگرم ہے اور بقی سارے مڈل ایسٹ میں بھی - لیکن ان کو کئی ایک خطرات کا سامنا ہے ، امریکہ میں شیل پروڈکشن کا ابھار سعودی عرب کی تیل کے سب سے بڑے پیداوار کرنے والے ملک کی پوزیشن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اسی طرح سے سعودی شاہی خاندان کو خطے کے اندر سے بھی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے - جیسے ایران ہے جوکہ نہ صرف جیو پولیٹکل طور پر آل سعود کے لیے خطرہ ہے بلکہ آئيڈیالوجیکل طور پر بھی تہران اس وقت آل سعود کے مقابلے میں ایک طرف تو خود شیعی اسلام کا علمبردار ہے (تو وہ دوسری طرف سنّی صوفی اسلام ، خطے میں بسنے والی دوسری مذھبی بلکہ بائیں بازو کی سیکولر و سوشلسٹ قوتوں کے لیے بھی جگہ فراہم کررہا ہے اور یہ زیادہ شماریت پسند ہے Inclusive ہے ) پھر تہران اس وقت کم از کم نعرے بازی کی حد تک تو سامراجیت مخالف ہے اور یہ عرب انقلابات کی حمایت کررہا ہے ، جیسے اس نے اخوان المسلمون کی مصر میں انقلاب کے وقت حمائت کی جن سے سعودی اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی وہ ایرانیوں سے کرتے ہیں کیونکہ اخوان المسلمون نے ایک تو مڈل ایسٹ میں ان کے وہابی اسلام کے واحد بڑے نمائندے ہونے کی حثیت کو چیلنج کیا تھا (دوسرا وہ سعودی عرب کی بجائے قطر و ترکی کے ساتھ زیادہ اٹیچ ہوگئی تھی ( اور شام میں بھی اس نے سعودی پراکسی لڑاکوں کی حمائت کرنے کی بجآئے قطر اور ترکی کی حمایت یافتہ لڑاکا فورس جیسے اسلامک جہاد وغیرہ تھیں کو سپورٹ کیا تھا اور یمن میں بھی اس کی پارٹی یعنی الاصلاح نے سعودیہ کے ساتھ مکمل جانے سے احتراز کیا ) امریکی حملے کے بعد جب سے صدام کو ہٹایا گيا ہے تب سے عراق کے اندر شیعہ - سنّی - کرد کولیشن حکومت بنی ہے ، اس میں شیعہ کو پہلی مرتبہ اکثریت ہونے کی وجہ سے نمائندگی ملی ہے اور یہ شیعہ اس سے پہلے بطور ایک پسی ہوئی مظلوم کمیونٹی کے طور پر عراق میں موجود تھے -ایک طرح سے عراق میں نئے سیٹ اپ نے سعودی عرب کے مفادات کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کے بدلے میں سعودی عرب نے شام میں بہار عرب انقلاب کو فرقہ پرستی کی طرف پھیر دیا اور انھوں نے مصر کے اندر ردانقلاب قوتوں کو سپورٹ کیا جس نے خاص طور پر اخوان المسلمون کو نشانہ بنایا -لیکن اس ساری کوشش کا ایک نتیجہ تو داعش ہے -اس نے پھر بشار الاسد کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ، جس کو ایران ، روس اور چین کی حمائت حاصل ہے -حال ہی میں ایک ایرانی ممبر پارلیمنٹ نے بیان دیا کہ ایران اب عرب دنیا کے تین بڑے ملکوں کے دارالحکومت پر ایران اثر انداز ہوتا ہے - بیروت ، بغداد اور دمشق تو اب سعودی ، ایک نئے بادشاہ کے نیچے جس کا نام سلمان ہے جس نے حال ہی میں ولی عہد تبدیل کیا ہے اور کئی ایک وزیر بدل ڈالے ہیں ، وہ جوابی طور پر شدید حملے کررہا ہے - انھوں نے پہلے ہی تیل کی پیداوار کم کرنے سے انکار کیا ہے تاکہ تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں میں مزيد کمی کی راہ نہ روکی جاسکے - اب انھوں نے حوثی ملیشیا کی جیت روکنے کے لیے جوکہ شیعہ ہیں ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے ، سعودی ایرانی اثر پھیلنے کے بارے میں پاگل پن کی حد غصے میں ہیں اور ان کو یہ ڈر ہے حوثی تہران کے اشارے پر ناچتے ہیں -اور ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے سعودی نیشنل گارڑ نے 2011 ء میں بحرین کے انقلاب کو کچلنے کے لئے مداخلت کی تھی ، بحرین وہ ملک ہے جہاں شعیہ اکثریت جبر وظلم کے سائے میں زندکی بسر کررہی ہے امریکہ ایک طرف تو حوثی ملیشیا پر سعودی حملے کی حمائت کررہا ہے ، اسی دوران وہ ایران سے اس کے نیو کلئیر پروگرام پر ڈیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور پھر وہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف لڑنے کے لئے ایرانی اتحادیوں پر انحصار کرتا ہے ، تو اس خطے میں امریکیوں کے سٹریٹجک مقاصد کیا ہیں ؟ اوبامہ جب صدر نہیں بنا تھا تو اس وقت سے وہ ایران سے ڈیل کی بات کررہا تھا ، اصل میں وہ عراق میں امریکہ کی ناکامی کے بعد سے مڈل ایسٹ میں امریکی قبضے کو دوبارہ سے مستحکم کرنے کی کوشش میں تھا -اس کی سٹریٹجی یہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جیسے ایران ، ترکی ، سعودیہ عرب اور اسرائیل ہیں کہ وہ مقامی کرائسز کو حل کرنے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کریں -لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کے مفادات آپس میں متصادم ہیں اور یہ بات امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ ان کو تقسیم کرو اور لڑاؤ کے تحت جہاں تک ہوسکتا ہے ایک حد ت رکھتا ہے اور کسی ایک کو مکمل طور پر خطے میں غالب نہیں آنے دیتا -لیکن یہ بہت زیادہ پیچیدہ بھی ہے -اور سب سے زیادہ پیچیدہ ایران ہے ، 2005 ء اور 2006ء میں جب بش اور ڈک چینی ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے تو یہ پینٹاگان تھا جس نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا تھا ، کیونکہ امریکہ پر ایران کا حملہ کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم تھے ، کیونکہ عراق کے برعکس ایک تو یہ گنجان آبادی کا ملک ہے اور پھر یہاں جو رجیم برسراقتدار ہے وہ ابھی سماجی بنیاد رکھتا ہے اوبامہ کا متبادل تہران سے نیو کلئیر ڈیل کرنا ہے - لیکن ہنری کسنجر اس کیس میں ایک اصطلاح " لنکیج " استعمال کرتا ہے وہ کمزور ہے ، یعنی ایران سے امریکہ کی ایٹمی پروگرام پر جو ڈیل ہے وہ دوسرے ایشوز پر تعاون پر منتج ہوگی ؟ اس بارے میں اشارے کمزور ہیں، تو ایران اپنا ایجنڈا چلارہا ہے جب وہ بشار الاسد کی شام میں حمائت کرتا ہے اور عراق میں داعش کے خلاف لڑتا ہے - عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ اور ایران کا اشتراک بنتا ہے لیکن اس سے اتحاد کا راستہ نہیں نکلتا -امریکی دائیں بازو کے مبصرین جب یہ کہتے ہیں کہ اس وقت داعش کے خلاف جو عراقی شیعہ ملیشیا سے لڑرہی ہیں انھوں نے امریکہ کے عراق پر قبضے کے دوران امریکی سپاہیوں کو قتل کیا تھا اوبامہ ایران سے ڈیل کرکے سعودی کو مزید ناراض کررہا ہے اور وہ پہلے ہی ان کو سخت غضے میں مبتلا کرچکا ہے تو یمن میں سعودی جارحیت کو سپورٹ کرنے کا مقصد دوھرا ہے کہ داعش اور القائدہ کو یمن سے دور رکھا جائے اور سعودی کو بھی یقین دلائے کہ وہ اب بھی ان کے ساتھ ہے -لیکن یہ جو بمباری ہے سعودی جارحیت کی اس کا اثر کم ہے اور سعودی چاہتے تھے کہ زمینی حملہ کیا جائے ، سعودی جانتے ہیں کہ 1960ء میں جمال عبدالناصر نے ان سے یمن میں پرکسی جنگ لڑی تھی جس نے جمال عبدالناصر کی خطے اور خود مصر میں اثر کو کمزور کردیا تھا تو سعودی کئی دوسری ریاستوں کو زمینی حملوں کے لیے راضی کرنا چاہا ، جیسے پاکستان ، ترکی اور مصر ہیں لیکن ان سب نے انکار کردیا ، امریکی جانتے ہیں کہ سعودی یمن میں بہت بڑی تباہی اور خرابی کو جنم دے چکے ہیں لیکن وہ ان کو سختی سے چیلنج کے زریعے مزید ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں کیا عظیم تر مڈل ایسٹ میں امن کے لئے یہ سٹریٹجی کارآمد ہوگی ؟ نہیں ! لیکن ہمیں اتنا سادہ نہیں ہونا چاہئیے کہ ہم یہ خیال کرنے لگیں کہ امریکہ امن میں دلچسپی رکھتا ہے - آخر کا اوبامہ نے بھی ہمیشہ پیٹی مضحکہ خیز امن پروسس کو ترک کردیا ہے جو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان شروع کیا گيا تھا - سارا کھیل اب عالمی معشیت میں بنیادی اہمیت کے حامل حظے میں امریکی سامراجیت کے غلبے کو برقرار رکھنے کا ہے - اور اس کھیل سے چاہے جتنی اموات ہوں ، جتنی مشکلات ہوں ، جتنی بری حالت ہو ، اس سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں ہے -اوبامہ شام میں ان فورسز کے ساتھ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے جن کو وہ پسند نہیں کرتا چاہے وہ اسد ہو یا داعش - اور وہ یہ لڑائی جیتنا چاہتا ہے یمن ، شام اور عراق سے لیکر یوکرائن یا حتی کہ مالی تک سب جگہ لڑائی ہورہی ہے -کیا عالمی سطح تک یہ تصادم جائے گا ؟ اگر ایسا ہے تو کیوں ؟ ہاں تصادم کی سطح بلند ہورہی ہے ، اگرچہ شام کو چھوڑ کر اموات کی تعداد وہ نہیں ہے جو سرد جنگ کے دنوں میڑ کوریا ، ویت نام ، ایران ، عراق اور افغانستان وغیرہ میں ہوئیں اور اس کی وجہ 1930ء کے بعد کیپٹل ازم کو پیش آنے والا کرائسز ہے جس نے امریکی غلبے و تسلط کو کسی حد تک کمزور کردیا ہے اور ہم اس کا نظارہ مڈل ایسٹ میں کرسکتے ہیں جہاں پہلے سے موجود سیاسی سیٹ اپ کو دو بڑے ہتھوڑے پڑے ہیں ، پہلا عراق پر امریکی حملہ اور اس کی شکست اور دوسرا 2011ء کے انقلابات بلکہ یوکرائن کے کیس میں بھی پیوٹن نے اگرچہ دفاعی انداز میں یورپ اور نیٹو یو روس کی سرحدوں تک آنے سے روکا ، اس کا بڑھا ہوا اعتماد بھی امریکی زوال کے سبب ہے -مثال کے طور پر اس نے کس قدر کامیابی سے ستمبر 2013ء میں اسد کی جانب کیمکل اٹیک کے بعد اوبامہ کے فضائی حملے کرنے کی دھمکی کو غیر موثر بنادیا تھا اس سارے معاملے میں چین کے دوسری بڑی معشیت اور دنیا کے سب سے بڑے ایکسپورٹر ، مینوفیکچرر کے طور پر ابھرنے سے جو سٹرکچرل تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے - پھر یہ بات بھی ہے کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جو اتحاد بنائے تھے بیجنگان سے الگ رہا اور اب وہ ایشیا پیسیفک میں امریکی فوجی غلبے کو کم کرنے کی سٹریٹجی پر عمل پیرا ہے ، اور امریکی سامراجیت کے لیے یہ زیادہ پریشانی کا باعث معاملہ ہے ، مڈل ایسٹ اور یوکرائن کے کیس میں تصادم زیادہ ڈھکے چھپے تھے ، لیکن ایشیا سامراجی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا زون بنتا جارہا ہے اور اس میں صرف امریکہ اور چین ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ ہندوستان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، ویت نام اور دیگر بھی ملوث ہیں آج کی جو پیش رفت ہے یہ ہمیں پہلی جنگ عظیم سے پہلے عظیم طاقتوں کے درمیان بڑھنے والی کشاکش کی یاد دلاتی ہے اور اس کا نتیجہ عالمی جنگ تھا - کیا آج بھی یہ حقیقی خطرہ ہے ؟ اور ہمیں اسے روکنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں ؟ وہاں 1914ء سے بہت سی مماثلت ہے -پہلی مماثلت کہ جیو پولیٹکل مسابقت میں اضافہ ہورہا ہے -اور 20 ویں صدی میں جیوپولیٹکل اور اکنامک مسابقت دوبارہ سے ابھر کر سامنے آئی : جرمنی اور امرکہ برطانہ کے انڈسٹریل اور نیول غلبے کو چیلنج کررہے تھے اور برطانیہ کو مجبور کیا کہ وہ ایک کو شکست دینے کے لیے دوسرے سے اتحاد کرے ، تو اسی طرح چین بھی ایک بڑے معاشی چیلنجر کے طور پر امریکہ کے مقابل ہے اور وہ مغربی پیسفک میں امریکی نیول غلبے کے خاتمے کے لئے اپنی فوج تعمیر کررہا ہے لیکن ہمیں ان مماثلتوں میں مبالغہ آرائی سے کام لینا نہیں چاہئیے ، اگست 1914ء سے پہلے یورپ دوطاقتور ترین بلاک میں بٹ چکا تھا اور آج ویسی صورت حال نہیں ہے - امریکہ کمزور ہوسکتا ہے ، لیکن امریکہ اب بھی سب سے زیادہ مضبوط سرمایہ دار ریاست ہے اور اہم ترین سرمایہ دار ریاستوں کے نیٹ ورک کا مرکز ہے اور یہ کافی دیر تک چین کو الگ کرنے یے لئے ایشیا میں تقسیم کرو اور لڑاؤ کا اصول اپنا کر سرگرم رہ سکتا ہے - چین کی قیادت بھی امریکی ہاتھوں میں کھیلی ہے جب اس نے جنوبی چین سمندر کے اندر تنازعوں میں چھوٹی پاورز کو زخم خوردہ کیا ہے مجھے ابھی چینی کمیونسٹ پارٹی اندرونی معاملات میں گرفتار لگتی ہے جیسے معشیت کی سست روی ، بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل اور پرسنل غلبے کی ڈرائیو جیسے کرپشن کے خلاف مہم ، ہوسکتا ہے مستقبل میں ڈومیسٹک کرائسز بیجنگ کو فارن پالیسی میں جارحانہ عنصر کو سامنے لائے لیکن ابھی یہ ان کا ایجنڈا نظر نہیں آتا یوکرائن کا کرائسز جس تیزی سے انٹر امپریلسٹ تصادم کے امکانات کو لیکر سامنے آیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی تک " جنگ مخالف تحریک " کی تعمیر کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایسا کسی ایک امپرلیسٹ پاور کی دوسرے کے خلاف سائیڈ لینے کے ساتھ نہیں کرنا چاہئیے جب ہم کسی ایک کیمپ میں جاتے ہیں ، جیسے چین اور روس کو امریکہ کے خلاف پروگریسو کاؤنٹرویٹ کے طور پر دیکھنا ، اس حقیقت کو فراموش کرتا ہے کہ سامراجیت مسابقاتی سرمایہ دار طاقتوں پر مشتمل ایک نظام ہے اور ایک حریف طاقت کی سپورٹ کا مطلب آزاد لیفٹ پالٹیکس کو ترک کرنا ہوتا ہے ، پہلی جنگ غظیم کے دوران لینن اور روزا لکسمبرگ نے جو موقف اپنایا ہمیں اس کی روح کو اپنا ہے ، جب انھوں نے کسی ایک سامراجی اتحاد کے ساتھ جانے کے تصور کو رد کردیا ، ہمارا مقصد ایک ایسی عوامی تحریک کی تعمیر ہونا چاہئیے جو پورے سسٹم کو اکٹھے ہی اٹھا کر پھینک دے

Tuesday, June 16, 2015

Why I Am with LUBPAK ? ایل یو بی پاک کی حمائت کیوں ؟


سوشل میڈیا پر ایل یو بی پاک - تعمیر پاکستان بلاگ کافی عرصہ سے کام کررہا ہے ، اس بلاگ نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، صوفی سنّی نسل کشی ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ اور دیگر مذھبی کمیونٹیز پر منظم دھشت گردی کے حملوں کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ ان سب کے پیچھے " دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں جو سلفی تکفیری تنظیموں جیسے داعش اور القائدہ ، جبھۃ النصری وغیرہ ہیں کے ساتھ ملکر کام کررہی ہیں اس بلاگ کی مجموعی پالیسی یہ نظر آتی ہے کہ پاکستان کے اندر سول سوسائٹی اور لبرل صحافت و تجزیہ نگاری سے منسلک ایسے افراد اور گروپس موجود ہیں جو ایک طرف تو شیعہ ، سنّی ، کرسچن اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم دھشت گردی کرنے والی تنظیموں کی دیوبندی تکفیری شناخت کو چھپاتے ہیں ، دوسری طرف یہ ان دیوبندی تکفیری تنظیموں کے لئے پروپیگنڈے اور دیگر زرایع سے جگہ ہموار کرنے والی تنظیموں اور افراد جیسے نام نہاد اہلسنت والجماعت - سپاہ صحابہ پاکستان اور اورنگ زیب فاروقی ، محمد احمد لدھیانوی ، اشرفی وغیرہ کو امن کے پیامبر کے طور پر پروموٹ کرتے ہیں ، ایل یو بی پاک نے اس حوالے سے کئی شخصیات کو بے نقاب کیا ہے جن میں سرفہرست نجم سیٹھی اینڈ کمپنی ہے ، جیو جنگ گروپ کے سرکردہ لوگ ہیں ، جناح انسٹی ٹیوٹ کی باس شیری رحمان اور اس کا گروہ ہے حال ہی میں ایل یو بی پاک نے امن کی آشا پروگرام کی انچارج بینا سرور ، اس کی اسسٹنٹ المانہ فصیح اور ان سے تعلق رکھنے والے کچھ اور لوگوں کے بارے میں بھی کافی انکشافات کئے کہ کیسے یہ پورا ٹولہ نجم سیٹھی مافیا کو بچانے میں سرگرم ہے اور اس پورے مافیا نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کو obfuscation کی نذر کرڈالا ہے اور یہ اس سارے معاملے کو " ادلے بدلے " اور شیعہ - سنّی بائنری کے تناظر میں دیکھتا ہے اور ان کے تناظر کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری فاشزم صاف صاف بچ نکلتا ہے کچھ روز پہلے المانہ فصیح نے دھشت گردی پر ہونے والی بحث کے دوران فیس بک پر اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃالذھرا رضی اللہ عنھا کے بارے میں انتھائی بھونڈے ، عامیانہ ، ابتذال اور انتہائی تہذیب و اخلاق سے گرے ہوئے کمنٹس لکھے اور ان کمنٹس پر ہر طرف سے مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا تعمیر پاکستان بلاگ کے سابق بانی مدیر عبدل نیشاپوری ،علی عباس تاج ، نور درویش ، عباس زیدی ، علی شہرام اور خرم زکی سمیت دیگر افراد نے المانہ فصیح کے ان فقرات کی سخت مذمت کی اور اپنے پالیسی موقف کے مطابق " بلامشروط معافی " معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے انھوں نے المانہ فصیح کے کمنٹس کے سکرین شارٹ اور المانہ فصیح کی تصویر بھی شایع کی اس دوران یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگوں کی جانب سے ایل یو بی پاک کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی ، جس میں یہ دھائی دی گئی کہ ایل یو بی پاک کے لوگوں نے تو لبرل لوگوں کے خلاف ایک محاز کھول رکھا ہے اور وہ لبرل ازم کے مہان لوگوں کو دیوبندی ہونے کے فتوے جاری کررہا ہے ، اس کے ساتھ ہی یہ مہم بھی جاری کی گئی کہ ایل یو بی پاک نے المانہ فصیح کو " بلاسفیمی " کا مرتکب ٹھہرایا ہے اور وہ دراصل المانہ فصیح کو مذھبی جنونیوں کے ہاتھوں قتل کرانا چاہتی ہے ایل یو بی پاک کے خلاف جب یہ مہم کچھ زیادہ جاندار نہ ثابت ہوئی تو ایک فیک آئی ڈی " ان ماسکینگ ٹریٹر " کے نام سے فیس بک پر بنایا گیا ، ان ماسکنگ ٹریٹر پی کے ڈاٹ ورڈ پریس ڈاٹ کام اور ایٹ دی ریٹ آف ان ماسکنگ ٹریٹر کے نام سے بلآگ و ٹوئٹر اکاؤنٹ سامنے آگیا اور اسی طرح سے ایک اور نام نہاد مارکسی دانشور احمد خان نے انھی جعلی کھاتوں کے سٹیٹس اور جعلی مواد کو استعمال کرتے ہوئے شیعہ نسل کشی بارے ايڈوکیسی مہم چلانے والے انسانی حقوق کے ایسے لوگوں کے بارے میں پروپیگنڈا شروع کیا جوکہ ایل یو بی پاک کے موقف سے کسی حد تک موافقت رکھتے ہیں اور معاشرے میں ان کی فالوئنگ کافی ہے ، جیسے علی ناطق عرف علی مشہدی ، سید طالب رضا کہ ان کے بارے میں ایل یو بی پاک سے یہ بات منسوب کی گئی کہ یہ سب لوگ اصل میں غدار ہیں ، یہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے ملے ہوئے ہيں اور یہ نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کے ہی لوگ ہیں ایک صاحب ہیں سلمان حیدر غضب کے شاعر ہیں " تو بھی کافر ، میں بھی کافر " نظم کے خالق ہیں ، جس کو بے مثال شہرت حاصل ہوئی ، وہ صاحب " عبدل نیشاپوری " کے ساتھ کہیں حالت فکری جدل میں تھے اور اختلاف وہی تھا کہ عبدل نیشا پوری کا اصرار تھا کہ شیعہ نسل کشی ، صوفی نسل کشی ، احمدی ، ہندؤ ، کرسچن پر منظم دھشت گردانہ حملے کرنے میں ساری ملائيت نہیں بلکہ صرف " دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیميں اور ان کے ںظریہ ساز " زمہ دار ہیں - جبکہ سلمان حیدر " دیوبندی تکفیری دھشت گرد اور دیوبندی تکفیری فاشزم " کی اصطلاحوں کو اپنانے پر تیار نہ تھے ، اور عبدل نیشا پوری ان سے چاہتے تھے کہ وہ اپنی شہری صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے " دیوبندی تکفیریت " کے خلاف زبردست نظم لکھیں لیکن یہ معاملہ ابھی درمیان میں تھا کہ عبدل نیشا پوری نے ان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو شیعہ نسل کشی کو شیعہ - سنّی بائنری اور ادلہ بدلہ قراردیں جیسے سیٹھی مافیا ، المانہ فصیح اور بینا سرور ، طارق فتح اینڈ کمپنی اور سپاہ صحابہ کی قیادت کے پروموٹرز ہیں ان کی مذمت کریں اور ان کو بے نقاب کریں ، اسی دوران " المانہ فصیح " والا معاملہ بھی سامنے آگیا تو سلمان حیدر بھی اس میدان میں کود پڑے انھوں نے اپنے ایک سٹیٹس میں دعوی کیا کہ
اور آپ اس سکرین شارٹ اور اس کے نیچے ان کے یا دوسروں کے کمنٹس میں پڑھ سکتے ہیں کہ کہیں ایک جگہ بھی انھوں نے یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ یہ سٹیٹس انھوں نے unmaskingtraitorpk.wordpress.com کے اوپر 'علی ناطق " بارے ایل یو بی پاک سے منسوب بیان پڑھنے کے بعد کیا ، بلکہ انھوں نے صاف صاف لکھا کہ ایل یو بی پاک نے اپنے ایک ٹوئٹ ميں ابھی علی ناطق کو بھی دیوبندی قرار دے ڈالا ہے ان کے اس سٹیٹس کے بعد ٹوئٹر ، فیس بک پر گویا ایک بھونچال آگیا اور مسلسل ایل یو بی پاک کے بارے میں جو منہ میں آیا بکا جانے لگا میں نے سلمان حیدر کا جب سٹیٹس پڑھا تو مجھے بڑا عجیب لگا اور میں نے ایل یو بی پاک کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک آرکائیوز کا اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کا اکاؤنٹ ، خرم زکی کا اکاؤنٹ ، نور درویش ، سید الملک الحجاجی کا اکاؤنٹ چیک کیا ، عباس زیدی کے کھاتے دیکھے کہیں پر بھی کوئی ایسا سٹیٹس موجود نہیں تھا ، میں نے ان میں تین کو ٹوئٹ بھی کیا اور پوچھا ، انھوں نے کہا کہ سلمان حیدر غلط بیانی کررہا ہے تو میں نے سلمان حیدر سے پوچھ لیا کہ وہ ٹوئٹ کہآں ہے کافی دیر بعد ان کا جواب آیا تو اس میں پہلے تو یہ کہا
آب اس سے کیا فرق پڑھتا ہے " سوال کی اہمیت " پر کہ ميں ایل یو بی پاک کا حصّہ ہوں یا نہیں ، ایل یو بی پاک میں لکھنے والے مرے لونڈے ، لپاڑے ہیں یا نہیں سلمان حیدر نے کہا کہ ایل یو بی پاک نے " سیٹھی ، سیٹھی " جو ںظم لکھی اس سے یہ صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ انھوں نے مجھے دیوبندی قرار دے ڈالا ہے اور اسی میں کہا کہ نظم میں ایک کیپشن پر لکھا ہے کہ Ale Natiq Joins Sethi Mafia اب پہلی تو بات یہ ہے کہ اس نظم کے متن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایل یو بی پاک نے سلمان حیدر کو سیٹھی کیمپ کا آدمی اس لیے قرار دیا کہ سلمان حیدر نے ایک طرف تو دیوبندی تکفیریت پر کوئی نظم لکھنے سے انکار کیا اور شیعہ نسل کشی پر بائنری پوزیشن لینے والوں کی مذمت نام لیکر کرنے سے گریز کیا اور یہاں تک کہ اس نے نجم سیٹھی ، شیری رحمان ، بینا سرو ، المانہ فصیح ، طارق فتح اینڈ کمپنی کی محمد احمد لدھیانوی ، فاروقی اور اشرفی کی پیس پروموٹر کے طور پر پروجیکشن کی مذمت کرنے سے بھی دوری اختیار کی ، ایل یو بی پاک کا موقف تھا کہ ایسی صورت میں وہ شیعہ نسل کشی کے زمہ داران کو چھپانے والوں کے کیمپ میں ہی کھڑے ہیں اور یہ اپالوجسٹ اور عذر خواہوں کا کیمپ ہے اور اس کے لئے دیوبندی ہونا لازم نہیں ہے بلکہ یہ شیعہ بھی ہوسکتے ہیں جن کو عبدل کوفی زھنیت کے شیعہ قرار دیتا ہے اور اس نے سلمان حیدر کو کوفی ذھنیت کا حامل سیکولر ، لبرل شیعہ قرار دیا اور یہ وہ بات نہیں ہے جو سلمان حیدر نے بنائی ایک صاحب ہیں جو بھینسا کے نام سے موجود ہیں
انھوں نے لکھا ایل یو بی پی نامی ایک سائیٹ جسے ایسے مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے ہیں جن کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں سنی اکثریت سے نفرت کا سامنا ہے اور یہ بات صرف نفرت سے کہیں آگے بڑھ کر باقاعدہ قتل و غارت میں تبدیل ہوچکی ہے اندازہ ہے کہ چند دہائیوں میں محض عقیدے کی بنیاد پر دیوبندی مسلمان دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، اس سٹیٹس کا پہلا جملہ ہی پورے مقدمے کی ایسی تیسی پھیرنے کے لیے کافی ہے ، بھینسا نے یہ فرض کرلیا کہ شیعہ اقلیت ، سنّی اکثریت کی پاکستان کے اندر مسلسل نفرت کا شکار رہی ہے ،،،،، گویا ان کے نزدیک بھی پاکستان کے اندر معاملہ شیعہ - سنّی بائنری اور شیعہ - سنّی جھگڑے کا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ایل یو بی پاک کے ساتھ مری جو ذھنی ہم آہنگی ہے اس کا سبب ہی یہ ہے کہ یہ بلاگ پاکستان سمیت پوری دنیا میں مذھبی دھشت گردی کو شیعہ - سنّی قدیم تاریخی تنازعے میں نہیں دیکھتا اور نہ ہی اسے وہ مسالک کی جنگ سمجھتا ہے ، یہآں تک یہ یہ ، یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ پاکستان کے اندر کوئی دیوبندی - شیعہ جنگ ، خانہ جنگی ہورہی ہے اگرچہ اس کا موقف یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری آئیڈیالوجی کی حامل تنظیميں جن میں سرفہرست سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے عسکری محاذوں پر جو نام ہیں لشکر جھنگوی ، طالبان ، جنداللہ ، جیش العدل ، داعش ، القائدہ ہندوپآک یہ سب یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسالک اور مذھبی برادریاں خانہ جنگی میں ملوث ہوجائیں ، دیوبندی تکفیری فاشزم ایک عفریت ہے اور اس کے خاتمے کے لئے سب کو جدوجہد کرنی چاہئیے اور سوشل میڈیا کے میدان میں اس حقیقت کو چھپانے یا اس کو دھندلانے والے نظریات کے حامل افراد اور گروہوں سے اس کی لڑائی اعلانیہ ہے جو لوگ شیعہ نسل کشی کو " ادلے بدلے " کی زھنیت کا شاخسانہ کہتے ہیں اور جو تکفیری دھشت گردوں کے حامیوں کو پیس پروموٹرز کے طور پر پیش کرتے ہیں اصل میں وہی یہ پروپیگنڈا تیز کرتے ہيں کہ ایل یو بی پاک بلاگ شیعہ - سنّی یا شیعہ - دیوبندی لڑائی کو تیز کرنے کا خواہاں ہے اور اسے کبھی تو آئی ایس آئی کا بلاگ اور کبھی امریکی سامراجی فنڈڈ بلاگ کہا جاتا ہے اور کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک ہی سانس میں اس بلاگ کو راحیل شریف کے تلوے چاٹنے والا اور دوسرے سانس میں اسے امریکی سامراجیت کا فنڈڈ پروجیکٹ قرار دیتے ہیں گویا کبھی آگ تو کبھی پانی میں ایل یو بی پاک کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس نے جب یہ ساری گرد اڑائی جارہی تھی ہوش و خردمندی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اس ساری لڑائی میں جو پردہ نشین چھپ کر وار کررہا تھا اسے سامنے لائے جانے کا بیڑا اٹھایا اب یہ اس پردہ نشین کی بدقسمتی ہے کہ اس دوران دو ایسی حقیقتیں سامنے آگئیں کہ پتہ چل گیا کہ یہ وار کہاں سے کیا جارہا ہے کراچی سیٹزن فورم پر بینا سرور - شیری مافیا کے قبضے کی کوشش کراچی سٹیزن فورم فار پیس ایک ایسا مرکز ہے جو کراچی کے شہریوں نے اپنے طور پر پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص امن کے قیام کو فروغ دینے کے لیے ، بلوچ گمشدگیاں ، شیعہ نسل کشی ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے قتل کو روکنے کے لئے قائم کیا ہے ، اس فورم کی تشکیل کے بعد سے اس فورم پر نجم سیٹھی کی سول سوسائٹی میں موجود لابی یعنی شیری اینڈی کمپنی نے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے ، حال ہی میں ایک سیمینار " ان سائلنسگ پاکستان " کے بینر تلے منعقد کرانے کی بات ہوئی تو مقررین کی فہرست میں بینا سرور نے شیری رحمان کے نام کی شمولیت پر اصرار کیا جس پر اعتراض ہوا اور ووٹنگ کرائی گئی تو اکثریت نے شیری رحمان کو نہ بلانے کے حق میں رائے دی ، جبکہ ادھر حال یہ تھا کہ بینا سرور نے کسی سے پوچھے بنا ہی شیری رحمان کو اس پروگرام میں بطور مقرر دعوت دے ڈالی تھی ، جب شیری رحمان کو مقرر کی بجائے محض ایک سامع کے دعوت کی ای میل روانہ کی گئی تو شیری رحمان نے غصے بھری ای میل لکھی اور یہاں تک کہا کہ میں دیکھوں گی کہ ہمارے بغیر یہ فورم کیسے کام کرے گا جب یہ ردعمل سامنے آیا تو کرامت ، بینا سرور اور دیگر لابی متحرک ہوئی اور اس نے پورا زور لگایا کہ شیری رحمان سیمینار میں بطور مقرر کے آئے لیکن ایسا نہیں ہوسکا تو پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن تھیسس بنانے والا نجم سیٹھی - شیری رحمان - بینا سرور لبرل مافیا اصل ميں سول سوسائٹی کو حقائق سے دور رکھنا چاہتا ہے اور یہ مسائل کے حوالے سے حقیقی ایکٹوازم کی جڑیں ہی ختم کرنے کا متمنی ہے مرے کئی ایک مارکسی دوستوں کا خیال ہے کہ بینا سرور اینڈ کمپنی لبرل کا وہ ٹولہ ہے جو امریکیوں سے ڈالر لیکر کھاتا رہا لیکن چینی لابی کے خلاف کوئی عملی محاذ تشکیل نہیں دے سکا تو اب امریکی فرسٹریشن کا شکار تو ہیں ہی ، وہ اس لبرل ٹولے پر بھی بے پناہ دباؤ ڈالے ہوئے ہیں لیکن یہ بزدل ڈرے ہوئے اور ڈالر میں لتھڑے لوگ " چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گآ " والے ہیں
علی عباس تاج ایڈیٹر انچیف ایل یوبی پاک اور بینا سرور -نجم سیٹھی مافیا
یہ کیسے لوگوں کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں ایل یو بی پاک کے موجودہ ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کی بینا سرور کے ساتھ کام کے دوران ہوئے تجربات و مشاہدات کو پڑھنے سے بھی ہوجاتا ہے بینا سرور اینڈ کمپنی بطور چارے کے کئی ایک پٹھوں کو استعمال کررہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان ٹھگوں کے خلا‌ف سوشل میڈیا وار کی جنگ کو جاری رکھنا چاہئیے میں بلا کم و کاست اس کو اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس داستان سے بہت سے معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی المانہ فصیح جس نے جناب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃ الذھرا رضی اللہ عنھا کی شان میں انتہائی نازیبا کلمات کہے تھے کے خلاف آنے والے ردعمل پر ایک معافی نامہ دیا جس میں اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ بینا سرور سے وہ ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ نہیں ملیں ، یہ دعوی کہاں تک سچا ہے ، اس کا اندازہ علی عباس کی اس آپ بیتی سے آپ اندازہ لگالیں گے بینا سرور سے مرا تعارف ہمارے ایک مشترکہ دوست نے کروایا تھا اور میں ٹیم پاکستان ٹائپ کے اس کے بنائے ہوئے گروپوں میں سے گروپ Fair and Free Journalism کا ایڈمن تھا ، میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی وجہ سے بہت ڈسٹرب تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہآں تھا تاکہ سنّی (صوفی ) ، شیعہ نسل کشی کرنے والے دیوبندی تکفیری گروپوں کو کے خلاف کام کرنے میں مددگار ہوں تو اسی سلسلے میں بینا سرور سے مرا تعارف ہوا اور بینا کے ساتھ کافی کام کرنا شروع کرڈالا مثال کے طور پر جب سماء ٹی وی کی ایک اینکر پرسن مایہ خان نے ایک پارک میں ملنے والے ایک لڑکا لڑکی سے نکاح نامہ طلب کیا تو میں نے اس طالبانی جرنلزم کے خلاف آواز اٹھائی اور بہت محنت سے ایک رپورٹ مرتب کی اور جبکہ اور اس پروگرام کے خلاف کئی ہزار لوگوں کے دستخط بھی کرواکے آگے بھیجے گئے اور اس پر سماء ٹی وی کے سی ای او نے معذرت بھی کی ، بینا نے مرے کام کو پسند کیا
اس قسم کا ایکٹوازم مرے ایجنڈے میں ٹاپ پر نہیں تھا لیکن مجھے یوں لگا کہ اگر میں اپنی توانائی ، وسائل اس کے لیے صرف کروں اور بینا کے لئے اس کی دلچسپی کے میدان میں قابل قدر کام کردکھاؤں تو شاید وہ " شیعہ نسل کشی " کے خلاف بڑی علم بردار بنکر سامنے آنے پر تیار ہوجائے گی میں نے بینا کے لیے بہت سے پیجز ، گروپس جن میں سے کئی ایک کا میں ایڈمن بھی تھا کام کیا ، وقت ، وسائل سب کچھ دیا بینا اور ان کے دوست اگرچہ شیعہ نسل کشی بارے بعض اوقات بہت اچھے آرٹیکل اور پوسٹ شئیر کرتے تھے لیکن وہ سب کے سب ایل یو بی پاک سے بہت بیزار تھے اور یہ بات میرے لئے حیرانی کا سبب بنتی تھی ، کیونکہ مجھے ایل یو بی پاک کی پوسٹس بہت پرمغز و پرمعنی لگتی تھیں ایل یو بی پاک کے بانی مدیر عبدل نیشاپوری نے مجھ سے اس وقت رابطہ کیا جب میں اپنی بیوی ، بچوں سمیت امریکہ میں سعودی سفارت حانے کے سامنے شیخ نمر کی رہائی کے پلے کارڑ اٹھائے کھڑا تھا اور یہ مظاہرہ تو اس وقت کی تمام مساجد میں آنے والے نمازیوں کو کرنا تھا لیکن کوئی نہ آیا اس ڈر سے کہ سعودی عرب کا ویزہ نہیں ملے گآ جبکہ حج فرض ہے تو وہ کیسے ادا گآ
ناداں سجدے میں گرپڑے جب وقت قیام آیا تو ایسے ایل یو بی پاک سے مرا تعلق بنا اور میں نے ایل یو بی پاک کے لئے لکھنا شروع کردیا اور جب عبدل نیشاپوری کو بوجہ ادارت سے الگ ہونا پڑا تو میں اس کا ایڈیٹر بن گیا جیسے ہی میں ایل یو بی پاک کا مدیر بنا تو مجھے معلوم ہوا کہ بینا سرور اس بلاگ کی اکثر پوسٹوں سے مطمئن تھی لیکن نجم سیٹھی کے بارے میں کسی بھی بلاگ کی تحریر کو پوسٹ کرنے یا نہ کرنے میں وہ اپنی رائے کو حتمی کے طور پر منوانا چآہتی تھی ، ایک عرصہ تک روزانہ ہم دونوں " نجم سیٹھی " پر لکھی جانے والی تحریروں پر بات ہوتی رہی اور سیٹھی پر کوئی ناقدانہ تحریر نہ چھپ پائی لیکن اخرکار مجھے شرح صدر ہوگیا کہ ایل یو بی پاک کے بلاگرز نجم سیٹھی کو ٹھیک بے نقاب کررہے تھے تو میں نے ان پوسٹوں کو شایع کرنے کی اجازت دے ڈالی تو اس موقعہ پر میری اور بینا سرور کی دوستی اپنے اختتام کو پہنچی ہماری دوستی میں سردمہری کیا آئی ، بینا سرور نے شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اپنی دلچسپی بالکل ہی کم کردی اور نہ ہی اب اس کو #takfirideobandi Hash Tag
استعمال کو بھی بند کردیا یہ دیکھکر میں نے بینا کو کہا
" سیٹھی کے بارے میں ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن شیعہ نسل کشی کے خلاف ہمارا کاز اس سے متاثر نہ ہو " اس پر بینا سرو کا جو جواب آیا وہ بہت ہی شاکنگ تھا اس نے کہا
It was a quid pro Quo
بینا سرور کے مطابق " شیعہ نسل کشی ، ادلے بدلے یعنی شیعہ کے کرموں کا پھل ہے مطلب یہ ہوا کہ یہ نسل کشی نہیں بلکہ دو طرفہ جنگ ہے المانہ فصیح جو یہ کہتی ہے اپنے مفروضہ معافی نامے میں کہ وہ بینا سرور سے ایک یا دو مرتبہ ملی ہے بینا کی وہ بہترین دوست تھی جو مرے بھی جاننے والی تھی اور بنیا سے مری ملاقات اسی نے کروائی تھی میں کہتا ہوں کہ جب سے شیعہ نسل کشی پر اس کی مداہنت واضح ہوئی تو میں نے تو جتنے بھی پیجز و گروپ اس کے ایڈمن کررہا تھا کہ کل سارے چھوڑ ڈالے اور پھر کبھی بینا سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن بینا نے ان پیجز کو ایکٹویٹ کرنا ترک نہیں کیا اور جب المانہ فصیح کا تکفیری خارجی رنگ ابھرا تو سب سے پہلے اس کے بچاؤ میں بینا سرور آئیں میں بینا سرور کے کام کے سارے طریقہ کار کو کو بہت قریب سے جانتا ہے اور میں یہ شبہ کرتا ہوں کہ اس اپالوجی کو بھی بینا سرور نے ہی ڈرافٹ کیا ہے اور وہی اس کو معذرت نامے کو پھیلارہی ہے بینا نے اپنی اسسٹنٹ المانہ فصیح کو اس کے نازیبا کلمات بارے باور کرانے اور اس سے غلطی کی تلافی کرانے کی بجائے بلاسفیمی کارڑ کھیلا اور اس کارڑ کو اپنے لوگوں کو ایل یو بی پاک کے خلاف استعمال کرنے کو کہا ، بینا سرور کے اشارے پر " فری سیکس " کی تبلیغ کرنے بلکہ اس کو آسیب کی طرح اپنے اوپر سوار کرلینے والی عورت شازیہ نوآز کو ایل یو بی پاک کے پیچھے لگایا اور محسن سید جیسے معقول لوگوں کو ہم سے متنفر کرنے کے لیے چالاکی سے کام لیا بینا سرور کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس نے اول دن سے نجم سیٹھی مافیا کو کور کرنے کا کام سنبھال رکھا ہے اور وہ یہ کام کرنے کے دوران کسی اخلاقیات کو خاطر میں نہیں لیکر آتی میں ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر کے طور پر بہت واضح طور پر بتادینا چاہتا ہزں کہ بینا سرور کے بارے میں یہ آگاہی پھیلاؤ پروگرام کسی زاتی پرخاش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ بینا سرور کی جانب سے شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن خیالات پھیلانے ، اسے " ادلے کا بدلہ " قرار دینے اور پاکستانی ميڈیا میں خبروں کے سیلف کنٹرول کو بے نقاب کرنے کا معاملہ ہے بینا سرور - نجم سیٹھی - شیری رحمان ایںڈ کمپنی ایک مافیا ہے جو تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے ہمدردوں اور محافظوں جیسے احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی ، اورنگ زیب فاروقی کو امن کا پروموٹر بناکر پیش کرتا ہے اور نیوز کنٹرول کرکے لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے بینا سرور ، نجم سیٹھی کو کس نے اختیار دیا کہ وہ لوگوں کو بیوقوف بنائیں اور اپنے لوگوں کو پہلے استعمال کریں ، جب وہ کہیں ایکسپوز ہوں تو ان کے سٹیٹس ہٹائیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں میڈیا آزاد نہیں ہے ، یہ فیور اور زاتی مفادات کے سسٹم کے تابع کام کرتا ہے اور یہ خبروں کو پھیلانے سے زیادہ ان کو اپنے مفادات کے مطابق ان کی مینوفیکچرنگ کرنے اور ان کے خلاف جانے والی نیوز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ ہم اس ناجائز نیوز کنٹرول کے خلاف کام کرتے رہیں گے

Monday, June 15, 2015

Who is behind unmaskingtraitor.wordpress.com?"غدار بے نقاب کرنے والے اکاؤنٹ کا ایڈمن کون ؟


یہ دیکھیں کیسے خود اپنے دام میں صیاد آگیا کہ جلدی میں اپنی ہی پروفائل پیج کی سنیپ شوٹ پردہنشین بلاگ میں ڈال دیں
سلمان حیدر نے اپنی وال پر ایک سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا جس میں انھوں نے یہ کہا کہ ایل یو بی پاک والوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں " علی ناطق " کو دیوبندی قرار دے دیا ہے ان کے اس سٹیٹس پر مجھے بھی خاصی حیرانی ہوئی تو میں نے اپنے ایک کمنٹ میں ان سے کہا کہ وہ اس ٹوئٹ کا سکرین شارٹ سب دوستوں سے شئیر کریں تاکہ یہ گینگ بے نقاب ہو اس کے ساتھ ساتھ میں نے ایک ٹوئٹ علی عباس تاج ، عبدل نیشا پوری اور ایل یو بی پاک آرکائیوز کو بھی کیا کہ کیا انھوں نے ایسا کوئی ٹوئٹ کیا جس میں علی ناطق کو " دیوبندی " قرار دیا ہو ان کا جواب آیا کہ سلمان حیدر جھوٹ بول رہا ہے ، ایسا کوئی ٹوئٹ نہیں ہے اس کے تھوڑی دیر بعد مجھے فیس بک پر
Unmaskingtraitor
کے آئی ڈی سے فرینڈ ریکوئسث موصول ہوئی ، میں نے اسے قبول کیا تو سب سے پہلے اس وال پر میری المانہ فصیح پر لکھی ہجو کا سکرین شارٹ موجود تھالیکن اس کے ساتھ ایڈٹینگ کرکے اس پر ایک عبارت درج تھی جس کی رو سے علی ناطق یسے ہی غدار ہے جیسے بینا سرور و المانہ فصیح ،نجم سیٹھی ہیں اس ہی " غدار بے نقاب کرنے والے " نے ورڈپریس پر ایک بلاگ اسی عنوان سے قائم کیا اور اس بلاگ پر بھی اس نے ایل یو بی پاک اور فیس بک پر پیجز سے بہت سا مواد لیا اور اس میں اپنی طرف سے اضافے کرکے علی ناطق کو غدار ثابت کیا لیکن یہ مواد لیتے ہوئے وہ جلدی میں ایک کمنٹ کے سنیپ شارٹ اپنی ہی فیس بک پروفائل سے لے بیٹھا ، یا سنیپ شوٹ " غدار بے نقاب کرنے والا " کو بے نقاب کرگیا کہ اس پردہ نشین کا اصل نام کیا ہے یہ سنیپ شوٹ نہ ہوتا تو مرا شک سلمان حیدر پر جاتا کہ وہ اپنی ایک غلطی کو درست کرنے کے لئے جعلی اکاؤنٹ کے زریعے سے علی ناطق اور ایل یو بی پاک والوں کو لڑوانے کی سازش کررہا ہے مگر ایسا نہیں تھا میں نام لکھے بغیر اب بھی اس پردہ نشین کے کمنٹ کے دوران پروفائل پیج اور اس کے فیس بک پیج دونوں کے سکرین شارٹ اپنے بلاگ میں دے رہا ہوں
لندن کے مرے معروف بلاگر اور شیعہ نسل کشی کے خلاف قابل قدر کام کرنے والے ، یو این او میں شیعہ نسل کشی پر خطاب کرنے والے علی ناطق عرف " علی مشہدی " زرا دونوں سکرین شارٹ غور سے دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ وہ کون ہے جس نے " علی ناطق " کو نجم سیٹھی مافیا ، بینا سرور ، المانہ فصیح کے کیمپ میں شامل بتانے کی کوشش کی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھی رفیق پہلوان ہوا کرتے تھے ، ان کا کام ضیاء دور میں اپنی ہی رہائی کے مطالبے دیواروں پر لکھنا تھا اور زرا دیکھئے کہ کیسے اس پردہ نشین نے اسی زمانے کی رفیق پہلوان کی سنت کو زندہ کردیا پیارے علی مشہدی عرف علی ناطق آپ نے کہا تھا نا کہ مجھے بھی بتائیے گا تو میں نے آپ کو بتادیا کہ اس پردہ نشین کے پیچھے کون سا نام چھپا ہوا ہے ، امید ہے میرا احسان مانوگے بھری محفل میں راز کی بات کہہ دی بڑا گستاخ ہوں سزا چاہتا ہوں

Wednesday, May 6, 2015

بلوچستان : آج کا ترقی پسند تناظر


کراچی یونیورسٹی میں " بلوچستان " کے حوالے 6 مئی کو جو سیمینار ہونا تھا ، اس کو بھی یونیورسٹی انتظامیہ نے رکوادیا ہے اور اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی ، اس سے پہلے ایک نجی سیکٹر میں قائم لاہور یونیورسٹی آ‌ف مینجمنٹ -لمز میں بھی " بلوچستان " میں انسانی حقوق کی حالت زار پر ہونے والے سیمینار کو منعقد ہونے سے روک دیا گیا تھا اور اس حوالے سے وہاں پر پڑھانے والے پروفیسر مارکسی دانشور ڈاکٹر تیمور الرحمان کے خلاف ایکسپریس ٹی وی چینل کے ایک اینکر احمد قریشی نے باقاغدہ مہم چلائی تھی اور اس نے تیمور کو ملک دشمن تک قرار دینے کی کوشش کی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں ، اغواء ، مسخ شدہ لاشیں ملنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے جبکہ بلوچستان میں مرکز اسلام آباد کے ترقیاتی ماڈل سے اتفاق نہ رکھنے والے اور بلوچ قوم کی شناخت اور ان کے سیاسی ، معاشی حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں ، دانشوروں ، ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ حریت پسند طالب علموں کے خلاف ریاستی جبر ، سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے بلوچستان کے اندر بلوچ قوم کی اکثریت ملٹی نیشنل کمپنیوں اور چینی حکومت کے اقتصادی راہداری کی تعمیر اور بجلی ، گیس اور معدنیات کے منصوبوں میں شرکت پر تحفظات موجود ہیں اور ان کے خیال میں یہ سارے منصوبے بلوچ قوم کے حقوق اور وسائل کی لوٹ مار اور آخرکار بلوچ علاقوں میں بلوچوں کو اقلیت میں لانے کا سبب بنیں گے ، یہی وجہ ہے کہ بلوچ قوم کے اندر اس وقت ایک طرف تو آزادی پسند ایک تحریک موجود ہے جس کے سیاسی چہرے کو سب سے زیادہ مسخ کیا جارہا ہے اور اس تحریک کی سامراج اور اس کے گماشتوں کے آگے مزاحمت کو بھی سخت قسم کے پروپیگنڈے کا سامنا ہے پاکستان کے اندر اس وقت جتنے بھی سرمایہ دار ہیں وہ سب کے سب بلوچستان ، سندھ ، سرائیکی وسیب اور خبیرپختون خوا ، گلگت بلتستان میں نام نہاد ترقی کے بڑے میگا پروجیکٹس اور خاص طور پر چین کی حکومت اور اس کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والے منصوبوں سے ڈھیروں دولت ہاتھ آنے اور بہت سے سیکٹر میں ان کی پوزیشن مستحکم ہونے کے بارے میں بہت پرامید ہے اور اس سرمایہ دار طبقے کو بلوچستان ، سندھ ، سرائیکیستان ، خیبر پختون خوا ، گلگت بلتستان کے شہری و دیہی غریبوں ، محنت کشوں ، غریب قبائیلوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اس کو ان علاقوں کی قومیتی ، لسانی ، ثقافتی شناخت کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ اس حوالے سے ڈیموگرافک تبدیلیوں کے خدشات پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہے
پاکستان ایک طرف چین کے لیے سٹریٹجک شاہراہ کی تعمیر میں ہاتھ بٹا رہا ہے اور پاکستان کے سرمایہ داروں کی رال اس شاہراہ کے ساتھ ساتھ کھلنے والے معاشی امکانات پر ٹپک رہی ہے اور یہ جو چین کے پاکستان کے ساتھ جڑے تزویراتی مفادات ہیں اس کے تناظر میں جتنی بھی سرمایہ کاری ہوگی اس کے فوائد اس ملک کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کو بھی ہوں گے اور ملٹری بزنس کی ایمپائر کو بھی نئی زندگی ملے گی لیکن اس حوالے سے بلوچ ، سرائیکی ، پشتون ، سندھی ، گلگتی بلتی عوام کے ساتھ جو کھلواڑ جاری ہے اور یہ جو نیولبرل معشیت کا ترقیاتی ماڈل ہے اس کا غریبوں اور افتادگان خاک کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا بلوچستان ، سندھ اور خیبرپختون خوا میں گیس ، بجلی ، معدنیات کے جو ذخائر موجود ہیں ان ذخائر کو اسلام آباد سامراجی عالمی قوتوں کے ساتھ ملکر جس طریقے سے استعمال لارہی ہیں ، اس میں ان علاقوں کے عوام کے اندر خوشحالی آتی ہے ، نہ ان کو بڑے پیمانے پر نوکریاں ملتی ہیں اور نہ ہی اس علاقے کے عوام کو ان کی دھرتی اپنی لگتی ہے ، حکومت اور کمپنیاں چند سرداروں ، بااثر لوگوں اور محدود پیمانے پر ان کے منظور نظر افراد میں رشوت ، نوکریاں بانٹ کر اپنےپروجیکٹس کا تحفظ تلاش کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر بڑے پیمانے پر ایف سی ، فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہاں کے مقامی باشندوں کی تذلیل اور زلت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے اندر اس وقت ٹھیک ٹھیک معنوں میں وہ صورت حال سامنے آگئی ہے جس کا سامنا افریقی ملکوں کو کالونیل قـبضے کے رسمی خاتمے کے بعد کرنا پڑا تھا اور ان کو جس شدت کے ساتھ اس صورت حال کا سامنا 60ء کی دھائی میں کرنا پڑا تھا ، وہ بلوچستان کو آج علاقائی ، عالمی سٹرٹیجک صورت حال اور بلوچستان کے اندر موجود قیمتی وسائل اور اس کے ساحلوں کی انتہائی تزویراتی پوزیشن کی وجہ سے درپیش ہے چینیوا ایشو بے جو کہ نائجیریا کے بہت بڑے افریقی ادیب ، دانشور اور سیاسی سوجھوان بھی تھے ان سے ایک انٹرویو کرتے ہوئے Conjunctions
نامی ایک مجلّے کے مدیر بریڈ فورڈ مورو نے سوال کیا کہ فطرت سے بغاوت ؛ جنگلوں کو صاف کرنا ، سڑکیں تعمیر کرنا ، شہر بسانا ۔۔۔۔۔ ابتداء سے انسان کی اہم ترین سرگرمیوں میں شامل رہا ہے ، یہ امر خیران کن نہیں ہے کہ اگر کوئی نوع خیات اپنی فطری تعداد سے تجاوز کرجائے تو اس سے ماحول خراب ہوجائے گا ، ایسا ہونا مشکل نہیں تھا ؛ کوئی جانور یہ کرسکتا تھا ، چونٹیاں یہ کرسکتی تھیں ، سیارے ایسا کرسکتے تھے ، پالٹیکس کے موضوغ پر کچھ دیر ٹھہرتے ہوئے میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ سابقہ کیمونسٹ بلاک اور سوویت یونین کی ریاستوں میں آزادی کی موجودہ رو میں آپ موجودہ واقعات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ بیافرا کی نائجیریا سے علیحدگی کی تحریک میں اس رو کا بڑا کردار تھا ؟ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ بیافرا کے ناکام خواب کو کیسا پاتے ہیں ؟ تصور بیافرا تھا کیا ؟ اور آپ کی دانست میں آج بیافرا کو کہاں ہونا چاہئیے ؟ ایشوبے :نائیجیریا سے الگ ہوکر آزاد بیافرا کی اس وقت بہت ضرورت تھی ، کیونکہ بیافرا کی آزادی کی تحریک اصل میں بیافرا کے ستم رسیدہ ، مجبور و محکوم و مقہور عوام کی جبر و ستم ، استحصال اور نسل کشی کے سامنے ڈٹ جانے اور ظالموں ، استحصال کرنے والوں اور جابروں کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کی تحریک تھی ، اس زمانے میں بیافرا کی آزادی کے ژحالف جن کا تعلق زیادہ تر بیافرا سے باہر کے لوگوں سے تھا یا بیافرا کے حاکم طبقات یعنی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی سے تعلق رکھنے والے موقعہ پرست افراد سے تھا اور یہ آزادی کی تحریک کے مقابل " قومی یک جہتی " کی دلیل کے ساتھ سامنے آتے تھے اور یہ اس نوع کے خیالات رکھتے تھے کہ " قوم کی سرحدیں مقدس ہیں " قومی یک جہتی ، سب کا ایک ہوجانا ، قومی سرحدوں کی تقدیس کا یہ بیانیہ ستم رسیدگی ، نسل کشی ، جبر ، ظلم ، استحصال ، محکومیت اور مقہوریت میں زندگی گزارنے والوں کو نہ تو احترام آدمیت دے پاتا ، نہ ہی عوام کو خوشیاں اور ان کی نجات کا پیش خیمہ بننے والے نظام کی آبیاری کرتا نظر آتا تھا، بیافرا والے اپنی آزادی ، خود مختاری ، خوش حالی اور اپنی حاکمیت کے متلاشی تھے جب یہ ساری اقدار ان کو مابعد آزادی نائیجریا جیسی وحدت میں نہ مل پائیں تو انہوں نے الگ ہوجانے اور آزادی کے راستے کو اختیار کرلیا ، لیکن ہماری دنیا میں طاقت اور قوت بھی ایک حقیقت ہیں اور یہ سب تو نائجیریا کے حاکم طبقات اور بالادست قوم کے حاکم طبقات کے پاس تھا تو ایسے میں الگ ہونے اور آزادی کے راستے پر چلنے کی کوشش آپ کو فنا کے گھاٹ اتارنے ، خون ریزی کرنے والی قوتوں اور طاقتوں کے آگے ڈال دیتی ہے تو بیافرا کے عوام کو آزادی اور خود مختاری کی مانگ کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑی مورو : فنا کے گھاٹ اترجانے والے بیافرا کے لاکھوں لوگوں میں بہت بڑی تعداد عام معصوم شہریوں کی تھی جنھوں نے ہتیھار نہیں اٹھائے ہوئے تھے ایشو بے : اور ( لاکھوں لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتارنے کے بعد ) پھر بھی کوئی ہمیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے کہ ہم امن قائم کریں گے مورو : ( لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کے باوجود بھی ) بیافرا میں تین سال تک مزید جنگ جاری رہی ایشو بے : جی ہاں تقریبا تین برس - کیونکہ یہ انتہائی تلخ تجربہ تھا جس نے پہلے واقعات کا رخ اس جانب موڑا اور پھر یہ جنگ صرف بیافرا اور نائجیریا کے درمیان نہیں رہی بلکہ اس کو طول دینے کے لیے عالمی طاقتیں اس میں کود پڑیں ،، آپ نے دیکھا کہ کیسے بیافرا کے لوگوں کے خون کی اس دوران ارزانی ہوگئی ہم جو دنیا (تھرڈ ورلڈ ) کے چھوٹے لوگ ہوتے ہیں نا مستقل قابل توسیع ہوتے ہیں -بڑی طاقتیں اپنا کھیل کھیلتی ہیں اور بیافرا کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ، چناچہ جب بیافرا کی آزادی کی تحریک کو مکمل طور پر کچل دیا گيا تو ہم صرف یہی کرسکتے تھے کہ واپس لوٹکں اور عوام اپنی زندگياں بچانے کی تلاش کریں ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہمیں جنگلوں کا رخ کرنا چاہئیے اور جدوجہد جاری رکھنی چاہئیے ، لیکن ایسا کرنا خودکشی کے مترادف ہوتا اور میں نہیں سمجھتا کہ خودکشی کرنی چاہئیے مورو: اگر برطانیہ نے نائجیریا کو غلام نہ بنایا ہوتا ، اگر جنگ عظیم دوم نے برطانوی قوت کی ہوا نہ نکال دی ہوتی جس کی وجہ سے اسے اس ملک کو آزاد کرنا پڑا جسے اس نے صرف چند دھائياں قبل اپنی کالونی بنایا تھا تو کیا ماقبل نائیجریا کے مقامی لوگ اس امر کی ضرورت محسوس کرتے کہ ہر حال میں مختلف اکائیوں میں بٹ جائیں ؟ کیا کسی قوم یا افراد کے گروہ کا افتراق اور الگ ہونا تاریخ کا فطری ناگزیر عمل ہے ؟ ایشوبے :تاریخ کا المیہ ہی یہ ہے کہ جب واقعات کا ایک سلسلہ گزجاتا ہے تو اس کے بعد امکانات کا قیاس کرنا دشوار ہوجاتا ہے - درحقیقت نائیجریا نامی ملک اور نائیجرین نامی قوم برطانیہ کی تخلیق تھے جو پچاس برس سے زائد برطانیہ کے زیر نگين نہیں رہے ، برطانوی راج کے خاتمے کے بعد نائیجریا نامی اس ایک ریاست کے اندر رہنے والوں نے نائیجریا کے تصور کو قبول کرلیا لیکن مابعد نوآبادیاتی دور میں ریاست کا ںطام ٹھیک چل نہیں رہا تھا اور ظاہر ہے اس میں موجود واضح لسانی ، ثقافتی ، قومیتی شناخت رکھنے والے علاقوں کے عوام کو اپنے ساتھ زیادتی ہوتی نظر آرہی تھی اور بیافرا کے لوگوں کو بھی ایسے ہی لگ رہا تھا اور ان کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ برطانیہ کے براہ راست قبضے کے خاتمے کے بعد وہ ایک اور نئے قسم کے نوآبادیاتی دور میں داخل ہوگئے ہیں اور نائیجریا نام کا ایک ملک اور اس کی قوم کو یک جا رکھنے کا بھاشن ان کو اپنے مفادات اور حقوق کے منافی لگنے لگا تھا ، اس زمانے میں امریکہ ، برطانیہ اور سوویت یونین اپنے اپنے معاشی مفادات اور تزویراتی مفادات کے تحت اس ملک کو یک جا رکھنا چاہتے تھے جبکہ ان کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ ان کے مفادات کی خاطر نائیجیریا کا یک جا رکھنے کی پالیسی سے بیافرا کے عوام کی ناراضگی دور نہیں ہوتی کیونکہ نائجیریا کی آزادی کے بعد سے لیکر اس وقت تک ان کو آزاد و خودمختار ہونے کا احساس تک نہیں ہوا تھا ، سارے فیصلے تو دارالحکومت سے مسلط کئے جاتے تھے ، جب سے نائجیریا آزاد ملک بنا تھا تب سے اس ملک کے نئے حکمران اپنے سارے فیصلوں کے لیے برطانیہ کی طرف دیکھتے اور برطانیہ کے مشیر ہی ساری پالیسی سازی کررہے تھے جبکہ اس دوران نام نہاد قومی حکومت بھی بیافرا جیسے علاقوں سے ویسا ہی سلوک کررہی تھی جیسا برطانوی نوآبادیاتی مشینری کیا کرتی تھی تو بیافرا والوں کو کبھی بھی حقیقی آزادی اور خودمختاری اور پورے شہری ہونے کا نائیجریا میں احساس ہی نہیں ہوا اور جب اس نئی قسم کی محکومیت ، استحصال ، کالونائزیشن کے خلاف آواز کئی علاقوں میں اٹھی تو وہاں لوگوں کا قتل عام ہوا اور حکومت کھڑی تماشا دیکھتی رہی ، اس کے بعد بیافرا والوں نے آزادی و خودمختاری کی سچی صورت کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کردی میں اتنے طویل اقتباس دینے پر اپنے پڑھنے والوں سے معذرت خوا ہوں لیکن بریڈ فورڑ مورو اور چینیوا ایشوبے کا یہ مکالمہ اور بیافرا کا نائیجریا سے رشتہ بارے تفصیلی بات ہمیں پاکستان اور بلوچستان کے مابین موجود صورت حال کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوگی یہ حقیقت ہے کہ برطانیہ کی جانب سے جنگ عظیم دوم کے بعد ہندوستان کو تقسیم کرنے کا معاملہ ہندوستان اور پاکستان کی اکثریت نے تسلیم کرلیا تھا اور پاکستان جب بنا تو ظاہر ہے اس تصور کو بھی اکثریت نے مان لیا ، اگرچہ پاکستان کے اس تصور کی مخالفت صوبہ سرحد کی اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی قوت اور پشتون قوم کے حقوق کی علمبردار خدائی خدمت گار پارٹی نے کی بالکل اسی طرح سے جیسے بلوچستان جو اس وقت ایک صوبے کی شکل میں موجود نہ تھا بلکہ ایک ایجنسی کی شکل میں تھا جس میں جدید ریاست کے قریب قریب اگر کوئی عملداری تھی تو وہ قلات کی ریاست تھی جس کی ایک نیشنل اسمبلی بھی تھی اور اس نے پاکستان سے الحاق نہ کرنے کی قرارداد منظور کی تھی اور پاکستان بننے کے فوری بعد 1948ء میں ہی پاکستان کی فوج قلات اترگئی اور فوجی آپریشن کے نتیجے میں قلات کی آزادی کی پہلی بغاوت کو کچل دیا گیا پاکستان کے حاکم اور بالادست حکمران طبقات جن کا تعلق بدقسمتی سے ایک طرف تو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے یو پی اور سی پی صوبوں کی اردو بولنے والی اشرافیہ سے تھا اور دوسری طرف اس میں پنجابی اشراف شامل تھے اور یہ بنگالیوں ، سندھیوں ، پشتونوں ، بلوچ سب کو گنوار ، تہذیب و زبان و ثقافت سے عاری اور ان کے حقوق کی مانگ کو سرے سے ہی پاکستان کی سالمیت اور یک جہتی کے خلاف سمجھتے تھے اور انھوں نے قومی یک جہتی ، قومی مفاد اور ملکی سلامتی کا دارومدار ان اقوام کی زبان ، ثقافت ، حقوق سے انکار پر قرار دے ڈالا اور وردری ، بے وردی نوکر شاہی کی طاقت کو ان کو کچلنے کے استعمال کیا اور پاکستان کو جہاں سامراج کی رکھیل بنایا وہیں اس کا مقصد صرف و صرف پنجابی و مہاجر شاؤنسٹ حاکم طبقات کی خدمت قرار دے دیا اور آج بھی صورت حال یہ ہے کہ سب سے زیادہ بلوچ قوم کے اندر یہ احساس جاگزیں ہے کہ وہ پاکستان کی ریاست اور موجودہ جغرافیائی وحدت کے اندر نہ تو حقیقی معنوں میں آزاد ہیں اور نہ ان کے حقوق کو تسلیم کیا جارہا ہے ، ان کے ہاں آزادی ، خودمختاری کی سچی لپک موجود ہے اور اس کے لیے ان کی جدوجہد بھی جاری ہے اب اس سلسلے میں جہاں تک علاقائی اور عالمی قوتوں کی مداخلت کا تعلق ہے تو اس کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے ایشوبے کے الفاظ ميں چھوٹے لوگ مستقل قابل توسیع ہوتے ہیں ، بلوچ اور پاکستان کی ریاست کے درمیان اس وقت جو لڑائی ہے اس میں عالمی طاقتوں کی مداخلت بہت واضح ہے ، ایران آزاد بلوچستان کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس آزاد بلوچستان کا اگلا ہدف صاف صاف ایرانیوں کے زیرقبضہ بلوچستان اور بلوچوں کی آزادی ہوگا ، اسی طرح چین اپنی تجارت اور اپنی فوجی نقل و حرکت کو مخفوظ بنانے کے لیے جس سلک روڈ کی تعمیر کا خواب دیکھ رہا ہے اس ميں آزاد بلوچستان کہیں فٹ نہیں بیٹھتا ، اسی لیے وہ بھی بلوچ آزادی پسندوں سے زیادہ اسلام آباد سے جڑا ہوا ہے ، اس معاملے میں مڈل ایسٹ میں خلیج تعاون کونسل میں شامل ملکوں میں کویت ، بحرین ، یو اے ای ، قطر کی مداخلت کا ثبوپت موجود ہے اور جبکہ سعودی عرب اس معاملے میں پاکستان کے ساتھ ہے ، امریکہ اور اس کے اتحادی چین کی طاقت کو مستحکم ہوتے دیکھنے کے خواہاں نہیں ہیں اور ہندوستان بھی یہ نہیں چاہتا کہ کشمیر کے پڑوس میں چینی سلک روڈ کی آڑ میں آکر براجمان ہوں لیکن عالمی طاقتوں کی مداخلت اپنی جگہ پر تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلوچ قوم کی ساری جدوجہد عالمی و علاقائی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے ہورہی ہے ؟ کیا حقیقی طور پر بلوچ قومی تحریک کی جڑیں اس سماجی تاریخ مادی حالات میں ہے ہی نہیں جو تقسیم کے بعد سے لیکر ابتک رونما ہورہے ہیں ؟ کیا بلوچ حقوق تحریک مصنوعی اور درآمد شدہ ہے ؟ کیا بلوچستان میں جبری گمشدگیوں ، ماورائے عدالت قتل اور اس طرح کی انسانی حقوق کی پامالی جیسے ایشوز بھی مصنوعی ہیں ؟ اور اس پر جدوجہد کرنے والے سب عناصر علاقائی و عالمی قوتوں کے ایجنٹ ہیں ؟ قومی یک جہتی ، سرحدوں کی تقدیس کے گیت گانے والے ایسے اور اس سے ملتے جلتے سوالات کا جواب اثبات میں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلوچستان کے والے سے جو بھی شور شرابا ہے وہ راء ، سی آئی اے ، موساد کی کاروائياں ہیں اور اس طرح کا شور شرابا کرنے والے غیرملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں ، ان سب کو کچل دینا چاہئیے
پاکستان کی پشتون قوم پرست جماعتیں جن میں اے این پی اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی سرفہرست ہیں ان کو بلوچ قوم کی جدوجہد سے اور ان کے قومی مسائل سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ چینی سرمایہ کاری میں اپنے حصّہ داری کے حصول پر نظریں جمائی بیٹھی ہیں اور کوریڈور کا راستہ بدلنے پر ہی سراپا احتجاج ہیں اور بلوچ قوم پرست پارٹی نیشنل پارٹی کے چیف منسٹر عبدالمالک کو چینی سرمایہ کاری پر بس یہ اعتراض ہے کہ ان کو اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا ، ان کی نظر میں بلوچ قوم کی آزادی ، خودمختاری کا سوال سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور صوبے کے اندر جو سیکورٹی فورسز ، خفیہ ایجنسیوں اور ان کی پراکسی کی جانب سے بلوچ قومی تحریک کے کارکنوں کی نسلی صفائی کا جو سلسلہ جاری ہے ، اس پر بھی انھوں نے خاموشی کی چادر تان رکھی ہے یہی حال سندھ کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت پی پی پی کا بھی ہے کہ وہ بھی ترقی کے اس نوآبادیاتی اور سامراجی ماڈل کے ساتھ اپنے حصّہ کی یقین دھانی پر راضی ہے اور آصف علی زرداری تو اسلام آباد کی بلوچستان ، چین ، سعودی عرب کے ساتھ حالیہ معاشی اور تزویراتی جڑت پر سرمایہ دار پارٹیوں کا اتفاق بھی ممکن بنانے میں کوشاں نظر آئے ، یہ پاکستان کی بورژوازی سیاسی قیادت کا دیوالیہ پن ہے جو سامنے آرہا ہے اسلام آباد کا بلوچستان پر جو سرکاری بیانیہ ہے وہ اس سے ہٹ کر کسی اور بیانیہ کے وجود اور اس بیانیہ کو پھیلانے کی کوششوں کو برداشت نہیں کررہا ، اس کے پاس 21 ویں آئینی ترمیم سے فوجی ایکٹ میں ہونے والی تبدیلی ، تحفظ پاکستان ایکٹ ، انسداد دھشت گردی ایکٹ ، ساؤنڈ ریگولیشن ایکٹ ، مجوزہ اینٹی سائبر کرائم ایکٹ ، پیمرا ایکٹ جیسے ہتھیار موجود ہیں ، یونیورسٹیوں کو دباؤ میں لینے کے لیے ایجنسیوں کے بدنام ہتھکنڈے موجود ہیں اور پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے تمام ٹی وی چینلز پر اس نے ایسے اینکرز ، تجزیہ نگار ، صحافی حضرات کی فوج ظفر موج اکٹھی کررکھی ہے جو اسلام آباد کے بلوچستان پر سرکاری بیانیہ سے ہٹ کر آنے والے کسی بھی بیانیہ کو انتہائی خوف ناک بناکر پیش کرنے کی تربیت لیکر آئے ہيں ہارون رشید ، جاوید چوہدری ، انجم رشید ، حسن عسکری ، احمد قریشی ، پارس ، عاصمہ شیرازی سمیت جتنے بھی اینکرز ، تجزیہ نگار ہیں سب کے سب اسلام آباد کی لائن ہی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اسے قومی مفاد ، حب الوطنی قرار دینے میں مصروف ہیں پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مالکان اور اس کے ٹاپ مینجیمنٹ کے زریعے سے بلوچستان کے سوال پر مخصوص قسم کی معلومات کو ہی پاس آؤٹ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے اور پنجاب و کراچی کے اکثر شاعر ، ادیب ، دانشور بھی جس میں اب دائیں بازو کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے لوگوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے اسلام آباد کی لائن اختیار کئے ہوئے ہے اور یہ جو سائبر کرائمز کے خلاف قانون سازی کے نام پر اب ایکٹ بنانے کی کوشش ہورہی ہے اس کا مقصد سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے بیانیہ سے ہٹ کر آنے والے بیانیوں کو روکنا ہے اور اس میں خاص طور پر بلوچستان کے معاملے پر سنسر اور معلومات کو روکنے کے لیے اور زیادہ جابرانہ اقدامات کرنا ہے اس ایکٹ میں ایک تو یہ شق بھی ہے کہ پاکستان کے دوست ملکوں پر تنقید بھی جرم ہوگی ، اسی طرح سے قومی مفاد کی کوئی تعریف کئے بغیر اس کے خلاف لکھنے والے کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جاےسکے گآ ، گویا اگر آپ سعودی عرب سمیت گلف ریاستوں کے شیعہ اور صوفی سنیوں کے خلاف کھڑے کیئے جانے والے دھشت گردوں اور نرسریوں کو پروان چڑھانے میں کردار کو بے نقاب کروگے تو آپ اس ایکٹ کی زد میں آجائیں گے ، ایسے ہی اگر آپ نے شاہ سلمان کو کچھ کہا ، چین کی تزویراتی حکمت کے نتیجے میں بلوچ کی تباہی پر کوئی بات کی اور چین کو بھی سامراجی طاقت کہا تو بھی آپ اس ایکٹ کی گرفت میں آجائیں گے ، اسی طرح اگر آپ نے سیکورٹی فورسز ، ایجنسیوں اور اس ملک کی عسکری اسٹبلشمنٹ کے کسی عہدے دار کے کسی عمل پر انگلی اٹھائی تو بھی آپ ریاست کے مجرم ٹھہر جائیں گے یہ سارے اقدامات ایسے ہیں جن میں پرائمری ہدف جہاں بلوچستان کے خوالے سے مکمل خاموشی کا راج مقصود ہے تو دوسری طرف سعودی عرب اور گلف ریاستوں کے کردار پر پاکستان کے 60 فیصد سنّی بریلوی اور 20 فیصد شیعہ اور اس ملک کے ترقی پسند حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید اور دباؤ کا سدباب کرنا ہے ، پاکستان کی اس وقت نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتیں ہوں یا سنٹر رائٹ کی پارٹیاں ہوں وہ سب کی سب اس وقت ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ان دو ابتدائی مقاصد میں ہم آہنگ نظر آتی ہیں ، آصف علی زرداری کا حال تو یہ ہے کہ ابھی جبکہ پارلیمنٹ کی بحث جاری تھی یمن پر تو وہ آگے بڑھے اور انھوں نے ہادی حکومت کو جمہوری کہا اور یمن کے حوثی قبائل کے خلاف سعودی جارحیت کی حمائت کی اور اس کی صاف وجہ یو اے ای تھا جس کے حاکموں کی جانب سے دبئی میں حاصل مراعات سے محرومی آصف علی زرداری برداشت نہیں کرسکتے تھے پاکستان کی ملٹری کی قیادت سعودی عرب کے معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں ہے اس نے زمینی دستے سعودی عرب بھیجنے سے جو معذرت کی اس کی وجہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر سعودی غلامی کا جوا اتار پھینکنے کی خواہش کا جنم لینا نہیں ہے بلکہ اس کی ایک وجہ تو خود پاکستانی فوج کے بلوچستان ، فاٹا میں مصروف ہونا ، اپیکس کی شکل میں پورے پاکستان کے اندر اپنے قدم رکھنا اور ساتھ ساتھ فوج کے اندر مسلکی بنیادوں پر ہونے والی تقسیم سے بچنا تھا کیونکہ یمن کے معاملے میں زمینی دستوں کو بھیجنا بہت واضح طور پر فوج کے اندر سنّی بریلوی اور شیعہ افسران اور سپاہیوں میں بے چینی پھیلنے کا سبب بنتا اور اس کے داخلی سطح پر بھی نتائج بہت برے نکلنے تھے ، اس لیے چپکے سے سعودی عرب کی لاجسٹک سپورٹ اور انسٹرکٹر سپورٹ پر اکتفاء کرلیا گیا پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے اس ملک کے شیعہ ،صوفی سنّی ، کرسچن ، ہندؤ ہزارہ ، زکری ، احمدی اور سیکولر لبرل انٹیلی جنٹیسیا کے سامنے یہ تاثر دیا ہے کہ وہی ان کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے بچا سکتی ہے جبکہ اس نے اپنی نجات دہندگی کے اس تاثر کے ساتھ ان مذھبی اور نسلی برادریوں سے یہ امید رکھی ہے کہ وہ بلوچستان پر اس کے بیانیہ کی حمائت کریں گے اور اسی طرح سے کم از کم شیعہ اور سنّی بریلوی اس کی ڈیپ سٹیٹ پالیسی کی جو اینٹی انڈیا جہت ہے اس کی مخالفت نہیں کریں گے ، اور اس میں کسی حد تک اسے کامیابی ملی ہے ایک طرف تو سنّی اتحاد کونسل ، پاکستان عوامی تحریک ، جے یو پی (سارے دھڑے ) سب کے سب بلوچستان پر اسلام آباد کے بیانیہ پر ایمان رکھتے ہیں تو دوسری طرف مجلس وحدت المسلمین ، جعفریہ الائنس ، شعیہ علماء کونسل ، تحریک جعفریہ سمیت دوسرے گروپ بھی بلوچستان کے حوالے سے عسکری اسٹبلشمنٹ کی لائن کو حب الوطنی اور اسلام دوستی کا تقاضا خیال کررہے ہيں جبکہ دیوبندی اور سلفی مذھبی جماعتیں ، جماعت اسلامی تو بلوچستان کے اندر اسٹبلشمنٹ کی پراکسی کے لیے درکار کیڈر تک فراہم کررہی ہیں جیسے انھوں نے بنگالیوں کے خلاف البدر و الشمس بناکر فراہم کئے تھے دیوبندی مکتبہ فکر میں عسکریت پسندی ، ریڈیکلائزیشن ، طالبنائزیشن کا سب سے مضبوط پروپیگنڈا سنٹر الرشید ٹرسٹ کے تحت چلنے والا روزنامہ اسلام ، ہفت روزہ ضرب مومن ،خواتین اور بچوں کے لیے شایع ہونے والے رسالوں ميں چینی پروجیکٹ کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں اور بلوچستان پر اسلام آباد کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی لائن اختیار کی گئی ہے اور اس حوالے سے مضامین کی بھرمار ہے جبکہ راء ، سی آئی اے ، موساد کا ہوا کھڑا کیا گیا ہے اسی طرح سے پروفیسر ساجد میر کی تنظیم کا مجلہ " ماہنامہ اہلحدیث " اور جماعت دعوہ کا ماہنامہ " الحرمین " اور ہفت روزہ اخبار " جرار " بھی اسی طرح کی قصّہ کہانیوں سے بھرا ہوا ہے صاف لگتا ہے کہ اسلام آباد کی سرخ عمارت سے سارا سکرپٹ لکھا ہوا آیا اور اس کی پیروی کی جارہی ہے
کشمیر میں اچانک تیزی سے واقعات کی تبدیلی اور علی گیلانی کا سامنے آنا اور کشمیر لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کی سرگرمیاں جوکہ اصل میں جماعت دعوہ ، لشک طیبہ، جیش محمد ، پاکستانی حزب المجاہدین ، البدر اور دیگر دیوبندی ، وہابی عسکری تنظیموں کی ایک کور پراکسی ہے اور اس کے پیچھے کون ہے سب جانتے ہیں اور پاکستان میں بھی ان سب عسکری اور فرقہ پرست دیوبندی ، وہابی گروپوں کو تحفظ حاصل ہے جن کی قیادت واضح طور پر پاکستان سے بغاوت کرنے والے دیوبندی ، وہابی تکفیری جہادیوں سے اعلان لاتعلقی کرچکی ہے اور ان گروپوں میں اگر کئی سہولت کار موجود ہے تو اسے پکڑ لیا جاتا ہے لیکن پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے دیوبندی اور سلفی پس مںظر کے نام نہاد جہادی فلسفے کی سرپرستی مکمل طور پر بند نہیں کی ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کو اپنی ریزرو فورس سمجھے جانے کی پالیسی کو ترک کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابتک اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) پر کوئی پابندی نہیں لگ سکی ہے بلکہ سعودی عرب کے یمن بحران کے عروج کے دنوں میں پاکستان آنے والے سرکاری حکام تو اسلام آباد اور نام نہاد جہادیوں کے درمیان رشتے اور مصبوط کرکے گئے ہیں کراچی آپریشن جسے ابھی کل ہی چیف آف آرمی سٹاف نے اے پولیٹکل قرار دیا جو رخ اختیار کرگیا ہے اور اس دوران یہ جو زوالفقار مرزا ایپی سوڈ سامنے آیا ہے اس سے بھی بے یقینی کی ایک فضا سامنے آئی ہے کہ اس آپریشن کا اب مقصد اسلام آباد کے بلوچستان بیانیہ اور اس کی جہادی پراکسی پر تنقید کرنے والوں کو سبق سکھانے اور اپنے منحرف جہادیوں کو پولیس ، رینجر ان کاؤنٹر میں پار کرنا رہ گیا ہے جبکہ تکفیریت اور خوارجیت پر مبنی دھشت گرد پالیسی کے لیے جو سہولت کار مراکز ہیں ان کو چھیڑا بھی نہيں جارہا ، میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے بھی وفاق المدارس سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت جانی ہے جیسی عافیت نواز شریف اور زرداری نے تلاش کی تھی
آنے والے دنوں میں پورا سچ بولنے والوں کو مزید مشکلات اور حبس فکر کا سامنا کرنا پڑے گا اور لبوں کو سینے کی مزید کوشش کی جائے گی اور یہ صورت حال حقیقی آزاد دانش وروں اور لکھاریوں کے لیے بہت بڑی مشکلات کا سبب بنے گی ، پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ، سچ بولنے کا حق اور ریاستی و غیر ریاستی فاشسسٹوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش سب کے لیے ایک نئی جدوجہد کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے اور میں اسی جدوجہد کو آج کی ترقی پسندی اور سامراج دشمنی قرار دیتا ہوں

Monday, May 4, 2015

ذوالفقار مرزا -زرداری ساگا ۔۔۔۔۔۔۔ سچائی کا سینڈروم


کبھی ہم تم بھی تھے آشنا
سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور کسی زمانے میں آج کی پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے سب سے گہرے دوست اور ہم راز زوالفقار مرزا جن رازوں سے پردہ اٹھارہے ہیں ، اس سے پاکستان کے سیاسی و صحافتی حلقوں کے ہاتھ ایک نیا موضوع ہاتھ لگ گیا ہے ، جس میں چٹخارہ بھی ہے اور بہت سی ناآسودہ خواہشات کی تسکین بھی ہے اور سوشل میڈیا پر تو اس حوالے نئے نئے چٹکلے چھوڑے جارہے ہیں لیکن مرے جیسے سیاست کے طالب علم کے لیے اس ساری قسط میں بہت سے اسباق پنہاں ہیں
میں نہ تو زوالفقار مرزا کے انکشافات پر اس کو پاکستان کی عوام کا محسن قرار دیتا ہوں اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی ، سندھ کے عوام کو استحصال سے نجات دلانے کے خواہش مند ہیں ، نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کا جو سیاسی فلسفہ تھا کہ اسلام ہمارا دین سوشلزم ہماری معشیت طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں پر ان کا کوئی ایمان تھا بلکہ وہ تو 80ء کی آخری دھائی میں شہید بے نظیر بھٹو کی " عملیت پسندی " کی پالیسی سے متفق ہونے والوں میں شامل تھے اور اس " عملیت پسندی " سے وہ اس گندی پاور پالیٹکس تک پہنچے تھے جو پیپلزپارٹی کے اندر جہانگیر بدر ، رانا شوکت سمیت ان سب رہنماؤں نے متعارف کروائی تھی جو ضیاء الحق کے کیمپ کے سرمایہ دار سیاست دانوں کی دولت کی چمک سے متاثر ہوکر ان جیسے بننے کا نام نہاد عملیت پسند فلسفہ سامنے لیکر آئے تھے ابھی پچھلے دنوں " کلاسیک " کے مالک اور معروف پبلشر اور مصنف ، زوالفقار علی بھٹو کے رفیق آغا امیر حسین سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھے بہت تفصیل سے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیاسی فلسفے کی تباہی اور 88ء سے لیکر 97ء تک ہونے والی بربادیوں کی داستان سنائی ، انھوں نے مجھے بتایا کہ کیسے 88ء میں پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کو چلانے کی زمہ داری ان کے کندھے پر ڈالی گئی اور کیسے پی پی پی پنجاب کے عہدے دار اس حوالے سے ملنے والے تمام عطیات کو کھا پی گئے اور آغا امیر حسین کو اس زمانے میں کئی لاکھ روپے کا مقروض کرادیا اور اس سلسلے میں جب انھوں نے بیگم نصرت بھٹو کو خط لکھا تو ان کی اس وقت کی پولیٹکل سیکرٹری رخسانہ بنگش نے ان کو کہا کہ بیگم بھٹو ان سے ملنا چاہتی تھیں اور جب آغا امیر حسین بیگم بھٹو سے ملنے پہنچے تو پہلے تو کہا گيا کہ بیگم نصرت بھٹو کی طبعیت ناساز ہے اور جب انھوں نے بہت اصرار کیا تو پھر ان سے ملاقات ہوئی تو بیگم نصرت بھٹو نے سارے معاملے سے اعلان لاتعلقی کیا اور آغا امیر حسین کو کہا کہ وہ پنجاب پیپلزپارٹی پر مقدمہ کردیں ، آغا امیر حسین نے ان سے کہا کہ پارٹی لیٹر پیڈ پر اپنے دسخطوں سے لکھ کر دیں ، انھوں نے اسے لکھ کردیا ، آغا امیر حسین اب اس لیٹر کے عکس کو اپنی آنے والی دھماکہ خیز سوانح عمری میں چھاپ رہے ہیں ، آغا امیر حسین کہتے ہیں کہ جب پی پی پی کی سنٹرل کمیٹی میں شہید بے نظیر بھٹو کی امریکہ نواز ، سرمایہ داری کی بدترین شکل نیولبرل ازم کی مخالفت بڑھنے لگی ، سنٹرل کمیٹی کے اکثر اراکین نے بے ںظیر بھٹو کو کہا کہ وہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے طرز سیاست اور ضیاء الحقی سیاست کے ایمان " دولت ، طاقت ، دھونس " کے حصول کو عملیت پسند سیاست کا نام دینے والوں کا ساتھ نہ دیں تو انھوں نے سنٹرل کمیٹی کی میٹنگ میں " خصوصی مدعوین " کی بدعت کا سلسلہ شروع کیا اور یہ " شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار " سنٹرل کمیٹی کے ان اراکین کو بولنے ہی نہیں دیتے تھے جو پی پی پی کے سیاسی فلسفے سے انحراف اور کارکن دشمن پالیسوں کے مخالف تھے آغا امیر حسین کہنے لگے کہ
"گلزار ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو نے حاضرین اجلاس سے تجویز مانگی کہ پی پی پی کے اندر نئی روح کیسے پھونکی جاسکتی ہے تو سنٹرل کمیٹی کے کئی ایک انتہائی کمیٹڈ راکین نے ان کو مشورہ دیا کہ ایک تو پارٹی کے اندر صاف اور شفاف انتخابی جمہوریت کو متعارف کروایا جايا ، دوسرا کرپشن اور بدعنوانی کو سنگین ، ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے ، جو وزیر ، عہدے دار اس کا مرتکب ہو اس پر پارٹی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردئے جائیں ، یہ تجویز جوں ہی سامنے آئی تو جہانگیر بدر ، رانا شوکت سمیت پی پی پی کے کئی ایک بڑے بڑے نام تلملا اٹھے ، یہ سب وہ لوگ تھے جن کی نظریں اقتدار سے جڑے زاتی مفادات پر تھی اور وہ خوب مال بنانا چاہتے تھے ، ضیاء آلحق کی نرسری کے گملوں میں اگںے والے جعلی سیاست دانوں کے ٹھاٹھ دیکھ کر ان کی رال بری طرح ٹپک رہی تھی ، جہانگیر بدر نے کہا کہ بی بی ! ہمیں نواز شریف کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اراکین اسمبلی و ممبران سینٹ اور پارٹی عہدے داروں کو مالی طور پر مضبوط کرنا ہوگآ ، ان کی بھی ملیں ، کارخانے ، شوگر ملیں ہوں گی ، دولت ہوگی تو نواز شریف کی چمک کی سیاست کا مقابلہ کیا جاسکے گآ میں نے (آغا امیر حسین ) نے بی بی کو کہا کہ اگر آپ نواز شریف اینڈ کمپنی کے پیٹرن پر نواز شریف کا مقابلہ کرنے کی سوچ رہی ہیں تو بھول جائیں کہ پنجاب میں پی پی پی کی سیاست 70ء جیسی دھائی کا عروج دیکھے گی ، کیونکہ اینٹی بھٹو نواز شریف سیاست کے علمبرداروں کی جیبوں میں بیسیوں فیزبیلٹی پڑی ہوتی ہیں ، یہ نہیں تو وہ نہیں ، آپ کے وزیر کوئلے کی دلالی میں منہ کالا ہی کریں گے ، نواز شریف اور اس کے جملہ رفقاء کا کچھ نہیں بگڑے گا اور اس سے پی پی پی کی عوامی سیاست کا جنازہ بھی نکلے گآ لیکن بی بی اپنے وزیروں کی زیرے جتنی کرپشن کو نوآز شریف کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر خیال کرنے لگ گئی تھیں " آغا امیر حسین کہتے ہیں کہ پی پی پی میں موقعہ پرست ، تمام بوالہوس بے نظیر بھٹو کے شوہر نامدار آصف علی زرداری کے گرد اکٹھے ہوگئے اور آصف علی زرداری پیپلزپارٹی کے لیے سرمایہ دار ، بزنس مین ، زر پرستوں کو تلاش کرنے میں لگ گئے ، ڈیرہ اسماعیل خان کے گلزار اینڈ کمپنی ان کی دریافت تھے اور ایک وقت وہ آیا جب پی پی پی کی سیاست جین مندر کے عوامی دفتر سے نکل کر گلزار پیلس میں مقید ہوگئی اور کمیشن ، ککس بیکس ، نوکریاں بیچنے ، پرمٹ ، ٹھیکے عجیب عجیب اسکینڈل نکل کر سامنے آئے ، بے ںظیر بھٹو کی جب 90ء میں حکومت کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کی گئی تو پارٹی کی سینٹرل کیمٹی کے اجلاس میں سنٹرل کیمٹی کے بعض درمند اراکین نے وزراء کی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی تو بے ںظیر بھٹو نے کہا کہ نوآز شریف اور ان کے ساتھی اونٹ کے اونٹ کھاگئے کوئی شور نہیں مچا لیکن مرے وزراء کی زیرے جتنی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو برداشت نہ ہوئی یہ تذکرہ بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد نے اپنی سوانح عمری " جہد مسلسل " ميں جگہ جگہ کیا ہے ، اسی طرح کی داستان ہمیں " طاقت کا سراب " میں ڈاکٹر مبشر حسن کے ہاں نظر آتی ہے ، یہی تذکرہ " علی جعفر زیدی " ایڈیٹر ترجمان پی پی پی ہفت روزہ " نصرت " نے اپنی آب بیتی " باہر جنگل ، اندر آگ " میں کیا ہے
انھوں نے لکھا کہ 2007ء میں لندن میں سندھ کے ایک سیاست دان نے اپنے گھر ڈنر کا انتظام کیا ہوا تھا اور اس ڈنر ميں بے ںظیر بھٹو شہید بھی شریک تھیں ، وہیں پر ان کی ملاقات مخدوم امین فہیم سے ہوئی ، علی جعفر زیدی سے بہت عرصہ بعد ملاقات ہوئی تھی تو مخدوم امین فہیم اور علی جعفر زیدی کے درمیان پرانی یادوں کو تازہ کرنے کا تذکرہ چل پڑا اور بار بار " نصرت " اور اس کی ادارت کا زکر بھی آیا ۔ اس وقت ایک شخص مخدوم امین فہیم کا بریف کیس تھامے ان کے سامنے مودب ہوکر بیٹھا تھا ، اس کے بارے میں علی جعفر زیدی نے خیال کیا کہ یہ مخدوم کا کوئی سیکرٹری ہوگا ، مخدوم تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر گيا تو اس آدمی نے عللی جعفر زیدی سے سوال کیا " کیا آپ بیگم نصرت بھٹو کے ایڈیٹر تھے " علی جعفر زیدی کہتے ہیں مجھے پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا جب بات سمجھ آئی تو ميں کف افسوس ملنے لگا کہ مخدوم امین فہیم کا سیکرٹری اس قدر جاہل ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایڈیٹر رسائل و اخبارات و میگزین کے ہوتے ہیں ، زندہ انسانوں کا کون ایڈیٹر ہوتا ہے ؟ اور پھر اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ " نصرت " نے پی پی پی کی تشکیل سے اس کی تہلی فتح تک کیا کردار ادا کیا تھا علی جعفر زیدی کہتے ہیں کہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ امین فہیم کا سیکرٹری نہیں بلکہ راجہ پرویز اشریف فور پی کے جنرل سیکرٹری تھے اور پی پی پی کے وزیراعظم بھی بنے وہ پاکستان پیپلزپارٹی جس کی قیادت ایک زمانے میں جے اے رحیم ، شیخ رشید ، ڈاکٹر مبشر حسن ، علی جعفر زیدی ، حسین نقی اور ان جیسے کئی اور ذھین و فطین اور اعلی دماغوں کے ہاتھ تھی ، اس کی میراث کیسے لوگوں کے ہاتھ لگی ، اس المیے پر جتنے بھی اشک بہالئے جائیں کم ہیں آصف علی زرداری کی شکل میں پیپلزپارٹی کی " عملیت پسندی " سیاست بدترین دیواليہ پن اور ان ساری بیماریوں سے لتھڑگئی جو پہلے کئی ایک خوبیوں اور کرداری خصوصیات کے ساتھ ساتھ موجود ضرور تھیں لیکن اب تو برائی ، برائی رہ گئی ہے ، پی پی پی کی سیاست کا قبلہ ضیاء الحق کی دھن دھونس اور موقعہ پرستی و زرپرستی کی سیاست رہ گئی ہے ، وہ سیاست جو پاکستان کی سنٹر رائٹ اور فار رائٹ سیاسی جماعتوں کا امتیازی نشان تھی ، اب پی پی پی کا بھی امتیازی نشان ہے زوالفقار مرزا نے جتنی بھی باتیں اور راز کھولے ہیں ان کا اعتبار اس لیے بھی کیا جارہا ہے کیونکہ وہ آصف علی زرداری کی جلوتوں اور خلوتوں کے شاہد ہیں اور انھوں نے لانڈھی جیل میں ، پمز میں آصف علی زرداری کی زندگی کے حفیہ گوشوں پر سے پردہ جو اٹھایا ہے اس کی صداقت کو کلی طور پر اگر تسلیم نہ بھی کیا جائے تو اس میں بہت ساری صداقت موجود ہے اور زوالفقار علی مرزا " آصف علی زرداری " کے خلاف " مارو یا مرجاؤ " مشن پر ہیں ، انھوں نے تو یہاں تک کہہ ڈالا ہے کہ قبر ایک اور اس کے لیے نشانہ دو ہیں اب اس ميں یا ان کو جانا ہے یا ان کے سابق دوست آصف علی زرداری کو جانا ہے " ذوالفقار مرزا کہتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹ بول کر آصف علی زرداری اور بے ںظیر بھٹو کی علیحدگی رکوائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ وہ آصف علی زرداری اور ان کے اردگرد سارے مالشیوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور فریال تالپور کے بارے ميں ان کا کہنا ہے پی پی پی کی تباہی کی زمہ دار یہ خاتون ہے زوالفقار مرزا کی اس بات میں کچھ سچائی اس لیے بھی ہے کہ پی پی پی کے کئی ایک مخلص ساتھیوں نے بیگم فریال ٹالپر کو مصدقہ اور ثبوت کے ساتھ پی پی پی کے کئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے نواز شریف و شہباز شریف سے روابط اور آنے والا الیکشن مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے لڑنے کے عزائم بارے خبردار کیا اور یہاں تک کہ ایک قومی اسمبلی کا رکن ایسا بھی تھا جس کو 2 ارب سے زیادہ ترقیاتی فنڈ دئے گئے اور اس کے ضلع کے تمام وفاقی محکموں پر اس کو کنٹرول دیا گيا جب وہ سرور چودھری کے زریعے رائے ونڈ جاتی امراء میں نواز شریف سے ملاقات کررہا تھا تو اس کی ملاقاتوں کا تصویری ثبوت فریال ٹالپر کو بھجوایا گیا ، ان میں سے کئی ایک ثبوت اس راقم نے اکٹھے کئے تھے تو فریال ٹالپر ، خورشید شاہ ، نذر گوندل ، رحمان ملک اس کی حمائت میں آگے آئے ، یہ سب لوگ وہ تھے جن کو اس رکن قومی اسمبلی نے جو جنوبی پنجاب کا ایک بڑا بزنس مین بھی تھا زیرو میٹر گاڑیوں کے تحفے دئے تھے اور اس کو کھاد بنانے کا ایک سرکاری کارخانہ کوڑیوں کے مول بیچ دیا گیا اور زرعی مداخل کی مد میں کرڑوں روپے کی سبسڈی بھی دی گئی اور جب وہ مسلم ليگ نواز کو پیارا ہوا تو اپنے ساتھ پی پی پی کے ایسے ایسے کارکنوں اور پی پی پی کی پوری تنظیم کو لے گیا جنھوں نے ضیآء کے پرآشوب دور میں بھی کوئی ہلکی حرکت نہیں کی تھی ، کیا کیا لکھا جائے ، پی پی پی کے وکلاء ونگ کا مرکزی جنرل سیکرٹری ایسے شخص کو بنایا گيا ہے جو افتخار چوہدری کے خاص مصاحبان میں شامل ہوتا ہے اور اس نے عاصمہ جہانگير کو ہروانے کے لیے ملتان میں پورا پورا کردار ادا کیا اور اس نے خانیوال میں پی پی پی کا یہ حال کیا کہ وہاں اب یہ وارڈ کونسلر کا الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی کے میڈیا ٹرائل کے عروج کے دنوں ميں یہ شخص مسٹر ٹین ، مسٹر ٹوئنٹی پرسنٹ کی گردان کرکے پی پی پی کی تباہی کے رونے روتا تھا اور " بھٹو کا یہ خودساختہ سپاہی " ایک زمانے ميں ملتان لاء کالج میں جبار مفتی صاحب کے ساتھ ایم ایس ایف کا امیدوار تھا ، آصف علی زرداری کی دوستی کا شرف ہر اس آدمی کو حاصل ہوا جس نے پی پی پی کے سیاسی فلسفے کو پیروں تلے روندنے میں کوئی شرم ، حیاء محسوس نہ کی اور دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کو اپنی سیاسی بصیرت قرار دینے پر اصرار کیا ، آصف علی زرداری کا انتخاب پنجاب میں مںظور وٹو ، سرائیکی وسیب میں مخدوم احمد محمود جیسے لوگ ہیں اور پی پی پی کی جسے ورکرز قیادت کہا جاتا ہے اور نائب صدر میاں چنوں کا ایسا مخدوم زادہ ہے جس کو پی پی پی کے غریب ورکرز کیڑے مکوڑے لگتے ہیں اور پی پی پی پنجاب کا جنرل سیکرٹری اشرف کائرہ ںذیر قیصر کے بیٹے جنید قیصر کے سوشل میڈیا لاہور کا انچارج بننے پر کہتا ہے " ایہہ کیہڑا چوڑھا ساڈھے تے مسلط کیتا اے ، اس سوچ کے مالک کو بھلا شہباز بھٹی کی قربانی سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے (جہانگیر بدر سے لیکر قمرالزمان کائرہ تک اور وہاں سے پی پی پی جنوبی پنجاب کے دیہاڑی باز اور جھوٹ و مکاری کے فن میں یکتا نام نہاد ورکر عہدے داروں تک سب کا " کمال سیاست " " بھاگ لگے رہن بادشاہیاں قیم رہن " کے وظیفے کی گردان ہے اور جب کبھی ان میں کسی ایک کی آنکھ لگے اور اس کو بھٹ سے باہر پھینک دیا جائے تو اسے زوالفقار مرزا کی طرح سچ کی الٹیاں ہونے لگتی ہیں ۔ ایسی الٹیاں آج کل سرائيکی وسیب کے لیہ سے تعلق رکھنے والے تحقیقی صحافت کے عظیم علمبردار صحافی کو لگی ہیں لیکن یہ سچ کی الٹیاں اسے بھی اسی لیے لگیں کہ اب وہ " مصاحب شہ " نہیں رہا ،کہا جاتا ہے کہ یوسف رضا گیلانی جب اسپیکر قومی اسمبلی تھے تو اس کی پرائمری اسکول میں پڑھانے والی اہلیہ کو آؤٹ وے جاکر بیوروکریٹ بنایا گیا تھا اور اس کی بستی کو کڑورں روپے کی مالیت کے ترقیاتی گرانٹس بھی جاری کی گئیں ، مجھے اس پر کوئی اعتراض اس لیے نہیں ہے کہ یہ الزامات تو اس صحافی کا قد اور بڑا کرتے ہیں کہ ایک تو میں زاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس کی اہلیہ کس قدر قابل اور ذھین فطین تھی جسے ایم اے انگریزی کرنے کے باوجود حکومت ایک پرائمری اسکول کی جاب ہی آفر کرسکی اور پھر اس صحافی نے اپنی بستی کو گیس ، پکّی سڑکیں ، سیوریج اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے دلوادیا تو اس میں برائی کیا ہے ، اصل معاملہ یہ ہے کہ دیکھنا یہ چاہئیے کہ یہ دیکھا کہ ہسڑیائی یا مالیخولیائی طرز کی حالت میں " سچ بولنے " کا یہ عمل شروع کب ہوا ، مجھے اس صحافی نے ایک ملاقات میں اسلام آباد میں خود بتایا تھا کہ " ایوان صدر میں روزانہ کی بنیاد پر زرداری یاترا کے دوران کس موڑ پر زرداری کی جانب سے ان کی بڑی اناؤں کو ٹھیس پہنچانے اور ان کو آئینہ دکھانے پر "ٹٹ گئی تڑک کرکے " والا معاملہ ہوگیا اور پھر سلمان فاروقی کی سفارش بھی زرداری یاتراء بحال نہ ہوئی تو ان کی حکومت کو روز رات کو خواب میں گرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا " وہ سٹوری میں نے لاہور سے شایع ہونے والے ایک ہفت روزہ " ہم شہری " میں پوری تفصیل کے ساتھ شایع کی تھی تو یہ قربت زرداری سے سرفرازی میں روکاوٹ پیدا ہونے پر پیدا ہونے والی ہسٹریائی کیفیت ہے جس کا شکار ذوالفقار مرزا بھی ہیں اور کئی ایک اور لوگوں کی بھی یہی حالت ہوئی ہے ، اس دوران یہ سب اپنے آپ کو " زیوس " دیوتا ثابت کرنے کی جو کوشش کررہے ہیں وہ سٹیج پر کھیلے جانے والی ایک تھرڈ کلاس کامیڈی / طربیہ کے سواء کچھ نہيں ہے ہم نے یہ تھرڈ کلاس طربیہ ڈرامے جس میں انتہائی جنون کے ساتھ " سچ اور احتساب " کے علمبردار جوکر سٹیج پر اداکاری کرتے دیکھے ہیں ، بریگیڈیر امتیاز عرف بلاّ کا سچ ، اس سے بہت پہلے ایف ایس ایف سربراہ مسعود کا سچ ، پھر سندھ کے قصائی " جام صادق " کے سچ ، لاڑکانہ میں عین بھٹو کی لاش کے دفنانے سے پہلے " اقتدار کے خواب دیکھنے والا " بھٹو کا ٹیلنٹڈ کزن کے سچ ، نواز شریف کے خلاف ظیارہ ہائی جیکنگ کیس کیس میں مدعہ معاف گواہوں کے " سچ " سابق ایس پی راؤ انوار کا " الطاف حسین " کے خلاف " سچ " اور صولت مرزا ، جاوید لنگڑا اور کسی لمبے ومبے کا "سچ " یہ سارے " سچ " اسی مالخولیائی کیفیت میں بولے جانے والے سچ ہیں جس میں کہیں کہیں ہمیں " فرشتوں کا ہاتھ بھی ان "سچائیوں " کی فریمینگ اور فریزنگ میں نظر آتا ہے ۔ یہ ایسے ہی سچ ہیں جیسے قدرت اللہ شہاب نے " شہاب نامہ " اور الطاف گوہر نے " لکھتے رہے جنوں کی حکائت " میں رقم گئے تھے اور اپنے آپ کو خود آپ ہی مدعی ، منصف بنکر رہا کروالیا تھا اور اپنے معتوبین کے سنگساری کی سزا تجویز کی تھی ، مجھے ضیاء الحق کے زمانے میں ایک پنجابی فلم کا انتہائی مقبول ہونے والے گیت کے اولین بول یاد آرہے ہیں ، غالبا گیت فلمسٹار انجمن پر فلمایا گیا تھا
ایتھے اسی نی خراب ایتھے سارے نے جناب جدوں ہووئے گا حساب ادوں ویکھ لیواں گے آصف علی زرداری نے اس ساری صورت حال پر کہا تھا دیکھا جو تیر کھاکے کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوست سے ملاقات ہوگئی لیکن لگتا ہے " از خود ترحم آمیزی اور خود ترسی " کی جو حالت وہ پیدا کرنا چاہتے تھے وہ پیدا نہ ہوسکی تو میدان میں شرمیلا فاروقی ، شہلا رضا کو اتارا لیکن شرمیلا تو بہت کمزور ستون تھا ، زوالفقار مرزا کی زبان ہے کہ اس نے رکنے کی بجائے اور تیز چلنا شروع کردیا اور کئی اور راز اس مالخولیائی حالت میں طشت از بام ہوگیا ذوالفقار مرزا سندھ کے کوئی "کمّی " " ہاری " جو کوئی کمزور پس منظر جیسے ديگ پکائی کا کام کرنے والے کسی کامے کے بیٹے تو نہیں ہیں اور نہ ہی وہ " مڈل کلاسیے " ہیں جو بقول مارکس دیکھتے آسمان کی طرف اور پاؤں کیچڑ میں دھنسائے ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے ان کے خلاف پولیس کا ہتھیار استعمال کرنے کا الٹا نقصان ہورہا ہے وہ سیالکوٹ کے " ملک سلمان " بھی نہیں ہیں جنھوں نے بھٹو صاحب کو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سنبھالے رکھنے کی پی پی پی کی قرارداد پر دستخط نہ کئے اور یوں تین ارکان کے دستخط کے بغیر یہ قرارداد اسمبلی سے منظور ہوئی تو بھٹو صاحب سے سیاسی پینترہ بدلا اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن اجلاس ختم ہونے کے بعد جب وہ اسمبلی سے باہر آرہے تھے تو انھوں نے دستخط نہ کرنے والے ملک سلمان سے ٹاکرا ہونے پر کہا " اوئے بہن ۔۔۔۔۔۔۔ تیری اوقات کیا ہے تو پولیس کے ایک ایس ایچ او کی مار ہے " بھٹو صاحب نے حمید جتوئی کو تو معاف کردیا کیونکہ وہ ایک سندھ کا بڑا وڈیرہ تھا اور محمود قصوری کی وکالت ان کو بچاگئی لیکن سلمان اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ایف ایس ایف اور پولیس نے جو کیا وہ بہت شرمناک تھا ، زرداری ذوالفقار مرزا کو سبق سکھانے کے لیے بہت سے داؤ استعمال کرنے والے ہیں لیکن ان کو شاید پی پی پی کی تاریخ کے ایسے لمحات میں رونما ہونے والے واقعات اور ان کے نتائج و عواقب کا اندازہ نہیں ہے ، مرا مشورہ ہے کہ دل پر جبر کرکے ان کو حیات اللہ خان نیازی المعروف کوثر نیازی کی " اور لائن کٹ گئی " رفیع رضا کی کتاب " این انکوائری آف ہسٹری آف پی پی پی " ڈاکٹر مبشر کی " طاقت کا سراب " علی جعفر زیدی کی " باہر جنگل ، اندر آگ " اور خود ذوالفقار علی بھٹو کی " اگر مجھے قتل کیا گیا " پڑھ لینی چاہئیے اور ان کو شیرباز مزاری کی آٹوبائیوگرافی پڑھ لینی چاہئیے تاکہ ان کو پتہ چلے کہ جس " کاریگری " اور چالاکی " کو انھوں نے سیاست ميں کامیابی کی کنجی قرار دیا وہ کتنی ناپائیدار ثابت ہوئی اور کس قدر بیگانگی " مخلص " جانثاروں میں پیدا ہوئی ۔ پی پی پی کے سیاسی فلسفے کی اس کے لیڈروں کے ہاتھوں پامالی اور نسیا منسیا کردینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ ایک کرکٹ کے کھلاڑی ، جوانی میں پلے بوائے کی شہرت رکھنے والے اور حال میں مسٹر طالبان خان کے لقب سے ملقب ہونے ایک شخص کو اعتبار بخشنے لگی ہے ، اب اس سے زیادہ اور کیا لکھوں کیوں جس قدر پردے اٹھیں گے ، پیٹ اپنا ہی ننگا ہوگا ، اس سے کسی بے شرم کو شرم تو آنے سے رہی ، ویسے بھی اب تو اس فقرے کو بھی ان لوگوں نے اچک لیا جن کا اپنا اعتبار مشکوک ہے مطلب یہ کہ " کوئی شرم ہونی چاہئیے ، کوئی حیاء ہونی چاہئیے " کس منہ سے یہ فقرہ کہوں سمجھ سے بالاتر ہے ، مجھے تو یہ کالم لکھتے ہوئے جہاں خون جگر میں انگلیاں ڈبونا پڑیں ، وہیں متاع دل و جاں لٹنے کا احساس مارڈالتا رہا ، اس دوران مجھے گڑھی خدا بخش میں دفن لاشوں کی پرچھائیں بھی دکھائی دیتی رہیں ، وہ کچھ بولتی تو نہیں تھیں لیکن لگتا ایسے تھا کہ اپنی قبروں پر آنے والے غریب ہاری ، کسان ، مزدور ، طالب علموں ، اقلیتوں کے نمائندوں سے شرمسار دکھائی دیتی تھیں جو ان کو اپنا چارہ ساز ، غمگسار ، مسیحا اپنی زندگی ميں سمجھتے رہے اور جب یہ سمجھوتوں کے باوجود شہید کردئے گئے تو ٹپکتی چھتوں والے غریبوں ، دیہات کے کسانوں ، ہاریوں ، غریبوں ، کمیوں نے ان کو " ولائت اصغر " پر فائز کرڈالا اور اب اپنے ہاں " اولاد " ہونے ، اپنی کنواری بیٹیوں کی شادی بالوں ميں چاندنی اترنے سے پہلے ان کے ہاتھ پیلے کرنے ، بیماروں کی شفا کے لیے ان کی قبروں پر آکر منتیں مانتے اور چڑھاوے جڑھاتے ہیں ، قائد عوام اب " ولی عصر ، مستجاب الدعوات " ہے اور مشرق کی بیٹی ، چاروں صوبوں کی زنجیر اب " شہید رانی " ہے "سندھ جو شہید رانی " ہے جبکہ حبیب جالب ابتک عالم برزخ میں یہ پڑھتے ہیں دن پھرے ہیں وقت وزیروں کے "