Showing posts with label Saudis. Show all posts
Showing posts with label Saudis. Show all posts

Monday, October 13, 2014

سعودی عرب - ملائیت آرٹ اور تاریخ کی سب سے بڑی دشمن


مکّہ میں دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کی تکمیل ہوچکی ہے اور اس عمارت کا نام رائل مکّہ ٹاور ہے اور یہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے مکّہ کو جدید سہولیات و تعمیرات سے آراستہ کرنے کے ایک میگا کا پروجیکٹ کا حصّہ ہے جس کے تحت مکّہ شہر کے وسط میں جدید شاپنگ سنٹرز ، اقامتی ہوٹل ، اپارٹمنٹ ، بینک برانچز ، میٹرو ٹرین ، ایکسپریس وے ، میٹرو اسٹیشن ، پارکنگ لاٹ اور مسجد الحرام کی توسیع کے منصوبے شامل ہیں ، جن میں سے بہت سے تو مکمل ہوگئے ہیں جبکہ کچھ مکمل ہونے کے قریب ہیں مکّہ کو جدید بنائے جانے کے اس نئے مرحلے کا جیسے ہی آغاز ہوا تھا تو مکّہ کو ماڈرن بنانے کے خلاف بہت سی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں تھیں ویسے تو سعودیہ عرب میں ایسے سعودی ماہرین فن تعمیر و آثار قدیمہ اور ماہرین ثقافت و تاریخ کا قحط ہے جو سعودیہ عرب میں آل سعود اور ملائیت کی جانب سے تاریخ ، قدیم تعمیرات اور ثقافت کی تباہی کو روکنے میں سنجیدہ رہے ہوں ،جبکہ خود سعودی حکومت بھی اپنے وجود کے اول دن سے تاریخ ، آثار قدیمہ ، ثقافت سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں رکھتی ہے لیکن ہم نے سعودیہ عرب کے اندر کوئی ایسی سیکولر ، ماڈرن تحریک بھی کھڑی ہوتی نہیں دیکھی جو سعودیہ عرب میں تاریخ ، ثقافت اور فن بارے سعودی عرب کے دشمن والے سلوک پر آواز بلند کرتی 1925ء میں جب ابن سعود نے مکّہ اور مدینہ پر قبضہ کرلیا اور مکّہ کے اندر جنت معلی اور مدینہ میں جنت البقیع کو مسمار کیا گیا ، جبکہ مولد پیغمبر کو مویشی منڈی بنایا گیا تو اس زمانے میں ہندوستان ، ترکی ، مصر سے زبردست احتجاج دیکھنے کو ملا تھا اور پوری مسلم دنیا میں مکّہ اور مدینہ میں مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کے خلاف سخت فضاء دیکھتے ہوئے سلطان عبدالعزیز ابن سعود نے لیپا پوتی کرکے اور رشوت کا بازار گرم کرکے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی انیس سو ستر میں جب سعودیہ عرب پیٹرو ڈالر سے سر سے پیر تک نہا چکا تھا زیادہ منظم انداز میں پورے سعودیہ عرب کو جدید سرمایہ داری معاشرے میں بدلنے کے لیے ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا اور اسی جدیدیت کے نام پر مکّہ اور مدینہ کی توسیع وغیرہ کا کام بھی شروع کیا گیا تھا سعودیہ عرب کے نام سے جو ملک آل سعود اور وہابی ملائیت کے اشتراک سے نجد و حجاز پر قبضہ سے وجود میں آیا اس کی فکری بنیاد علامہ ابن تیمیہ ، حافظ عبدالھادی ، ابن قیم اور محمد بن عبدالوہاب اور پھر آل شیخ کے وہابی مولویوں بشمول شیخ ابن باز ، صالح العثمین کے کٹّر ظاہریت پسند تصورات اور خیالات پر استوار ہوئی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے خیال میں اسلام اور مسلمانوں کے زوال کا سبب اور ان کے غلام بن جانے کی وجہ مسلم معاشروں کی مروجہ ثقافت اور ان کی مروجہ سماجی زندگی ہے اور ان دونوں بنیادوں سے جو مسلم تاریخ ، مسلم فن تعمیر ، ثقافتی مظاہر سامنے آئے وہ سب کے سب غیر اسلامی ، شرکیہ اور بدعت ہیں آل سعود نے مکّہ ، مدینہ اور پورے حجاز میں اسلام کے ظہور میں آنے سے لیکر خلفائے راشدین ، اموی ، عباسی ، آل بویہ ، سلجوک ، ترک ‏عثمان تک کے ادوار کے تمام تر تاریخی ، ثقافتی ، مذھبی ورثے کو یکسر مسترد کردیا اور ایک طرح سے چودہ سو سال کی مسلم عرب حجاز کی تاریخ ، ثقافتی آثار اور فن تعمیر کے نمونوں کو شرک ، بدعت اور غیراسلامی قرار دیکر رد کردیا گيا مسلم تاریخ میں جتنے بھی حکمران نوآبادیاتی دور سے قبل آئے انھوں نے اگرچہ مجسمہ سازی وغیرہ رد کیا تھا لیکن فن تعمیر کے حوالے سے وہ اتنے بانجھ اور کٹھور کبھی نہ تھے جتنے آل سعود واقع ہوئے ہیں اور ان کی فوجی فتوحات میں قدیم تاریخی آثار کو مٹآئے جانے میں اتنی شدت کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی جتنی آل سعود کے ہاں پائی جاتی ہے اور یہ تو کسی مسلم حکمران نے نہیں کیا تھا کہ اس نے کسی قدیم مکان ، درخت ، مقبرے کو مسلم بزرگوں کی نسبت ہونے کی وجہ سے گرادیا ہو آثار قدیمہ اور تاریخ کو مٹانے کا کام اگر پورے مذھبی جوش و خروش کے ساتھ کسی نے سرانجام دیا تو وہ آل سعود ، وہابی ملائیت اور ان کی مدد و اعانت سے پروان چڑھنے والے طالبان تھے لیکن افغان طالبان کے امیر ملّا عمر نے کم از کم افغانستان میں یہ فرق تو ملحوظ رکھا کہ اس نے قندھار میں اپنی خلافت کا حلف اٹھاتے ہوئے احمد شاہ ابدالی کے مزار پر وہ خرقہ زیب تن کیا جس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب کی جاتی ہے اور انھوں بامیان میں بدھا کے مجسمے کو اڑانے کے علاوہ افغانستان کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کی زیادہ عمارتوں کو نقصان نہ پہنچایا لیکن اگر اسامہ بن لادن کو افغانستان میں اور زیادہ پاؤں جمانے کا موقعہ مل جاتا اور عرب وہابی جہادی جیسے وہاں پر قبضہ کررہے تھے تو بہت جلد وہاں وہی مناظر دیکھنے کو ملتے جو ہم نے خیبرپختون خوا اور قبائلی ایجنسیوں میں ان کی آمد کے بعد دیکھے تھے کہ کوئی مزار ، کوئی امام بارگاہ ان کی بربریت سے محفوظ نہ رہی اور پھر گیت ، سنگیت ، فنون لطیفہ ، کھیل سب ہی ان کی بربریت کا نشانہ بن گئے اور آج کل ہم ثقافت دشمنی کا بڑے پیمانے پر نظارہ شام اور عراق میں 40 ہزار مربع کلومیٹر پر قائم داعش کی خلافت کی جانب سے دیکھ رہے ہیں سعودی عرب مکّہ اور مدینہ کو جدید بنانے کے نام پر وہاں سے تاریخ کے مادی آثار کو مکمل مٹانے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ انھوں نے اس دلیل کے ساتھ کیا کہ مکّہ اور مدینہ میں زائرین کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اور حج و عمرہ کرنے کے لیے آنے والوں کے لیے مسجد الحرام کی توسیع اور حاجیوں کی رہائش ، ان کی خدمت کے لیے ضروری کاروبار کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کے لیے جدید ترقیاتی کام اشد ضروری ہیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ترقی صرف مکّہ اور مدینہ میں موجود پرانے فن تعمیر کو مٹاڈالنے اور وہاں پر تاریخی آثار کو ختم کردینے سے ہی ہوسکتی تھی ؟ میں خود تو فن تعمیر کی مبادیات سے واقف نہیں ہوں لیکن اس حوالے سے کئی ایک فن تعمیر کی بہت زیادہ شد بد رکھنے والے دانشوروں کی تحریریں سامنے آئی ہیں جن میں ایک تو خود جدہ سے تعلق رکھنے والے معروف آرکٹیکچر محمد سامی محسن عنقاوی ہیں ، دوسرے برطانوی نژاد پاکستانی ماہر فن تعمیر ضیاء الدین سردار ہیں ، تیسرے سری نگر سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور ، فلم ڈائریکٹر ، سکرپٹ رائٹر ، صحافی بشارت پیر اور چھوتے تھامس لپ مین ہیں - اور ایک اور اسلامک ہیرٹیج فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر عرفان علاوی ہیں ، جن کی جانب سے مکّہ اور مدینہ کی اس نام نہاد جدیدیت کی شدید مخالفت کی جارہی ہے اور وہ اسے تعمیر کی بجائے تباہی قرار دے رہے ہیں ضیاء الدین سردار نے " مکّہ کی تباہی " کے عنوان سے ایک آرٹیکل لکھا ، اس آرٹیکل میں انھوں نے مکّہ کی جدیدیت کو الٹراماڈرنائزیشن کا نام دیا اور ان کے خیال میں مکّہ کی جدید تعمیر اصل میں پورے مکّہ کی تاریخ کو مٹانے اور دوسری طرف خود مقصد حج کو فوت کرنے کے مترادف ہے - وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے قدیم اسلامی تاریخی شہر مکّہ کو مٹاکر اس کی جگہ سعودی عرب کا نیا ڈزنی لینڈ اور لاس ویگاس پیدا کردیا ہے ضیاءالدین سردار نے اس الٹراماڈرنائزیشن کا دانشورانہ تباہی کا پہلو بھی تلاش کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ آل سعود اور اس کے وہابی ملّاؤں نے ایسا جدید مکّہ تعمیر کیا ہے جو مونو لتھک ہے ، بہت زیادہ کٹر پنتھی ہے اور تنوع و تکثیریت کا دشمن ہے اور وہ اس الٹراماڈرنائزڈ مکّہ کو پوری مسلم دنیا کو مونو لتھک اور تنوع و تکثیریت مخالف معاشروں میں بدل جانے کا زمہ دار بھی قرار دیتے ہیں ان کے خیال میں جو حاجی جدید مکّہ میں مناسک حج ادا کرنے کے دوران اسلام کی ابتدائی تاریخ سے لیکر بعد تک کے ارتقائی سفر کی تلاش وہاں کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کو اس تلاش میں گوہر مقصود ہاتھ نہیں آئے گا اور نہ ہی حج اب مختلف نسلی ، قومیتی ، لسانی ، مسلکی پس منظر کے حامل لوگوں کے درمیان باہمی تبادلہ خیال اور فکری جدال کا موقعہ فراہم کرنے والا اور مکّہ تنوع پر مبنی فکری مکالموں کا مرکز رہا ہے بلکہ حج ایک پیکج میں بدل گیا ہے جس میں ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل ، ایک مخصوص گروپ میں حرکت کرنے کا نام ہی حج رہ گیا ہے سرمایہ دارانہ جدیدیت کی علمبردار اقوام نے لندن ، پیرس ، روم کی تاریخی ، ثقافتی اور مذھبی شناخت کو باقی رکھا اور ان کو ان کی تاریخ سے محروم اور بے چہرہ نہیں کیا ، اس بات کو خود سعودیہ عرب کے ماہر فن تعمیر محمد سامی محسن عنقاوی جو جدہ کے رہنے والے بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں سامی محسن عنقاوی نے 1975ء میں "حج ریسرچ سنٹر " کی بنیاد رکھی اور اس سنٹر کے تحت انھوں مکّہ اور مدینہ میں قدیم تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنانے اور ان کو تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اپنے طور پر مکّہ اور مدینہ کی تاریخ کو محفوظ بنانے کا کام شروع کیا اور حال ہی میں انھوں نے رائٹر خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ انھوں نے مکّہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان کو تلاش کرلیا ہے جیسے انھوں نے دار ارقم کو تلاش کرلیا تھا لیکن ابھی وہ اس مکان کو پبلک نہیں کررہے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو سعودی حکومت اس مکان کے ساتھ بھی وہی کرے گی جو اس نے دار ارقم کے ساتھ کیا تھا کہ اس کو گرادیا تھا - حالانکہ دارارقم وہ جگہ ہے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پہلی درس گاہ بنائی تھی سامی محسن عنقاوی کہتے ہیں کہ 1932ء جب سے سعودی عرب کی بنیاد پڑی ،اس وقت سے لیکر اب تک 2014ء میں سعودی عرب نے جدیدیت کے نام پر 300 سے زیادہ تاریخی قدیم عمارتوں کو سرے سے مسمار کردیا اور کوئی تختی یا نشانی تک ان عمارتوں کی باقی نہیں ہے اور یہ ایک منظم طریقے سے ان شہروں کی تاریخ کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے سامی محسن عنقاوی کی نظر میں سعودی عرب تاریخ اور ثقافت سے نفرت کرنے والے ملّاؤں اور حکمرانوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور 1992 ء میں سعودی عرب کی سنئیر مذھبی کونسل نے ایک فتوی جاری کیا ، جس میں آل سعود کو کہا گیا کہ وہ کسی بھی طرح سے مکّہ اور مدینہ میں پرانی تاریخی عمارتوں کو باقی رکھنے اور محفوظ بنانے کی کوشش نہ کرے اس سے شرک پھیلے گا ،گویا تاریخ ، آثار قدیمہ اور ثقافت کو اسلام کے عقیدہ توحید کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا لندن میں ہسٹاریکل انسٹیوٹ اور اورنٹیئل افریقن اسٹڈیز کے پروفسر کنگ جیفری بھی سعودیہ عرب میں تاریخ ، ثقافت اور پرانے تعمیراتی فن کو معدوم اور مرتا ہوا دیکھ رہے ہیں سامی عنقاوی نے جدہ میں اپنا گھر " المکیہ " کے نام سے بنایا اور اس گھر کو انھوں نے " حجاز " کی ثقافت کا عکاس بنایا اور اس گھر کو بنانے کا مقصد حجاز اس کی اس ثقافت کو محفوظ کرنا ہے جو سامی محسن عنقاوی کے بقول سعودی وہابی ملائيت کے تاریخ و ثقافت دشمن خیالات و اقدامات کے ہاتھوں حجاز میں معدوم ہورہی ہے اور سامی عنقاوی کا کہنا ہے کہ حجاز کی ثقافت بالعموم اور مکّہ و مدینہ کی بالخصوص تنوع اور تکثیریت پر مبنی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اس ثقافت کو محمد رسول اللہ سے شروع کیا جائے تو یہ 14 سو سال پر پھیلی ہے اور اگر حضرت ابراہیم سے شروع کیا جائے تو اس تاریخ کا دورانیہ 5000 ہزار سال پرانا ہے اور سعودی حکومت اصل میں 1400 سال اور 5000 ہزار سال پرانے تہذیبی و تاریخی ورثے کا قتل کرنے کا کام 1932ء سے کرتی آرہی ہے تھامس لپ مین اسے " زر اور وہابیت " کے امتزاج سے بننے والا ماڈرن حجاز کہتے ہیں جبکہ سامی محسن عنقاوی کہتے ہیں کہ اسلامی آرکیٹیکچر روائت اور جدیدیت کا امتزاج رہا ہے اور اس میں مستقل اور متغیر دونوں شامل ہوکر توازن پیدا کرتے رہے ہیں جس کا سعودی حکمرانوں اور وہابی ملائیت کو زرا بھی احساس نہیں ہے اور سامی ایک منظوم شکل میں اسلامی فن تعمیر کی تعریف یوں کرتا ہے الجمال ينتج من الكمال والكمال ينتج من التكامل والتكامل ينتج من التوازن والتوازن ينتج من الميزان الا تطغوافي الميزان هذا سرالتصميم عند جمال کمال سے اور کمال تکامل سے تکامل توازن سے توازن میزان سے منتج ہوتا ہے تو پھر میزان پر ہی اصرار کرو اور یہی ڈیزائن کا سر یعنی راز ہے تو سامی محسن عنقاوی کے ںزدیک مسلم فن تعمیر اور حجازی کلچر تصمیم کے ایسے سلسلے کا نام ہے جو روائت اور جدیدیت میں توازن سے جنم لیتا ہے اور اسی وجہ سے کمال و حسن پر مبنی ہے پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سعودی عرب میں تاریخ و کلچر کی تباہی کے بارے میں آنے والی تمام خبروں ، مضامین اور فیچرز کا بائيکاٹ کئے ہوئے ہے اور اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے تو اس حوالے سے اپنے ناظر اور قاری کو جاہل رکھنے کی قسم کھارکھی ہے ،جبکہ یہاں کے کسی بھی نامور آرکٹیکچر یا آرٹسٹ یا ماہر تاریخ نے ابتک اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی ہے اور مذھبی حلقوں نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے

Thursday, September 25, 2014

مڈل ایسٹ - وہابی مذہبی اسٹبلشمنٹ ، واشنگٹن اور اخوان المسلمون - دوسرا حصّہ


پہلی جنگ عظیم کے ساتھ ہی عرب معاشرے موجودہ بحران کے طویل ترین دور میں داخل ہوگئے جو اب تک چل رہا ہے اور اس بحران نے نوآبادیاتی / سامراجی غلبوں سے جنم لینے والے بحرانوں اور دوسرے بڑے بحران جو سرمایہ داری کے بڑے مراکز میں پیدا ہورہے تھے کے ساتھ اپنی جگہ بنائی پہلی جنگ عظیم اور اس کے پیچھے ، پیچھے چلے آنے والے انقلابی ابھار نے اس دو جہتی بحران کو دن کی روشنی میں لاکھڑا کیا اور دوسری جنگ عظیم کے زریعے سرمایہ داری نظام اس بحران کے نازک ترین دور کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا لیکن اس سرمایہ داری نظام کے بڑے مراکز سے دور حاشئے پر جو خطے اور زون واقع تھے وہاں پر ڈویلپمنٹ سست رہی اور دنیا کا نظام ایسی سامراجی معشیتوں کے ڈھانچے پر مشتمل ہوگیا جس میں حاشئے پر موجود زون میں ترقی کی سست رفتاری معمول سمجھ لی گئی سرمایہ داری نظام کے حاشیوں پر جو علاقے تھے وہاں پر صنعت کاری کی سست رفتاری کو ختم کرنے کے لیے 20 ویں صدی میں بہت سے ریڈیکہ تجربات بھی ردعمل کے طور پر سامنے آئے ایک رد عمل کمیونسٹ تحریک کی شکل میں سامنے آیا ، اور کئی ایک ملکوں میں کمیونسٹ پارٹیوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ، پیداوار کے سماجی زرایع کی نجی ملیکت ختم کردی اور یہ انقلاب ان کمیونسٹ پارٹیوں نے پرولتاریہ (جس مراد اجرتی مزدور اور وہ جو اجرتی مزدور بننے جارہے تھے ہیں) اور کسانوں کی مدد سے برپا کیا اور ان پارٹیوں نے بیوروکریٹک موڈ آف پروڈکشن کو جنم دیا جس میں صنعتیں اور حکومت پارٹی کے عہدے داران چلاتے تھے اور اس بیورکریٹک مشین نے بنیادی صنعتوں کی تشکیل کی ،اگرچہ یہ کوالٹی کے ایشو کو حل نہ کرسکے اوریہ ماڈل صرف وہیں بچ سکا جہاں اس نے سرمایہ داری سے مفاہمت کی راہ نکالی اور اس طریقے کا انجام آخرکار سرمایہ دارانہ موڈ آف پروڈکشن کے احیاء کی شکل میں برآمد ہوا -اس میں سوویت یونین کی " نیو اکنامک پالیسی " سے لیکر چین کی مکس معشيت کے تجربات شامل ہیں عرب خطّے میں سویت یونین کے بیوروکریٹک ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے ریاستی سرمایہ داری کے طریقہ پیداوار کو اس وقت صنعت کاری کو تیز کرنے کے لیے اپنایا گیا جب یہاں نیشنلسٹ ، پاپولسٹ فوجی افسروں یا نیشنلسٹ و پاپولسٹ فوجی افسروں اور نیشنلسٹ پارٹیوں کے ساتھ ملکر بونا پارٹ حکومتیں قائم ہوئیں لیکن ان بونا پارٹ حکومتوں نے پیداوار کے سماجی زرایع کی نجی ملکیت کا خاتمہ نہ کیا ان کو قائم رکھا جبکہ پیٹی بورژوازی کی پروپرائٹرشپ کو بھی ختم نہ کیا ، اس کی وجہ سے بونا پارٹ حکومتیں ایک اور نئی قسم کی بورژوازی پیدا کرنے کا سبب بن گئیں اور یہ حکمرانوں کے ساتھ گھل مل گئی اور اقرباء پرور ریاستی بورژوازی سامنے آگئی تیسری دنیا میں یہ جو سرمایہ داری ںظام کی گماشتہ شکل سامنے آئی ، جس نے کمپراڈور سرمایہ دار طبقے کو جنم دیا اور جس کی وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں میں وہ قومی بورژوازی انقلابات بھی نہ آئے جیسے یورپ میں آئے تھے تو اس کے خاتمے کے لیے جہاں ہم نے نیشنلسٹ ، کمیونسٹ ، لیفٹ ریڈیکل پاپولسٹ ردعمل دیکھے وہیں اس کے ردعمل میں رجعتی ردعمل بھی دیکھنے کو ملّا اور یہ رجعتی عمل ہمیں تیسری دنیا کے معاشروں میں شہری ، نیم شہری صنعتی علاقوں میں پنپتا نظر آيا اور مڈل ایسٹ میں بھی ایسے شہری و نیم شہری مراکز موجود تھے جوکہ اسلام کا مرکز بھی تھے گلبرٹ آشکار کے بقول ایسی سماجی تشکیل ان یوروپی معاشروں ميں بھی موجود تھی جہاں سرمایہ داری زرا دیر سے پہنچی اور پوری طرح سے بالغ نہیں ہوئی تھی اور ان یوروپی معاشروں مين روائتی پیٹی بورژوازی پرتیں موجود تھیں جن کو "مڈل کلاس " کی اصطلاح سے گڈ مڈ کرنا نہيں چاہئیے بلکہ یہ اصطلاح تو بورژوازی ( سرمایہ دار ) خود گمراہ کرنے کے لیے ڈیزائن کرتے ہیں -تو جب یوروپی سماج عظیم سرمایہ دارانہ ٹرانسفارمیشن کے دور سے گزرے تو یہ روائتی پیٹی بورژوازی پرتیں زوال پذیر اور تباہ ہونے لگیں کارل مارکس اور اینگلس نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں ایسی پیٹی بورژوازی پرتوں کے بارے میں لکھا تھا The lower strata of the middle class — the small tradespeople, shopkeepers, and retired tradesmen generally, the handicraftsmen and peasants — all these sink gradually into the proletariat, partly because their diminutive capital does not suffice for the scale on which Modern Industry is carried on, and is swamped in the competition with the large capitalists, partly because their specialised skill is rendered worthless by new methods of production. Thus the proletariat is recruited from all classes of the population. The lower middle class, the small manufacturer, the shopkeeper, the artisan, the peasant, all these fight against the bourgeoisie, to save from extinction their existence as fractions of the middle class. They are therefore not revolutionary, but conservative. Nay more, they are reactionary, for they try to roll back the wheel of history. If by chance, they are revolutionary, they are only so in view of their impending transfer into the proletariat; they thus defend not their present, but their future interests, they desert their own standpoint to place themselves at that of the proletariat. عرب خطّے میں وہ تحریک جس نے گماشتہ سرمایہ داری سے جنم لینے والے بحران کا ردعمل رجعتی شکل میں دیا اور تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کی کوشش کی اسے عمومی طور پر " مسلم بنیاد پرستی " کہا جاتا ہے (آگے چل کر ہم بتائیں گے کہ کیسے جسے مسلم بنیاد پرستی کہا جاتا ہے اس کی فکری تشکیلات میں وہابی ازم نے کس قدر حصّہ لیا ) اسلامی بنیاد پرستی اسلامی تاریخ کو دیومالائی اور یوٹوپیائی شکل دیکر اس کے ابتدائی ادوار کو " سنہری دور " میں بدلتی ہے اور اس گھڑے ، گھڑائے سنہری دور کی طرف واپسی کی طرف بلانے کا کام کرتی ہے عرب خطّے میں بھی اس رجعتی تحریک کی جڑیں روائتی دانشوروں ، درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ ، طلباء اور دیگر لبرل پیشوں سے جڑے درمیانے طبقے کے لوگوں کے اندر تھیں اس رجعتی ردعمل کا ایک اظہار تو نجد کے خطے سے اٹھنے والی وہابی تحریک تھی جبکہ دوسرا ردعمل مصر میں بہت مربوط طریقے سے اخوان المسلمون کی شکل میں سامنے آیا اخوان المسلمون 1928ء میں قائم ہوئی ، یہ اسلامی بنیاد پرستی پر مبنی پروگرام کے ساتھ جدید سیاسی شکل میں سامنے آنے والی تنظیم تھی اور مصر میں رجعتی ردعمل کا اظہار تھی جس نے عرب خطّے کی رجعتی سیاست کو نجد وحجاز پر قابض ہوجانے والی وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ملکر ایک واضح شکل و صورت دی پہلی جنگ عظیم کے بعد بنیاد پرسپ تحریک نے عربوں کے درمیانی سماجی پرتوں پر غلبہ پانے کے لئے نیشنلسٹ اور کمیونسٹ لیفٹ کے ساتھ مقابلہ کرنا شروع کردیا فلسطین میں جب 1948 ء میں عربوں کو شکست ہوگئی تو نیشنلسٹ پاور میں آگئے اور بعد میں 1960ء کی ریڈکلائزیشن کی وجہ سے وہ بنیاد پرست تحریک کا اثڑ کم کرنے میں کامیاب رہے اور انھوں نے اس کو دبایا بھی انیس سو ستر کے آتے آتے عرب نیشنلزم کی ناکامی واضح ہوگئی تھی جبکہ اس کی ساکھ بھی سویت یونین کے بحران کی وجہ سے خاصی متاثر ہوچکی تھی نیشنل ازم کی ناکامی اور سوویت یونین کے بحران کے باعث بنیاد پرست تحریک کو پھیلاؤ اور وسعت کے لیے میدان صاف مل گيا اور اسی دوران سعودی عرب کی جانب سے بنیاد پرست تحریک کو عرب خطّے میں فیاضانہ امداد ملنا شروع ہوگئی اور جب 70ء کے عشرے کا اختتام ہورہا تھا تو بنیاد پرست تحریک کو ایک اور بوسٹ ملا اور وہ بوسٹ ایران میں شیعی اسلامی انقلاب کی کامیابی تھی
عرب خطّے کی بہت سی حکومتیں جنھوں نے بعض موقعوں پر بنیاد پرست تحریک کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا تھا اس تحریک کے خلاف ہوگئے اور انھوں نے ان پر جبر شروع کیا ، بنیاد پرستوں کو مصر میں جزوی اور مستقل جبر کا نشانہ بنایا اور جبکہ لیبیا ، عراق ، شام ، الجزائر اور تیونس میں ان پر زبردست جبر ہوا لیکن بنیاد پرستوں نے کسی بڑے مسابقتی اور مقابلہ کرنے والوں کی عدم موجودگي کی وجہ سے خطّے میں اٹھنے والی احتجاجی تحریکوں پر اپنا غالب اثر برقرار رکھا -کسی بھی سیاسی تحریک کو جبر دبانے اور اس کو مارجنلائز کرنے میں اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب یہ سماجی بنیادوں سے محروم ہوتی ہے اور 1950ء اور 1960ء میں بنیاد پرست تحریک اس سماجی بنیاد سے محروم تھی اور اسی لیے اس کو دبانے میں کامیابی ہوئی لیکں بعد میں عرب خظے میں جو سوشو- اکنآمک پیش رفت ہوئیں تو اس نے بنیاد پرست تحریک کو وہ سماجی بنیاد بھی فراہم کردی اور بنیاد پرست تحریک کے اثر کو بڑھادیا اور اس دوران کوئی ایسی ٹھوس مسابقتی و مقابلہ کرنے والی تںظیم موجود نہ تھی نیشنل ازم کی ناکامی کے پہلو میں عرب حکومتوں نے نیولبرل ازم کو اپنایا اور اس کی وجہ سے ریاست کا سماجی کردار اور سماجی خدمات کی فراہمی میں کردار کم ہوتا گيا اور اس نے ان عوامل کو پیدا کیا جس سے بنیاد پرست تحریک کی بالقوہ سماجی بنیاد کو بھی وسیع کرنے میں مدد فراہم کی مثال کے طور پر مصر میں اخوان المسلمون کے پاس عرب ریاستوں سے تیل کی بے تحاشہ آمدنی میں سے جو رقم موصول ہوئیں اس نے اس کی مالی حثیت کو مضبوط کرڈالا اور اس نے اسے ایسی کئی سماجی خدمات غریبوں کو فراہم کرنے کے قابل بناڈالا جس سے ریاست دست بردار ہوگئی تھی اور یہ سب کام اخوان نے چئیریٹی کے نام پر کیا جوکہ نیولبرل تناظر میں بہت مناسب خیال نظر آتا تھا گلبرٹ آشکار کے مطابق اخوان المسلمون کے لیے مصر میں سیاسی شروعات آزادی کے ساتھ کرنے کے لیے جو بریک تھرو پیدا ہوئے وہ پہلے سے ہی معلوم تھے Hosni Mubarak knew what would be coming his way once he was forced to bow to the pressure from Washinton . Hassan Abdul-Rahman , the head of Egyptian State Security , met with Muhammad Habib , first Deputy to the Brotherhood ,s Supereme guide at the time , in order to inform him that government intended to hold " democratic " election in 2005 and , accordingly , to work our an agreement covering the number of candidates the Muslim Brotherhood would be authorised to put up for election. دو ہزار پانچ میں حسنی مبارک نے واشنگٹن کے دباؤ کی وجہ سے اخوان المسلمون کو پہلے اور دوسرے مرحلے میں کسی حد تک انتخاب میں حصّہ لینے کی اجازت دی لیکن نتائج کو ایک خاص حد سے آگے جانے نہ دیا جبکہ اخوان کو 88 نشستیں دلاکر امریکہ کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اگر وہ اخوان المسلمون کو فری ہینڈ دینے پر مصر رہے گآ تو پھر نتیجہ امریکہ مخالف حکومت کے آنے کی صورت نکل سکتا ہے جبکہ اس دوران نور ایمان جیسے اعتدال پسند رہنماء کے ساتھ حسنی مبارک نے جو سلوک کیا اس پر امریکیوں کی خاموشی حیران کن تھی بش انتظامیہ نے حسنی مبارک اور اس کے حامی دانشوروں کی جانب سے اسے اخوان المسلمون سے ڈرانے کا جو حربہ اختیار کیا گیا تھا کو زیادہ اہمیت نہ دی اور اس نے اخوان المسلمون کی قیادت سے مذاکرات شروع کردئے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں اخوان اور امریکیوں کے درمیان برف پگھلنے لگی اخوان اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے زمانے میں کمیونزم اور نیشنل ازم جیسے مشترکہ دشمنوں کے خلاف لمبا تعاون رہا تھا اور دونوں ناصر ازم کو ان دو دشمن نظریات کا ہی ثمر خیال کرتے تھے جمال عبدالناصر اور اخوان کے درمیان ابتدائی طور پر تعاون کی فضاء تھی لیکن یہ تعاون 1954ء میں ختم ہوگیا ، یہ وہ دور ہے جب جمال عبدالناصر وزیر اعظم بنے تھے -اور جب اخوان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد کچھ عرصے ميں جمال عبدالناصر کے تعلقات امریکیوں سے بھی خراب ہوگئے تو اخوان اور امریکہ نے مشترکہ دشمن کے خلاف اتحاد بنالیا تھا اور ناصر کی دشمنی میں ایک تیسرا اتحادی بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور وہ تھا سعودی عرب اخوان المسلمون کا سعودی عرب سے تعلق ناصر کے خلاف اتحاد کے وقت نہیں بنا تھا بلکہ یہ حسن البناّ کی جانب سے مصر میں اخوان المسلمون کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی قائم ہوگیا تھا حسن البناّ کا نظریاتی استاد رشید رضا تھے جن کے سعودی عرب سے گہرے رشتے اس ریاست کے قیام کے آغاز سے ہی بن گئے تھے اور یہ رشتے رشید رضا کی 1935ء میں وفات تک قائم رہے جب شاہ فاروق نے مصر میں اخوان المسلمون پر پابندی لگادی تو سعودی عرب نے حسن البناّ کو اپنے ہاں سیاسی پناہ لینے کی دعوت دی اور حسن البنّا ابھی وہاں جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ان کو گولی مار کر ہلاک کردیا گيا جب اخوان المسلمون کے ناصر کی حکومت سے تعلقات بگڑے تو ناصر نے اخوان کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کا آغاز کرڈالا اور ایسے میں ہزاروں کارکن جیل میں ڈالے کئے ، اخوان کے مرشد سید قطب کو ساتھیوں سمیت سزائے موت دے دی گئی تو سعودیہ عرب نے اخوان المسلمون کے کارکنوں کے لیے اپنی سرحد کے دروازے کھول ڈالے ، اس وجہ سے بہت سے اخوان نے وہاں مستقل رہائش اختیار کرلی اور کئی ایک نے وہیں کی شہریت حاصل کی اور وہیں اخوان کے بہت سے لوگ سعودی سرمایہ کی مدد سے سرمایہ داری کی دنیا میں قدم رکھنے کے قابل ہوگئے اخوان المسلمون نے سعودی عرب ، امریکہ کے ساتھ ملکر جو ناصر مخالف اور اشتراکیت مخالف اتحاد بنایا ، اسی سے فاغڈہ اٹھاتے ہوئے اخوان المسلمون نے ورلڈ مسلم لیگ کی بنیاد 1966ء میں رکھ دی اور اس کا مرکزی دفتر مکّہ میں بنایا گیا یہ وہی رابطۃ العالم الاسلامی ہے جس سے پاکستان کی جماعت اسلامی ، دیوبندی اور وہابی مذھبی تںظیموں نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا وہابی سپانسر شپ اور وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے اس تنظیم کے بینر تلے دنیا بھر سے وہابی و دیوبندی اسلامی گروپوں کو جمع کیا گیا اور اس تنظیم کے بے پناہ مالی وسائل کی مدد سے ہی اخوان المسلمون نے عرب ملکوں کے اندر اخوان المسملون کی شاخیں قائم کیں جس دن سے رابطۃ العالم الاسلامی قائم ہوئی ،اسی دن سے حس البناّ کے داماد سعید رمضان نے پورے یورپ اور امریکہ میں اخوان المسلمون کا نیٹ ورک قائم کرنا شروع کردیا تھا اور سعید رمضان یورپ میں ورلڈ مسلم لیگ کو مضبوط کرنے کا سبب بھی بنا اور اس راستے سے یورپ اور امریکہ وہابی و دیوبندی اسلامی کرنٹ کے پھیلاؤ کے اہم مرکز بن گئے جب 1970ء میں ناصر کی موت ہوئی تو اس کے جانشین انور سادات نے ناصر ازم سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کرڈالا، اس نے ایک طرف نیولبرل اکنامی کی جانب سفر شروع کیا تو دوسری طرف مصر میں ناصر اور سویت یونین کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کے کے لیے لڑائی میں مذھبی بنیاد پرستی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور یہاں اس کی مدد اخوان المسلمون ، سعودیہ عرب اور امریکہ نے کی جو خود بھی ناصر ازم اور سوویت یونین کے خلاف لڑ رہے تھے
سادات نے اخوان المسلمون کے قیدی اراکین و رہنماؤں کو رہا کرڈالا اور اخوان المسلمون کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے ڈالی اگرچہ اخوان المسلمون کو قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت نہ تھی اخوان کے حامی طلباء گروپوں نے قاہرہ یونیورسٹی سمیت اہم تعلیمی اداروں سے ناصر اور اشتراکیت کے حامی طلباء کا صفایا کرڈالا اور اس میں انور سادات کی حکومت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا 1973ء میں ہی مکّہ کے اندر ورلڈ مسلم لیگ کے دفتر میں اخوان المسلمون کے دنیا بھر میں موجود شاخوں کے رہنماء کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اخوان کے موجودہ مرشد عام بھی شامل تھے اور راشد الغوشی تیونس سے موجود تھے اور اس موقعہ پر اخوان المسلمون کی ایک سنٹرل کمیٹی بنائی گئی اور راشد اس میں تیونس کی اخوان کی نمائندگی کررہے تھے آنے والے سالوں میں اخوان المسلمون سمیت رابطۃ العالم الاسلامی کے بینر تلے جمع ہونے والی مذھبی بنیاد پرست تنظیموں سے وابستہ اراکین کے لیے سعودیہ عرب میں ایجوکیشن اور مذھبی شعبہ جات سمیت کئی ایک شعبوں میں ملازمتوں کے درمازے کھل گئے اور سعودیہ عرب سیٹل ہونے کا موقعہ بھی میسر آیا اور سعودی عرب سمیت گلف عرب ریاستوں کی تیل کی آمدنی سے مستفید ہونے کا موقعہ میسر آیا نوٹ: یہ وہی دور ہے جب دیوبندی تنظیم عالمی تحریک ختم نبوت کے بہت سے لوگ سعودیہ عرب سیٹل ہوئے اور یہ ایک دیوبندی تنظیم ہے اور اس کے موجودہ چئیرمین عبدالحفیظ مکّی نے اس کا سنٹر مکّہ ميں قائم کیا اور ان کے توسط سے دیوبندی تکفیری تںطیم سپاہ صحابہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی مکّہ اور مدینہ منتقل ہوئے اور آج یہ بھی وہابی اسٹبلشمنٹ کی بہت قابل قدر پراکسی ہیں سعودی عرب اور دیگر عرب بادشاہتوں کی جانب سے سرمایہ کی فراہمی اور مراعات کے ملنے سے اخوان المسلمون کے اندر بورژوازی پروان چڑھنا شروع ہوئی اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ديگر بنیاد پرست تنظیموں کے افراد کی ایک پرت بھی بورژوازی کی شکل اختیار کرگئی سعودیہ عرب کی وہابی اسٹبلشمنٹ کے زیر سایہ پلنے والے اسلامی بنیاد پرستی کے مراکز میں سرمایہ داروں کے پیدا ہوجانے کے اس عمل سے وہابی ازم کی سماجی بنیادوں میں وسعت اختیار کرنے کی وضاحت بھی اسی عمل سے ہوجاتی ہے خیرات الشاطر جو کہ اخوان المسلمون کی سابق حکومت میں مرسی کا نائب تھا اس نے ایک مرتبہ یہ انکشاف کیا تھا کہ مصر میں حسنی مبارک کے حکم پر مصری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نو سو کے قریب ایسی سرمایہ دار کمپنیوں کا سراغ لگالیا تھا جس کے مالکان اخوان المسلمون کے ممبر تھے لیکن اخوان المسلمون جیسی بنیاد پرست تنظیموں کے اراکین میں بورژوازی کی پرتوں کے جنم کے باوجود اس کے پروگرام میں کوئی جدت نہیں آئی اور یہی حال دوسری وہابی ازم سے جڑی مسلم بنیاد پرست تنظیموں کا تھا اور اس کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ ان کا رشتہ عرب کی سب سے بڑی رجعتی ، بنیاد پرست ریاست سعودیہ عرب سے تھا اور سرمایہ داری کی جو شکل ان بنیاد پرست تنظیموں میں سرائت کی تھی وہ اپنی ساخت کے اعتبار سے کمرشل اور قیاسی سٹہ باز تھی اور اس کے جن سرمایہ دار ماڈیلٹی کے ساتھ رشتہ بنا تھا وہ بھی انتہائی رجعتی تھا سرمایہ دار پرتوں کے مسلم بنیاد پرستی کی تحریک کے اندر در آنے کی وجہ سے آخوان المسلمون جیسی تنظیموں میں ایک ماڈریٹ عنصر وجود میں آیا جو اعتدال پسندانہ اصلاح پسندی کا حامل تھا اور یہی وجہ ہے کہ اخوان نے اس انتہا پسند ریڈیکلائزیشن کو اختیار نہ کیا جس کا تقاضا سید قطب کی ریڈیکل سوچ کے غلبے سے ابھرا تھا اور یہی وہ مرحلہ ہے جس کی وجہ سے مصری اخوان سے کئی ایک ڈھڑے الگ ہوئے الگ ہوئے اور انھوں نے "جہاد ، قتال ، اور تکفیر " کا راستہ اختیار کرلیا گلبرٹ آشکار اخوان کے اس ماڈرنسٹ سیکشن کے ابھار کی سماجی بنیادیں تلاش کرتا ہوا لکھتا ہے The Brotherhood,s modernist _ those for whom Turkey,s Party for Justice and Development have been recurited , as a general rule . from ranks of " organic intellectual " petty and middle beourgeoise.The modernists are , for the most part , members of liberal professions and students. اخوان المسلمون کے ساتھ سعودیہ عرب کا پہلا بڑا اختلاف ایرانی انقلاب پر موقف اختیار کرنے پر ہوا اور اسلامی بنیاد پرستانہ ایرانی انقلاب نے عرب خطے میں بالعموم اور پوری دنیا میں بالخصوص مسلم بنیاد پرستی کو زبردست تقویت دی اور یہ تقویت اس لیے بھی ملی کہ ان دنوں عرب خطے میں نیشنل ازم اور کمیونزم کی علمبردار قوتیں زبردست بحران کا شکار ہوچکی تھیں اخوان المسلمون جب خمینی رجیم کو تحسین کی ںظر سے دیکھ رہی تھی تو اس وقت سعودی عرب نے اس کو اپنی بادشاہت کے لیے کے سخت خطرہ کے طور پر محسوس کیا اور اس کی امریکی دشمنی پر مبنی نعروں کو براہ راست اپنے لیے حظرناک شمار کیا جبکہ سعودی عرب کو انھی دنوں اپنے ملک کے اندر الٹرا وہابی آزم کے حامل ایک گروہ کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس نے مکّہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی اور ایرانی شیعہ انقلاب کے آںے سے سعودی عرب کا جو شیعہ اکثریت کا مشرقی صوبہ تھا وہاں بھی سیاسی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اسی وجہ سے سعودیہ عرب نے ایرانی شیعی انقلاب کی جانب زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا اخوان المسلمون کی ایران کے معاملے کو لیکر سعودی عرب سے دوری زیادہ دیر قائم نہ رہی بلکہ جونہی اپریل 1979ء میں سودیت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور سعودیہ عرب نے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی مدد سے افغان جہاد کا پروجیکٹ شروع کیا تو اخوان نے سعودی عرب سے اپنے اختلاف کو ایک طرف رکھ دیا اور اس کے ساتھ ویسے ہی شریک " جہاد " ہوگئی جیسے جماعت اسلامی پاکستان اور دیگر وہابی ، دیوبندی تںظیمیں ہوگئیں تھیں
اخوان المسلمون اور سعودیہ عرب کے درمیان تعلقات میں دوسری بڑي اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی دراڑ 90ء کے عشرے میں اس وقت پڑی جب کویت پر عراق کے قبضے کے بعد امریکی فوجیں بڑی تعداد میں عرب خطے میں آئیں اور سعودیہ عرب میں آکر قیام پذیر ہوئیں ، اس دوراان عراق کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ کے خلاف اخوان المسلمون نے عرب خطے کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی بلکہ اخوان المسلمون کی اردنی شاخ نے تو صدام کے شانہ بشانہ امریکی افواج سے لڑنے کا اعلان کیا سعودیہ عرب اس زمانے میں اخوان سے اسقدر ناراض ہوا کہ اس نے طارق رمضان کی خواہش کے مطابق اس کو مدینہ میں دفن ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا یہ وہی زمانہ ہے جب امریکہ کا ایک اور وہابی اتحادی گروپ اسامہ بن لادن کی قیادت میں امریکیوں کی خلیج عرب آمد اور سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد میں تعیناتی کے خلاف ہوگيا اور اس نے امریکہ اور اس کے خطّے میں اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا پوسٹ خلیج وار وہ دور ہے جس میں قطر اس سارے کھیل میں داخل ہوتا ہے اور وہ اخوان سمیت وہابی بنیاد پرست تحریک کے ایک بڑے سیکشن کو گود لے لیتا ہے اور واشنگٹن سے اپنے تعلقات کی ںئی تاریخ رقم کرنے کی طرف سفر کرتا ہے ، جس پر ہم اگلی قسط میں بات کریں گے

Wednesday, September 24, 2014

مڈل ایسٹ - آل سعود ، وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ ، مسلم بنیاد پرستی اور واشنگٹن - پہلا حصّہ


مڈل ایسٹ میں اس وقت جو بھی سماجی - سیاسی حالات ہیں ان میں جہاں عالمی طاقتوں کی حریفانہ کشاکش کا دخل ہے وہیں اس میں عرب ریاستوں کی داخلی و خارجی صورت حال سے ابھرنے والی علاقائی سیاست کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے اور اس ساری صورت حال میں مڈل ایسٹ میں جو مسلم بنیاد پرستی ہے جس کی بنیادوں پر اخوان المسلمون جیسی مسلم بنیاد پرست تحریکیں اور ان کے بطن سے نکلنے والی جہادی فرقہ پرست دھشت گرد تحریکیں خطے کی سیاست کو خاص شکل دیتی ہیں کا جائزہ لینے سے ہم مڈل ایسٹ کے خلفشار کو سمجھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اٹھارویں صدی سے تک عرب خطہ اور عرب ممالک زیادہ سے زیادہ مستشرقین اور کالونیل مہم جوؤں کی دلچسپی کا مرکز تھے اور گریٹ گیم اس زمانے میں زار شاہی روس اور برطانوی سامراج کے درمیان سنٹرل ایشیا کے ملکوں پر کنٹرول کے تناظر میں لڑی جارہی تھی یہ بیسویں صدی تھی جب پہلی جنگ عظیم کے دوران عالمی طاقتیں عرب ممالک اور شمالی افریقہ کے علاقوں پر باہمی کشاکش کا شکار ہوئیں عرب علاقوں میں تیل کی دریافت وہ فیصلہ کن عامل تھا جس نے ایک طرف تو عثمانی سلطنت کا خاتمہ کرنے کی راہ ہموار کی تو دوسری طرف علاقائی سیاست میں عرب علاقے ترکوں کی بنسبت زیادہ فوکس میں آگئے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی سامراج کا سورج ڈھلنا شروع ہوا اور امریکی سامراج کا سورج طلوع ہونا شروع ہوا ، اس کے ساتھ ہی سویت یونین کے ساتھ مغرب کی سرد جنگ کا آغاز بھی ہوگیا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ " نئی امریکی صدی " اور " نئی تیل کی صدی " کا آغاز ساتھ ساتھ ہی ہوا تیل آج بھی سرمایہ داری نظام کا بہت بڑا ستون ہے اور فاچون میگزین نے 2011ء میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا کی 12 سب سے بڑی سرمایہ دار کمپنیوں میں 8 تیل کی کمپنیاں ہیں اور ان میں ایکسون موبل دنیا کی دوسری ، شیورون تیسری اور کانوکوفلپس دنیا کی چوتھی بڑی کمپنی ہے اور یہ تینوں آئل کی کمپنیاں ہیں اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل فنانس کی رپورٹ کے مطابق 2008ء میں جب تیل 95 ڈالر فی بیرل تھا تو گلف تعاون کونسل کی ریاستوں کی تیل کی ایکسپورٹ 500 ارب ڈالر تھی جبکہ اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلیج عرب تعاون کونسل کی ریاستوں کے سرمائے کی باہر کی طرف بہاؤ یعنی آؤٹ فلو تقریبا 530 ارب ڈالر تھا جس میں سے 300 ارب ڈالر امریکہ ، 100 ارب ڈالر یورپ اور 70 بلین ڈالر باقی علاقوں کی طرف جارہے تھے گلف تعاون کونسل میں شامل ریاستوں کے غر ملکی گراس اثاثے 4170 بلین ڈالر جبکہ نیٹ اثاثے 1049 بلین ڈالر تھے (یہ 2002ء سے 2009ء تک کے اعداد و شمار ہیں) گلف تعاون کونسل کی ریاستوں کے ساورن ویلتھ فنڈ میں سرمایہ کاری 51 فیصد ہے اور یہ زیادہ تر پبلک ایکویٹیز پورٹ فیلیوز ، فکسڈ انکم سیکورٹیز ، رئیل اسٹیٹ میں اور بہت کم گلوبل کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی گئی امریکہ کی وفاقی ریاست کی جانب سے جاری کردہ یوایس مالیاتی بانڈز میں پہلے نمبر پر سرمایہ کاری چين کی ہے ، پھر جاپان کا منر آتا ہے اور تیسر نمبر خلیج تعاون کونسل میں شامل ریاستوں کا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں عالمی سرمایہ داری نظام میں امریکہ اور یورپ کے اندر ہونے والی سرمایہ داری میں خلیج عرب کونسل میں شامل ریاستوں کا حصّہ بہت زیادہ ہے ، وہیں پر یہ ریاستیں چین ، جاپان کے بعد امریکی وفاقی حکومت کو سب سے زیادہ قرض دینے والی ریاستیں بھی ہیں امریکہ کے لیے مڈل ایسٹ اسلحے ، فوجی ساز و سامان اور فوجی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے بھی بہت ہی اہم خطّہ ہے 1950ء سے لیکر 2014ء تک سعودی عرب امریکی اسلحہ انڈسٹری کا سب سے بڑا گاہک ہے اور امریکی اسلحے کی انڈسٹری جتنا مال فروخت کرتی ہے اس کا 17 فیصد تو سعودی عرب ہی خرید لیتا ہے جبکہ مصر اس کا 3۔7 فیصد خرید کرتا ہے جبکہ 32 فیصد باقی عرب ریاستیں خرید کرتی ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی اسلحہ انڈسٹری کا 57 فیصد مال عرب ریاستیں خرید کرتی ہیں گذشتہ 60 سالوں میں امریکہ نے فوجی کنسٹرکشن کی مد میں بیرون ملک جو کام کیا اس کا 78 فیصد سعودیہ عرب میں کیا امریکی دفاعی آلات و سروسز کی خریداری میں سعودیہ عرب کا پہلا نمبر ہے ، 2007ء سے 2010ء تک اس مد میں سعودیہ عرب نے امریکہ سے 8۔13 ارب ڈالر کی خریداری کی جبکہ یو اے ای اس مد میں 10 اعشاریہ 4 فیصد ، مصر 7 اعشاریہ 8 فیصد اور عراق 5 اعشاریہ 6 فیصد خریداری کرنے والوں میں شامل تھے فوجی ساز و سامان کی مد میں 2010ء میں سعودی عرب نے امریکہ سے 60 ارب ڈالر کے معاہدے کئے اور امریکہ کی ملٹری ساز و سامان کی فروخت کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی ڈیل تھی جبکہ اس سے پہلے فوجی سازو سامان کے فروخت کی سب سے بڑی ڈیل بھی سعودیہ عرب نے 1985ء میں برطانیہ سے کی تھی اور 60 ارب ڈالر کی اس سعودی - امریکی ڈیل کو سودی شاہی خاندان کی بدعنوانی کا سب سے بڑا اسکینڈل بھی قرار دیا جارہا ہے اس ڈیل کے علاوہ 2011ء میں سعودیہ عرب نے 84 ایف18 ایس اے ایگل فائٹنگ طیاروں کی خرید کی جس کی مالیت 29۔4 بلین ڈالر تھی اور اس سے پہلے سعودی عرب کے فلیٹ میں 70 ایف 15 یو ایس اے طیارے پہلے ہی شامل تھے اور مارچ 2011ء میں 256 ارب ڈالر کے ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ ہوا دیکھا جائے تو 1990ء اور 1991ء میں خلیج فارس میں جو سیکورٹی بحران پیدا ہوا اور سعودی عرب سمیت عرب ریاستوں کو اپنی سیکورٹی کا ایشو سنگین ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا تو اسی زمانے میں امریکہ سے خلیج عرب ریاستوں کی جانب سے اسلحے کی خریداری میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہم اگر 2004 سے 2007 ء تک امریکہ کے اسلحہ ٹرانسفر معاہدات کو دیکھیں تو ان کا 33 فیصد گلف ریاستوں سے تعلق تھا اور ان معاہدوں کی مالیت 20 ارب ڈالر بنتی تھی اور برطانیہ کے جو کل اسلحہ ٹرانسفر کے معاہدات تھے ان میں 26 ا‏عشاریہ 5 فیصد گلف تعاون کونسل کی ریاستوں کے ساتھ کئے گئے تھے اور ان کی مالیت 17 اعشاریہ 5 ارب ڈالر بنتی تھی ، جبکہ 2008 ء سے 2012ء تک ایسے معاہدے جو امریکہ سے کئے گئے وہ امریکہ کے کہ اسلحہ ٹرانسفر معاہدوں کے 78 فیصد تھے اور اس کی مالیت 92 ارب ڈالر تھی سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر ائی ) کی ایک رپورٹ کہتی ہے سعودی ریاست دنیا کی پانچویں بڑی ریاست ہے اسلحہ امپورٹ کرنے والوں میں اور امریکہ اس کا سب سے بڑا سپلائر ہے اور اس کے بعد برطانیہ ہے اور تیسرے نمبر پر فرانس ہے لیکن برطانیہ اور فرانس اس معاملے میں امریکہ سے بہت پیچھے ہیں جبکہ اسلحہ امپورٹرز میں متحدہ عرب امارات دنیا کا گیارہواں بڑا ملک ہے اور اس کا سب سے بڑا سپلائر بھی امریکہ ہی ہے اور جبکہ تھوڑے پیمانے پر یہ فرانس سے اسلحہ امپورٹ کرتا ہے عرب ریاستوں کے اندر سرمایہ داری کی حرکیات پر نظر رکھنے والے ماہرین میں معروف ماہر علی قادری اپنے مضمون Accumulation by enchrochment in Arab Mashreq in Ray Bush میں لکھتے ہیں فنانس اور ملٹری ازم پر بنیاد رکھنے والے ارتکاز سرمایہ کے عالمی پروسس میں مڈل ایسٹ واضح طور پر سنٹر میں کھڑا ہے بائیں بازو کے لبنانی نژاد مارکسی دانشور گلبرٹ آشکار کا کہنا ہے کہ آئل کارڈ خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ داری کی حرکیات میں بہت قیمتی سٹریٹجک اثاثہ ہے اور اس معاملے میں امریکہ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ چین جس کا سب سے زیادہ تیل انگولا اور سعودی عرب سے آتا ہے اور ان دونوں ملکوں کی سلامتی کی چوکیداری امریکہ کے پاس ہے جبکہ دوسری جانب چین امریکی مالیاتی بانڈز کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس طرح سے دونوں کی معشیتوں کا ایک دوسرے پر بہت انحصار ہے سعودیہ عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو عبدالعزیز السعود کے دور میں یہ بھی کہا گيا کہ امریکہ کے ساتھ عبدالعزیز کی شراکت داری کا مطلب واشنگٹن کی مدد سے اسلامی ٹیکساس بنانا ہے اور اس کو اگر جدید وہابی ٹیکساس کہا جائے تو غلط نہ ہوگا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لیکر سرد جنگ کے خاتمے تک اور موجودہ حال تک جہاں مڈل ایسٹ کو جدید وہابی خطہ میں بدلنے کا کردار سعودی شاہی خاندان اور وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ کے پاس رہا ہے وہیں مڈل ایسٹ کی مختلف الجہات معاشی ، فوجی اور سیاسی پیش رفت کا نگران امریکہ رہا ہے اور اس نگران کے کردار کو ادا کرتے ہوئے اس نے مڈل ایسٹ میں سعودی عرب کے شاہی خاندان اور وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ کے غالب کردار کو برقرار رکھنے کو ہر طرح سے یقینی بنائے رکھا سعودیہ عرب کی سلطنت کا اعلان 1932 ء میں کیا گیا تھا جبکہ اس نے نجد اور حجاز کو 1925ء میں فتح کرلیا تھا اس ریاست کی تشکیل نے عربی بولنے والی اکثریت کے خطے کے ارتقاء میں خصوصی اور پوری مسلم دنیا کے ارتقاء میں عمومی طور پر جو کردار ادا کیا اس کی اہمیت کو ٹھیک طرح سے آج تک مین سٹریم دھارے میں کبھی بھی بیان نہیں کیا گيا مارکسی عرب دانشور گلبرٹ آشکار اپنی کتاب " دی پیپل وانٹ ۔۔۔۔۔" میں لکھتا ہے
The founding of the kingdom was an event crucial to the later development of the Arabic -speaking region in particular and Islamic world in general.Its importance is widely underestimated, as i have argued everywhere. A few years after the new kingdom was founded , the political and religious influences that it had gained as a result of conquest of Islam,s Holy Places was substantially enhanced by financial means gauranteed it by 1938 dicovery of immense oil wealth .The kingdom that influences and those means to the service of its privileged alliance with its suzerain protector , united states.
The People Want , Radical expolration of the Arab Uprising,p:99 سعودی ریاست نے عربوں اور مسلمانوں کے مرکز یا کشش ثقل کا کنٹرول حاصل کرلیا اور ان دونوں پر اس نے بے پناہ اثر ڈالا اور سعودی عرب کی جو وہابی اسٹبلشمنٹ ہے وہ مائی یمنی کے مطابق ایک جانب تو جوڈیشل سسٹم کو کنٹرول کرتی ہے دوسری جانب اس کا کنٹرول سعودیہ عرب کی کونسل آف سینئر علماء پر ہے جوکہ شرعی امور میں عمومی فتوے جاری کرنے کی مجاز ہے اور دعوت و ارشاد اس کی زمہ داری ہے ، وزرات اسلامی امور ، عالمی نگران برائے مساجد کی کونسل کا سپریم ہیڈکوارٹر اس کے کنٹرول میں ہے اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی نگران کمیٹی بھی اسی کے ماتحت کام کرتی ہے اور اسی کے ماتحت شرعی پولیس کام کرتی ہے جس کا سربراہ حکومتی وزیر ہوتا ہے وہابی اسٹبلشمنٹ سعودی عرب کے اندر اور باہر اس کے تعاون سے چلنے والے ایجوکشن سسٹم کو کنٹرول کرتی ہے اور سعودی تعلیمی اداروں کا نصف نصاب یہ بناتی ہے اور یہ مکّہ ، مدینہ اور ریاض میں قائم اسلامی یونیورسٹیوں کا کنٹرول بھی رکھتی ہے ، وزرات حج اور وزرات اوقاف بھی وہابی اسٹبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے -جبکہ وزرات خزانہ پر بھی اس کا اثر موجود ہے کیونکہ اس کے ماتحت وزرات زکات بھی ہے وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ سعودیہ عرب میں میگزین ، ریڈیو ، ٹی وی اسٹیشنز اور ویب سائٹس پر بھی کنٹرول رکھتی ہے اور سعودی مسلح افواج پر بھی اس کا اثر موجود ہے کیونکہ وہاں اس کو اپنے خیالات کے پھیلاؤ کی اجازت ہے سعودی عرب نے اپنے قیام سے لیکر ابتک اسلامی آئیڈیالوجی کے نام پر سب سے زیادہ بنیاد پرستانہ ، جنونی ، الٹرا رآئٹ پروپیگنڈا کیا ہے گلبرٹ آشکار لکھتا ہے
Saudi kingdom is antithesis of freedom , democracy , equality and women liberation.During cold war , it was a bastion of reactionary resistance to the rise of nationalism and nationalism,s subsequent socialist leaning radicalisation in alliance with USSR.Furthermore , it has served as a regional relay for neoliberal counteroffensive, has actively fostered corruption in its zone of influences , and acted as choirmaster for the subset of near Eastern Arab states aligned with Washington
. گلبرٹ آشکار کے خیال میں یہ امریکی سرپرستی تھی جس کی وجہ سے سعودیہ شاہی خاندان اور وہابی مذھبی اسٹبلشمنٹ مڈل ایسٹ میں عرب -اسرائيل جنگ 1948ء سے لیکر ابتک اٹھنے والے مختلف خارجی و داخلی خلفشاروں کے باوجود اپنی حکومت اور ریاست پر کنٹرول بچانے میں کامیاب ہوگیا گلبرٹ آشکار بتاتا ہے کہ یہ برطانیہ اور امریکی لے پالکی کا نتیجہ ہے جو نہ صرف سعودیہ عرب کو بچاگئے بلکہ اس نے کویت کو عراق سے الگ ملک بنانے ، عراقی جارجیت سے اسے بچآئے رکھنے اور عرب بدوی ریاستوں کے اتحاد پر مبنی متحدہ عرب امارات کی تشکیل کو ممکن بنایا اور اس کے خیال میں یہ جو خلیج تعاون کونسل کی ریاستیں ہیں ان کی تشکیل اور پروان چڑھانے میں برطانوی اور امریکی پروٹیکشن اور سرپرستی کا بنیادی ہاتھ ہے اور گلبرٹ آشکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلی گلف وار جو امریکہ نے 90ء میں شروع کی وہ اصل میں نیو ورلڈ آڈر کا فیصلہ کن لمحہ تھا اور گلبرٹ آشکار کہتا ہے
Obviously , the massive US military intervention in the Gulf region in 1990- 01 , involving the deployment of more than one million troops and impressive naval and air fleets, was exclusively motivated by the oil factor ,as was 2003 US occupution of Iraq.No convincing explanation that dose not turn on a direct or indirect relationship to oil has been put forward by any those who brand accounts based on oil factor "simpilistic" . امریکہ اور مغربی اتحادیوں نے گلف ریاستوں کی سرپرستی کے سارے دور میں ان ریاستوں کی بادشاہتوں اور آمریتوں کی حمائت کی اور ان کا باہمی اتحاد پورے مڈل ایسٹ میں بالعموم اور گلف ریاستوں میں بالخصوص لبرل ، جمہوری اقدار کے لیے اینٹی تھیسس ثابت ہوا اور ان غیر جمہوری آمریتوں اور بادشاہتوں کا تحفظ اور ان کی سرپرستی امریکہ اور یورپ یہ کہہ کر کرتے رہے کہ اصل میں عرب اسلامی کلچر اور عربوں کا مذھب اسلام ڈیموکریسی کے خلاف ہے اور اس کا کلچر خلافت و امارت کے ساتھ ہی فٹ بیٹھتا ہے آصف بیات ایک اور عرب دانشور اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے
Question is not whether in Islam is or not compatiable with democracy or by extention modernity (however understood),but rather under what conditions Muslims can make them compatiable .Because there is nothing intrinsic in Islam , and for that matter any other religion, which makes them inkerently democratic or undemocratic .We the social agents , determine the inclusive or authoritarian thrust of religion.
گلف عرب آمرانہ اور بادشاہانہ حکومتیں عرب عوام کے جمہوری اور بنیادی حقوق کو غصب ایک طرف تو اسلام کے نام پر بدترین رجعت پرستانہ وہابی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کرتی رہی ہیں تو دوسری طرف ان کو یہ غصب حقوق کا کام اور جمہوریت کش اقدامات کا موقعہ امریکہ اور مغرب نے فراہم کیا ہے